Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے / انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 5

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 5

جنوری 2020ء – قسط نمبر 5

سیکھیے….! جسم کی بو لی


علم حاصل کرنے کے لئے کتابیں پڑھی جاتی ہیں لیکن دنیا کو سمجھنا اور پڑھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے اور اس کے لئے انسانوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں باڈی لینگویج روز بروز اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے اس فن کے ذریعے دوسروں کو ایک کھلی کتاب کی مانند پڑھاجاسکتا ہے۔ لوگوں کی جسمانی حرکات و سکنات کے ذریعے شخصیت اور رویوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔


جاب انٹرویو میں باڈی لینگویج کی اہمیت 


بڑھتی ہوئی آبادی اور بیروزگاری کے سبب جاب مارکیٹس میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مسابقت بڑھتی چلی جا رہی ہے. جاب ہنٹنگ اب اتنا آسان نہیں رہا ، چاہے وہ کوئی پروفیشنل ہو یا کوئی انٹرن۔ کسی بھی جاب کے لئے اپنی سی وی بھیجنا ایک بہت آسان اور سادہ سی بات ہے لیکن اگلے مرحلے تک جانا اور ممکنہ ایمپلائر کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کے انٹرویو دینا ایک بالکل الگ کہانی ہے ۔
نوکری کے لیے انٹرویو دینا ایک مشکل کام ہے، جس میں مہارت حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایسے میں اگر آپ نئے نئے گریجویٹ ہیں، ابھی ابھی جاب مارکیٹ میں آئے ہیں اور آپ کو پہلے انٹرویو کے لیے کال کیا گیا ہے تو صورتحال زیادہ تیاری کی متقاضی ہوتی ہے۔
انٹرویو بیک وقت سائنس بھی ہے اور آرٹ بھی۔ ایک اچھا انٹرویو دینے کے لیے آپ کو باقاعدہ تیاری کرنا پڑتی ہے، اس کے لیے آپ انٹرویو کے وقت کا انتظار نہیں کرسکتے کہ چلو جو ہوگا دیکھا جائے گا، کیونکہ انٹرویو کو ہلکا لینا بعد میں بھاری بھی پڑسکتا ہے۔
کسی بھی ملازمت سے قبل انٹرویو سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے جس میں ایک اسامی کا اُمیدوار کمپنی یا ادارے کے نمائندوں کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ یہ موقع اُس کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے اُس موقع کا صحیح استعمال کرکے وہ اپنے آپ کو نوکری کے لیے اہل ثابت کرسکتا ہے۔
کئی اُمیدوار یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ انٹرویو میں بہت اچھی تیاری کرکے گئے تھے، انہوں نے انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات بھی ٹھیک ٹھیک دئیے مگر اُن کو انٹرویو کرنے والی کمپنی کی جانب سے جوابی بلاوانہیں آتا۔
انٹرویو میں قابلِ ذکر کامیابی کے حصول کے لیے امیدوار کو چاہیے کہ وہ انٹرویو سے متعلقہ ضروری امور زبانی اور تحریری اظہار یعنی سوالات اور سی وی وغیرہ کی تیاری کے ساتھ ساتھ جسمانی اظہار کی بھی خوب سے خوب تر تیاری کرے۔
جس طرح انسان اپنی تحریر اور زبان سے ایک دوسرے کو بہت کچھ بتاسکتا ہے ، اسی طرح انسان کی جسمانی حرکات کی بھی ایک زبان ہوتی ہے جو انسان کے بارے میں بہت سے راز بتا دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک امیدوار کی ستر فیصد شخصیت کا اظہار اس کی باڈی لینگویج سے ہوتاہے۔

 

First Impression
پہلا تاثر

آپ یہ ملازمت اُسی وقت حاصل کرسکتے ہیں جب کہ آپ اپنے انٹرویو کے ابتدائی پانچ منٹوں میں اچھا تاثر پیدا کردیں۔ یہ پانچ منٹ گزرنے کے بعد کبھی واپس نہیں آتے اور جو نقوش انٹرویو لینے والے پر چھوڑ جاتے ہیں، وہ کبھی نہیں مٹتے۔ اس طرح یہ پانچ منٹ آپ کی زندگی میں ایک اہم موڑ بن سکتے ہیں۔
اکثر لوگ ان ابتدائی منٹوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔ ایسے افراد شاید تاثر کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ لوگ پہلے پہل غلط سمجھیں تو سمجھیں، لیکن رفتہ رفتہ جب ان پر میرے اوصاف واضح ہوتے جائیں گے، تو ان کے بارے میں پہلا تاثرتبدیل ہوجائے گا۔
ایسے لوگ شاید دنیا کو ساکت سمجھتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ انٹرویو لینے والے افراد کے پاس اتنا فاضل وقت ہے کہ وہ اچھے اوصاف کے ظہور کا انتظار کریں۔
دنیا میں عام انسان کی ہی مصروفیات بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں۔ اس دور میں کامیاب انسان وہی ہے جو تیزی اور پھرتی سے کام کرتا ہے۔ اگر پہلا تاثر برا پڑا، تو کس کو اتنی فرصت ہے کہ وہ دوبارہ نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔

Before Interview
انٹرویو سے پہلے

انٹرویو دینے جانے والے افراد درج ذیل چند باتیں ضرور یاد رکھیں۔
ایک کامیاب انٹرویو کسی بھی جاب کے حصول میں یقینی طور پہ پہلا قدم تصور کیا جاتا ہے- کسی بھی فیس ٹو فیس انٹرویو میں پہلا لفظ بولنے سے پہلے ہی آپ اپنا تاثر انٹرویور کو دے چکے ہوتے ہیں – وہ تاثر آپ اپنے لباس سے دیتے ہیں- آپ کا لباس آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔
آپ جب بھی کسی انٹرویو کے لئے جائیں، آپ کوشش کیجئے کہ لباس صاف ستھرا اور نفیس ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کے کپڑے بہت قیمتی ہوں۔ کپڑے فیشن کے مطابق اور باوقار ہونے چاہئیں۔ آپ کے کپڑوں میں نفاست بھی ہو تا کہ آپ مختلف نظر آئیں اور مرکز توجہ بن سکیں۔ اکثر اوقات اجنبی افراد آپ کی باطنی شخصیت سے نہیں، آپ کے ظاہر سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔
پہناوے کے حوالے سے آپ کو دو چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ آپ کا لباس ایسا ہونا چاہیے جو آپ کی جاب کی مناسبت سے درست ہو ۔ اس میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ لباس ایسا زیب تن کیجیے جس میں آپ خود کو آرام دہ محسوس کریں، جو آپ کو فٹ ہو نہ کہ ایسا کہ آپ اس میں فٹ ہونے کی کوشش کریں۔ چاہے آپ مہنگا ترین لباس ہی کیوں نہ پہن کر جائیں، اگر آپ اس میں آرام دہ محسوس نہیں کریں گے تو اس سے نہ صرف آپ کی ساری محنت ضایع ہوجائے گی، بلکہ انٹرویو میں بھی خود کو مؤثر انداز میں پیش نہیں کرپائیں گے۔

First 10 Seconds
ابتدائی 10 سیکنڈ

باڈی لینگویج کے ماہرین نے نوجوان اور کم عمر افراد کیلئے اس زبان یعنی باڈی لینگوئج کے ذریعے کامیابی کے حصول کے کئی طریقے بھی وضع کئے ہیں مثلاً پیٹی ووڈ کہتی ہیں کہ
‘‘اگر آپ کہیں انٹرویو دینے جائیں تو ابتدائی دس سیکنڈ جب آپ چل کر جاتے ہیں اور بورڈ کے سامنے بیٹھتے ہیں ، بے حد اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس دوران آپ کا اعتماد بحال رہنا چاہئے، قدم وہیں پڑنے چاہئیں جہاں آپ کو رکھنے ہیں اور پھر نشست پر اطمینان سے جا کر بیٹھ جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔’’

 

First Tool Self Confidence
پہلا اوزار خود اعتمادی

اگر ماہرین سے پوچھا جائے کہ انٹرویو کے لیے کسی امیدوار کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہوتا ہے؟ تو یقیناً ان کا جواب ہوگا ‘‘خود اعتمادی’’۔
اب آپ کہیں گے کہ خود اعتمادی انسان کے اندر ہوتی ہے اسے چند سیکنڈز میں ظاہر کیسے کریں؟ تو اس کا جواب ہوگا کہ آپ کے چہرے کی مسکراہٹ، قدم رکھنے کا انداز اور مصافحہ کرنے کی گرمجوشی ہی آپ کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔
جس وقت آپ انٹرویو دینے کے لیے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، اُس لمحے آپ کے چہرے کے تاثرات اور آپ کے منہ سے نکلے چند ابتدائی الفاظ آپ کا ایک تاثر قائم کردیتے ہیں، لہٰذا اپنا پہلا تاثر اچھا ڈالیں۔ یہیں سے آپ کے اچھے مستقبل کی بنیاد پڑنے والی ہے۔
جب آپ پُراعتماد طریقے سےانٹرویو دینے والی جگہ داخل ہوں گے، مُسکراتے ہوئے اُن کی جانب دیکھیں گے اور ہاتھ بڑھا کر اُن سے مصافحہ کریں گے تو یقیناً اُن کی نظر میں آپ کا پہلا تاثر اچھا جائے گا۔
پیٹی ووڈ کہتی ہیں کہ ہمیشہ آمد اور رخصت کے وقت پر جوش انداز سے ہاتھ ملائیں، یہ کسی بھی کامیاب ملاقات کی ضمانت ہے۔چہرے پر ہمہ وقت ایک دوستانہ دھیمی سی مسکراہٹ بھی اعتماد کی بحالی کی ضامن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خود کو منوانے اور کامیابیوں کا زینہ طے کرنے میں ‘‘مسکراہٹ اور گرمجوشی’’ بنیادی ستون ہیں۔
گرمجوشی سے مصافحہ آپ کا اچھا تاثر چھوڑتا ہے ، لیکن خیال رہے کہ مصافحہ گیلے یا چپ چپے ہاتھوں سے نہ کیا جائے، مصافحہ آپ کی شخصیت کی خود اعتمادی کو بھی ظاہر کرتا ہے اس لئے مصافحہ کرنے میں پہل کرنے میں ہچکچائیں مت ۔
اپنے انٹرویو کے دوران خود اعتمادی کو یقینی بنائیں، خود کو پروفیشنل بنا کر پیش کریں چاہے یہ آپ کا پہلا انٹرویو ہی کیوں نہ ہو۔
خود کو متعلقہ جاب کے لئے اہل ثابت کرنے کی کوشش میں بہت زیادہ عاجز بنا کر بھی پیش مت کریں یہ رویہ آپکو فائدہ دینے کی بجاۓ نقصان دےسکتا ہے ۔

Walking & Sitting Style
چلنے اور بیٹھنے کا انداز 

انٹرویو کے کمرے میں جانا ، نکلنا ، بیٹھنا ، بات چیت کرنا سبھی چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ انٹرویو کے لیے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے آپ کی باڈی لینگویج ہمیشہ اسٹرونگ ہونی چاہیے۔ انٹرویوز کے دوران گھبراہٹ ہونا اک فطری عمل ہے لیکن اسے خود پہ حاوی مت ہونے دیں۔ خود کو ریلیکس رکھنے کی کوشش کریں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ضرورت سے زیادہ ریلیکس ہونا آپکی باڈی لینگویج کو کمزور کر دے گا۔ اس طرح آپ کی شخصیت کا منفی پہلو ابھرے گا۔
اپنی باڈی لینگویج کو سٹرونگ رکھنے کے لئے انٹرویو کے دوران اپنے بیٹھنے کے انداز پر خاص دھیان دیں اور کوشش کریں ۔ آپ کے بیٹھنے کا انداز بھی درست ہونا چاہیے۔ لباس کے بعد جو چیز کسی شخص کو زیادہ متاثر کرتی ہے وہ آپ کے بیٹھنے کا طریقہ ہے ،آپ کے بیٹھنے کے اسٹائل کے ذریعے سامنے والا شخص آپ کے بارے میں محتاطاندازہلگاسکتا ہے۔
انسان کے پوسچر (ساخت) کا انداز، اس کی سوچ اور جذبات سے بھی جڑا ہے۔ بیٹھتے ہوئے اگر شانے ڈھلکے ہوئے ہوں، چال مضمحل ہو اور بیٹھنے کا انداز بھی بے ترتیب ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کی زندگی میں تعریف و توصیف، محرک اور حوصلہ افزائی کی کمی ہے۔ اس طرح کا پوسچر ذاتی لاپرواہی، آرام طلبی اور سہل پسندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر شانے آگے کی طرف جھکے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب دوسروں پر انحصار کرنے والی عادت ہے۔ لہٰذا کرسی سے زیادہ ٹیک لگانے اور جسم کو ڈھیلا رکھنے سے گریز ہی کریں۔
کرسی پر بیٹھے ہوئے اپنی باڈی کو سیدھا رکھیں اپنے ہاتھ اپنی گود میں گھٹنوں پر یا پھر ٹیبل پر رکھیں۔ ہاتھ باندھ کر بیٹھنے والے افراد کو بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ شخص بہت ضدی، بے چین یا پریشان ہے لیکن ‘‘دی ڈفائن بُک آف باڈی لینگویج’’ کے مطابق کوئی بھی شخص ہاتھ باندھ کر بیٹھ کر کوئی بھی مشکل زیادہ اچھے طریقے سے حل کر سکتا ہے۔ ہاتھ باندھ کر بیٹھنا خود کو سکون بخشنے کا اشارہ ہے نہ کہ کسی دوسرے سے مزاحمت کا۔ لہٰذا اگر کوئی آپ سے مشکل سوال پوچھتے ہوئے اپنے ہاتھ باندھ لے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ ایک خود کو سکون بخشنے کا اشارہ ہوتا ہے۔
انٹرویو کے دوران ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھنا بھی قدرے نا مناسب ہوتا ہے۔ اگر انٹرویو لینے والا شخص پاؤں پر پاؤں رکھ کر آپ کے سامنے بیٹھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے خوف زدہ نہیں ہے۔
اس کے علاوہ آپ کو اپنی کچھ اور حرکات پر بھی قابو رکھنا ہوگا۔ جیسے کُرسی پر بیٹھنے میں آپ کا ڈھیلا انداز، بالوں سے کھیلنا، ہاتھ پاؤں ہلاکر اپنی کنفیوژن ظاہر کرنا، ٹیبل بجانا، کچھ چبانا، نظریں نہ ملانا۔
کوشش کریں انٹرویو کے دوران ان چیزوں سے بچے رہیں۔یہ وہ چند خرابیاں ہیں جو آپ کو انٹرویو میں مسترد کروا سکتی ہیں۔ ایسے اشارات یا حرکتیں مت کریں جن سے آپ کی پریشانی ظاہر ہوتی ہو ۔
یاد رکھئے!….آپ کو اپنی ایک تصویر پیش کرنا ہے، یہ تصویر ہمیشہ انٹرویو لینے والے کے ذہن میں رہے گی، بہتر تو یہی ہوگا باوقار انداز نشست کی گھر پر مشق کرلیجئے۔

 

ambiguous body language
انٹرویو کے دوران  غیر مناسب باڈی لینگویج

انٹرویو میں ناکامی کی اہم وجوہات میں غلط وقت پر بولنا اور غلط بولنا شامل ہیں ۔ اگر آپ چاہتے ہو کہ آپ درست طرح بول پائیں تو اس کے لئے پہلی شرط ہے کہ آپ سامنے بیٹھے لوگوں کی بات اور سوال توجہ سے سنیں کیونکہ اگر آپ بات سن نہیں سکتے تو نہ سامنے بیٹھے ہوئے لوگ آپ کی بات پر توجہ دیں گے اور نہ ہی آپ درست سمت میں جواب دے پائیں گے۔ آپ کے بولنے کا فن تب ہی مکمل ہوتا ہے جب آپ دوسرے کی بات کو تحمل سے سن پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بولنا اتنا چاہئے جتنا وہ سننا چاہتے ہیں زیادہ بولنا آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انٹرویو لینے والے کی بات پر پوری توجہ دیں اس کی بات کو دھیان سے سنیں اور بیچ میں مت ٹوکیں ، اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کی بات مکمل ہونے دیں ۔ بات کرتے وقت کوشش کریں کہ نظریں ملا کر بات کی جائے ۔
ماہرین کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ سامنے والے بندے کو اس بات کا احساس ہو کہ آپ اسے سُن رہے ہیں تو سامنے والے شخص سے نظریں ملا کے بات کریں نا کہ چُرا کے، نظریں ملا کر بات کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ سامنے والے شخص کی بات کو دھیان سے سُن رہے ہیں۔ انٹرویو کے دوران آپ سے جو سوالات پوچھیں جائیں اُن کا ٹھہر ٹھہر کر فطری انداز میں جواب دیجئے۔ کچھ بھی کہنے یا کسی بات کا جواب دینے سے پہلے چند سیکنڈ کا وقفہ لیں ، البتہ زیادہ طوالت کی ضرورت نہیں۔
جب ہم گفتگو کیلئے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں تو سننے والے ہمارے تاثرات آواز کے اتار چڑھائو، ہاتھوں کی حرکات، الفاظ کے چنائو غرضیکہ مکمل شخصیت کاجائزہ لے کر ہمارے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ضرور قائم کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایسی صورت میں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسے تاثرات کا اظہار کر جاتے ہیں جو ہمارے مفاد میں نہیں ہوتے، اگرچہ باڈی لینگویج بھی خوشگوار اور ناگوار تاثرات کے اظہار میں کچھ کم کمال نہیں رکھتی لیکن اس زبان کی ایک خوبی یہ ضرور ہے کہ اس میں چہرے پر ماسک چڑھانے، لبادہ اوڑھ لینے یا وقت و حالات کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں یعنی اگر ہم چاہیں کہ سامنے والے کو یہ محسوس نہ ہو کہ اگرچہ ہمیں اس کی آمد یا گفتگو بھلی نہیں لگ رہی تو بھی ہم صرف خاموش رہ کر جاتے وقت اسی جوش سے ہاتھ ملا لیں جیسے آتے وقت ملایا تھا تو یہ ایک زبردست حربہ ہو گا۔
اگر انٹرویو لینے والا آپ کی صلاحیت اور شخصیت سے مطمئن ہوجائے گا، تو اس کے چہرے سے اس کا اظہار ہونے لگے گا، اگر آپ کو یہ یقین ہوجائے کہ آپ نے انٹرویو لینے والے فرد کو مطمئن کردیا ہے، تو اس سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ آپ مثبت رویے کا اظہار کریں گے، اس سے متعلقہ فرد بھی اچھا تاثر لے گا اور یہ تاثر آپ کے حق میں بہتر رہے گا۔
اپنے باڈی پوسچر کو آپ کیسے بہتر بنا کر اپنی شخصیت میں ایک چارم لاسکتے ہیں، اِس حوالے سے تفصیلی بات آئندہ اقساط میں کریں گے۔

 

 

(جاری ہے)

 

جنوری 2020ء

یہ بھی دیکھیں

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 6

فروری 2020ء – قسط نمبر 6 سیکھیے….! جسم کی بو لی علم حاصل کرنے کے …

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 5

جنوری 2020ء – قسط نمبر 5 سیکھیے….! جسم کی بو لی علم حاصل کرنے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے