Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / نظر بد اور شر سے حفاظت / نظرِ بد اور شر سے حفاظت – قسط 1

نظرِ بد اور شر سے حفاظت – قسط 1

 

نظرِ بد اور شر سے حفاظت    میں نظرِ بد، حسد ،جادو اوردیگر ماورائی اسباب کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل ومشکلات کا جائزہ لیا گیا  ہے۔منفی اثرات کی وجہ سے صحت کی خرابی ،تعلیم کے حصول میں مشکلات، لڑکیوں اورلڑکوں کے رشتوں میں رکاوٹیں ، میاں بیوی کے درمیان تعلقات کی خرابی، کارروبار، ملازمت میں مشکلات، رہائشی یا کاروباری مقامات میں جنات کے اثرات یا دیگر وجوہات سے بھاری پن جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان مسائل ،ومشکلات سے نجات کے لیے دعائیں تجویز کی گئی ہیں۔ 2012ء میں شائع ہونے والی   یہ کتاب  روحانی  ڈائجسٹ میں قسط وار پیش کی جارہی ہے۔

نظرِ بد اور شر سے حفاظت – قسط 1

 

بیماریوں اور مسائل کا بنیادی سبب

n

اللہ نے انسان کو جب اس زمین پر بھیجا تو اس کی میزبانی کے لیے اور راحت کے لیے یہ زمین خوشحال اور آراستہ تھی۔ قدرت نے ماں کے پیٹ  میں خوراک اورآکسیجن کا انتظام کیا۔ پیدائش کے بعد ماں  کے سینے کو نومولود کے لیے صحت وتوانائی بخش غذا کا دسترخوان بنادیا۔ زمین کوحکم دیا کہ انسان کے لیے اوردوسری مخلوقات کے لیے خوراک، تن ڈھاپنے کے لیے اوررہائش کے لیےوسائل فراہم کرے۔ ہَوا کو حکم دیا کہ انسان کے لیے آکسیجن اورپانی کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے۔ سورج کو حکم دیا کہ وہ اس زمین پر بسنےوالی مخلوقات کو حرارت و توانائی، انسان اوردوسری مخلوقات کو رزق کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے، مختصراً  یہ کہ اس دنیا میں صحت مند، خوش.وخرم زندگی بسر کرنے کے لیے قدرت کی طرف سے حضرت انسان کو تمام ضروری لوازمات فراہم کردیے گئے لیکن ….صد افسوس انسان نے ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ظلم وجہل سے کام لیتے ہوئے قدرت کے انعامات کی ناقدری کی۔ انسان کے اس ظالمانہ طرزعمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اپنے خالق، اپنے مالک اللہ سے دُور ہوکر دکھوں، مصائب اورمہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتا چلاگیا۔ ان مہلک بیماریوں میں جسمانی اورروحانی دونوں طرح کی بیماریاں شامل ہیں۔
بیماریوں اورکئی طرح کے مسائل کا بنیادی سبب قدرت کے نظام اورقدرت کے مقرر کردہ ضابطوں سے انسان کا انحراف ہے۔
انسان بیماریوں کے حملے سے بچنا چاہتا ہے اور ایک صحت مند زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے قدرت کے اصولوں اورضابطوں کی پیروی کرتے ہوئے، شک، و سوسوں، لالچ، خوف، بغض وعنادجیسی منفی صفات سے خود کو بچانا ہوگا۔ اُسے اللہ کی پسندیدہ صفات کو اختیارکرنا ہوگا۔ عقل  کووحی کے تابع کرکے قرآن پاک کی ہدایات  اور اللہ کے آخری نبی ﷺکی عطا کردہ تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ قرآنی تعلیمات سے دوری اورقدرت کے نظام سے انحراف کے نتیجے میں دورحاضر میں حسد، نظر، جادو ٹونا جیسے خبائث میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
دولت کا لالچ، عدم تحفظ کے احساس اورایک دوسرے کے لیے بداعتمادی کی وجہ سے انسان روحانی طورپر کمزور سے کمزور ہورہا ہے۔ روح کی یہ کمزوری انسان کے ظاہری معاملات کو متاثر کررہی ہے۔ اس دور میں انسان کو ایسے معالجین کی اور ایسے رہبروں کی ضرورت ہےجو بیماریوں کا علاج بتانے کے ساتھ ساتھ اس کے احوال کی اصلاح کے طریقے بھی تجویز کرتے ہوں۔
ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی نے قرآن پاک کی آیات، حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے ارشادات، حضورﷺ کے روحانی علوم کے وارث اولیاء کرام کی تعلیمات کی روشنی میں نظر بد، حسد، جادو کی وضاحت پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ ان سے بچاؤ کے لیے دعائیں اور احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی ہیں۔
میرے لختِ جگر وقار یوسف عظیمی کی اس کاوش میں قارئین کو مرشد گرامی حضرت قلندربابا اولیاء ؒکی تربیت کے عکس بھی نظر آئیں گے۔
میری دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش  کو قبول فرمائیں اوریہ کتاب عوام وخواص کے لیےطرزفکر کی اصلاح، مثبت سوچ کے فروغ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے لیے فیض اورحفاظت کا ذریعہ بنے۔آمین یا رب العالمین

خواجہ شمس الدین عظیمی
مرکزی مراقبہ ہال ۔کراچی

 

 

عرض مصنف

سائنسی ترقی کی وجہ سےانسان بیماریوں کے خلاف جدوجہد میں نئے نئے معرکے سر کررہا ہے۔ کئی امراض کے خلاف ویکسی نیشن کی دریافت نے اربوں انسانوں کی صحت کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ ضد حیوی  Antibioticsادویات سے بیماریوں کے مقابلے اورصحت کی بحالی میں بہت زیادہ  مدد ملی ہے۔بجلیElectricityکی دریافت سے انسانوں کا رہن سہن یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔

دوسری طرف یہ سائنسی ترقی انسانوں کے لیے کئی مسائل کا سبب بھی بنی ہے۔ صنعتی ترقی، شہری فضائی، بحری  ٹرانسپورٹ سے  خارج ہونے والی آلودگی  سے بیماریوں کا تیزی سے پھیلاؤہواہے۔

سائنسی دریافتوں اورحاصلات کی وجہ سے کئی وبائی امراض پر قابوپالیا گیاہے تو کئی امراض نے کروڑوں افراد کو بہت تیزی سے اپنی لپیٹ میں بھی لیا ہے۔ ان میں جسمانی امراض خصوصاً ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب، ذیابیطس، تھائی رائیڈ کا عدم توازن، ذہنی و نفسیاتی  امراض مثلاً نیند کی کمی، ذہنی واعصابی دباؤ، ڈپریشن ، شیزوفرینیا وغیرہ شامل ہیں۔

جسمانی، ذہنی ونفسیاتی امراض کے ساتھ ساتھ روحانی امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ان روحانی امراض میں حسد، لالچ، خود غرضی، تکبر کی صفا ت کے حامل امراض  شامل ہیں۔

روحانی امراض کے اسباب میں شک، بے یقینی اورخوف زیادہ نمایاں ہیں۔ اللہ پر یقین کی کمی اورشیطانی وسوسوں یا شیطانی ترغیبات کو قبول کرنے پریہ اسباب  تیزی سے  متحرک ہوجاتے ہیں۔

زیر نظر تحریر، نظر ِبد اورشر سے حفاظت میں، میں نے  کوشش کی ہے کہ نظربد، حسد، سحر جیسی منفی کیفیات کو علمی انداز سے سمجھا جائے۔ قرآن وسنت اوراولیاء اللہ کی تعلیمات کی روشنی میں ان بُری چیزوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے دعائیں اور احتیاطی تدابیر  پیش کی جائیں۔

یہ تحریر،  لکھتے ہوئے میرے پیش نظر یہ بات بھی رہی ہے کہ یہ علمی کاوش، مسائل وبیماریوں سے دوچار لوگوں کے لیے معاون ومعالج کا کردار ادا کرسکے۔ موضوع میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے علم وآگہی میں اضافے  کا ذریعہ بنے اور روحانی علاج کو بطور علم سمجھنے والے طالب علم خواتین وحضرات  کےلیے ریفرنس کا کام دے  سکے۔

اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ توفیق سے، معلم انسانیت، طبیب اعظم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے صدقے  اس علمی و فلاحی  کام کا ایک مرحلہ طے ہوا۔

اس طالب علم کی جانب سےاس تحریر کا انتساب حضرت علیؓ اور حضرت بی بی فاطمہؓ کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا ہے۔ حضرت بی بی فاطمہؓ حضرت محمدرسول ﷺ کی لاڈلی صاحبزادی ہیں۔آپؓ رسول اللہﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک  ہیں۔  اللہ نے اپنے محبوب حضرت محمدﷺ کی لاڈلی صاحبزادی کویہ شان عطا فرمائی ہے کہ آپ  خواتین جنت کی سردار ہیں۔ اس دنیا میں بے سہاروں اور مصیبت کے ماروں کا سہارا ہیں۔ روحانی بزرگ بتاتے ہیں کہ کوئی شخص جب بہت ہی پریشان ہوجائے، اسے ہر طرف سے مصیبتوں اور مایوسیوں نے گھیر لیا ہو، ایسے وقت میں اسے حضرت بی بی فاطمہؓ کا واسطہ دے کر اللہتعالیٰ  کے حضور دعا کرنی چاہیے۔

تصوف کے تقریباً تمام سلاسل امیر المومنین امام علیؓ کے واسطے سے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تک پہنچتے ہیں۔

حضرت علی ؓ باب العلم ہونے کے ساتھ ساتھ اہل طریقت کے لیے باب الفیض بھی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے دربار میں اہل طریقت کی رسائی حضرت علیؓ کی معرفت ہوتی ہے۔

یہ تحریرلکھتے ہوئےمجھے اولیاء اللہ کی خصوصاًسلسلۂ عظیمیہ کے امام، مرشد معظم حضرت محمدعظیم برخیاء قلندربابااولیاءؒ کی  عظمتوں وعلمی رفعتوں اورتوجہ کا مسلسل احساس ہوتا رہا۔

میرے والد محترم، سلسلۂ  عظیمیہ کے مرشد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی رہنمائی اوردعائیں میرے ساتھ رہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے  سب دوستوں سے راضی ہوں اور انہیں اپنی قربت عطا فرمائیں۔ آمین!

 

نظرِ بد

اس دنیا  میں بسنے والے سب انسان  اپنی زندگی میں آسانیا ں چاہتے ہیں۔ علم  کے حصول میں  کی  جانے والی  محنت، روزگار کے لیے اٹھائی جانے والی  مشقت کا مقصد یہی ہوتاہے کہ زندگی کا معیار بہتر ہو اور آسانیاں میسر آئیں۔

یہ  زیادہ پرانی بات نہیں  کہ کئی  سہولتوں تک صرف امیروں کی ہی رسائی تھی۔ سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے اب عام لوگوں کوبھی بےشمار سہولتیں اور آسائشیں مل رہی ہیں۔ ان میں رابطوں کے نئے اور ہر ایک کے لیے قابل رسائی ذرائع، الیکٹرونک آلات، تیزرفتار ذرائع مواصلات خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ سائنسی دریافتوں کی وجہ سے شہر توشہر گاؤں اور دیہات میں بھی لوگوں کا رہن سہن تبدیل ہورہا ہے۔

سائنس وٹیکنالوجی نے انسان کاطرزِ زندگی تو بہت زیادہ تبدیل کردیا ہے لیکن سائنسی ترقی کئی نئے اورسنگین مسائل بھی اپنے ساتھ لائی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں، مشرقی معاشروں میں خاندان  کے ادارے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو بعض ایسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو اَب سے دوتین نسل پہلے کے لوگوں کو درپیش نہ تھے۔ جدید مسائل میں موبائل فون اور انٹرنیٹ میں نوجوانوں کی مشغولیت، اسٹریس، ڈپریشن اورکئی دوسرے نفسیاتی امراض شامل ہیں۔

 اکیسویں صدی میں ایک اہم مسئلہ لڑکیوں کی بروقت شادی نہ ہونے کا اورایک اہم مسئلہ بزرگوں کے عدم احترام کا بھی ہے۔

  دوسری طرف صدیوں سے درپیش کئی مسائل آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ ان مسائل میں انسانوں کا منفی طرزعمل، لوگوں میں رقابت وحسد کے جذبات، لالچ، خودغرضی، ظلم وزیادتی،  بغض، کینہپروری جیسے جذبات شامل ہیں۔ حسد ایک انتہائی ناپسندیدہ صفت ہے مگر افسوس کہ یہ انتہائی ناپسندیدہ صفت بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔

شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ شک اور وسوے شیطