[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / بانجھ پن سے نجات کیسے ملے….؟

بانجھ پن سے نجات کیسے ملے….؟

اولاد قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ کئی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں۔ طرح طرح کے مہنگے علاج کروانے کے باوجود اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بحالنہیںکر پاتے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مرد و خواتین کی افزائش نسل کی صلاحیت کا ان کی غذائی عادات سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔ میاں بیوی کی غذائی عادات نہ صرف بچے کی ولادت بلکہ زندگی میں بچے کی صحت کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔
جو شادی شدہ جوڑے طویل عرصے سے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں ان کے لیے سائنس دانوں نے چند غذائی اشیاء تجویز کی ہیں۔ یہ غذائیں مردوں اور خواتین دونوں میں افزائش نسل کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر شادی شدہ افراد کو بھی اپنی غذا میں ان اشیاء کو شامل کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ان کے ہاں صحت مند بچے پیدا ہوسکیں۔
عورت یا مرد اس وقت بانجھ کہلاتے ہیں جب کسی قسم کی کوئی احتیاط نہ کرنے اور طبعی ازدواجی تعلقات کے باوجود شادی کے ڈیڑھ سال بعد بھی ان کے ہاں استقرار حمل نہ ہوپائے۔ بانجھ پن کی دو اقسام ہیں۔ ابتدائی بانجھ پن (Primary Infertility) اور ثانوی بانجھ پن (Secondary infertility)۔ بانجھ کا لفظ عموماً عورت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کے ہاں بچے کی ولادت نہیں ہوتی تو سارے الزامات عورت پر لگا دیے جاتے ہیں کہ بچہ نہ ہونے کی وجہ عورت ہے۔
تحقیق کے مطابق بانجھ پن عورت یا مرد دونوں میں سے کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔
مردوں کے بانجھ ہونے کی چند بڑی وجوہات میں سگریٹ نوشی، موٹاپا، ازدواجی تعلقات میں رغبت کھو دینا اور دیگر منشیات کی لت وغیرہ بھی شامل ہیں۔ جبکہ عورتوں میں سہل پسندی، سستی، کاہلی، مسالے دار کھانے، مرغن غذا یہ سب ایسی باتیں ہیں جو خواتین میں بانجھ پن کی وجہ بن سکتی ہیں۔
آج کل نوجوان نسل میں بانجھ پن تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کی وجوہات میں نیند کی کمی، بےسکونی، ٹینشن اور آلودگی بھی شامل ہے۔یہاں پر ایک بات اور یاد رکھنی چاہیے کہ اگر بچے کی پیدائش جلدی نہیں ہورہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت یا مرد بانجھ پن میں مبتلا ہے کیونکہ بعض اوقات ہارمونز کا نظام درست نہ ہونے کی وجہ سے بھی بچے کی پیدائش میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر چند غذاؤں کا استعمال کیا جائے تو بانجھ پن دور ہوسکتا ہے اور ہارمونز میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔   یہاں ان غذاؤں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو بانجھ پن میں مفید بتائی جاتی ہیں۔

خشک میوہ جات

تحقیق کے مطابق اخروٹ بانجھ پن میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ اومیگا تھری فیٹس اور وٹامن ای سے بھرپور اس غذا کو استعمال کرکے مرد توانائی حاصل کرسکتے ہیں جس سے ان کے اسپرم بہتر ہوتے ہیں۔ وٹامن بی اور پروٹین عورتوں کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ بادام کا روزانہ استعمال بانجھ پن میں مفید بتایاجاتا ہے۔

ایواکاڈو (Avacado)

ایواکاڈو کو غذائی طاقت کا پاور ہاؤس بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں منرلز، وٹامن، پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور فائبر کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے۔ اس میں وٹامن ای کی کافی مقدار بھی ہوتی ہے جو خواتین کے رحم کی صحت مندی اور افزائش نسل کی قوت کے لیے ضروری ہے۔ ایواکاڈو میں موجود فولک ایسڈ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کے لیے مفید ہے۔

انجیر…….بانجھ پن میں مفید پھل!

انجیر کو خشک یا تازہ کسی بھی شکل میں کھایا جائے فائدہ مند اجزاء سے بھرپور یہ غذا کئی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انجیر کئی امراض میں فائدہ مند ہے اور عام صحت کو بھی بہتر بناتا ہے ۔
انجیر مردوں اور خواتین دونوں کو بانجھ پن سے تحفظ دیتا ہے، طبی سائنس کے مطابق اس پھل میں موجود منرلز ان ہارمونز کے لیے ضروری ہیں جو بانجھ پن سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

میٹھا کدو

حلوہ کدو غذائیت سے بھرپور سبزی ہے۔ اس میں کئی طرح کے وٹامنز، منرلز ، اینٹی آکسیڈنٹس اور زود ہضم فائبر پائے جاتے ہیں۔ اس میں بیٹاکیروٹین(Beta-Carotene) بھی وافر پایا جاتا ہے جو خواتین میں پروجیسٹران (Progesterone)نامی ہارمون کی پیداوار بڑھانے میں مفید ہے۔

چقندر

چقندر میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو زیادہ عمر کے باعث لاحق ہونے والے بانجھ پن کو دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں نائٹریٹ بھی پایا جاتا ہے جو نظام دوران خون کو بہتر بناتا ہے۔ ایسی خواتین جو افزائش نسل کی قوت بڑھانے کی خواہش مند ہوں انہیں چقندر کا جوس ضرور پینا چاہیے۔

انڈہ

انڈے کا شمار غذائیت سے بھرپور اشیاءمیں کیا جاتا ہے۔ انڈے میں بی کمپلیکس وٹامن کولین (Choline)پایا جاتا ہے جو ماں کے پیٹ میں بچہ بننے کے عمل پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس کے اثرات پیدا ہونے والے بچے پر تمام عمر قائم رہتے ہیں۔ انڈے میں دیگر وٹامنز اور منرلز بھی پائے جاتے ہیں جو عمومی صحت کے ساتھ ساتھ افزائش نسل کی صلاحیت کے لیے بھی انتہائیاہم ہیں۔

اخروٹ

اخروٹ صحت بخش غذائی اجزاءسے بھرا ہوا خشک میوہ ہے۔ اس میں پائے جانے والے غذائی اجزاءمیں کینسر سے لڑنے کی بھی صلاحیت موجودہوتی ہے۔ اخروٹ بالخصوص مردوں میں مثانے کے کینسر اور خواتین میں سینے کے کینسر کے امکانات کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں اومیگاتھری چکنائی اور وٹامن ای پایا جاتا ہے جو مردوں کے لیے مفید ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ میں وٹامن بی اور پروٹین بھی پائے جاتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اخروٹ کو اس کی غذائیت کے باعث خشک میوہ جات کا بادشاہ کہا جاسکتا ہے۔ روزانہ مٹھی بھر اخروٹ کھانا بانجھ پن میں مفید بتایا جاتاہے۔

انار

انار میں وٹامن سی، وٹامن کے اور فولک ایسڈسمیت کئی دیگر وٹامنز اور منرلز پائے جاتے ہیں جو جوانی کو دیرپا کرکے انسان کو جلد بوڑھا ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اجزاءکینسر کے خلاف بھی مدافعت رکھتے ہیں اور دل کی صحت اور ہڈیوں کے لیے بھی مفید ہیں۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین اگر دوران حمل انار کا جوس پئیں تو اس سے بچے کی دماغی صحت بہترہوتی ہے۔

پالک

پالک ایک سستی غذا ہے۔ یہ ہر انسان کی پہنچ میں ہے۔ اس میں وٹامن بی، آئرن پایا جاتا ہے جو کہ بانجھ پن کے ازالے کے لیے مفید ہے۔ سبزپتوں والی سبزیاں بھی بانجھ پن میں مفید ہیں۔

دالیں

دالیں، لوبیا، چنےغیرہ پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔  دالوں کے استعمال سے فرٹیلائزیشن کا عمل آسان ہوتا ہے، یہ حمل ٹھہرانے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔دالیں اور بیج عورت کی تولیدی صحت کے لیے مفید ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

مردوں میں بانجھ پن میں اضافہ! قدرتی و روحانی علاج

(از ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)۔۔۔۔

پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

موبائل، لیپ ٹاپ، وائی فائی اور مردانہ بانجھ پن

لیپ ٹاپ اور وائی فائی کا غیر محتاط استعمال خطرناک ہوسکتا ہے! (از ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)۔۔۔۔

پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

یہ بھی دیکھیں

سونے کے مختلف انداز اور صحت پر اثرات

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

درست سانس لیجیے – بہتر ہاضمہ اور عمدہ صحت پائیے

ہاضمہ کا صحت مند رہنا جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔ بعض لوگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے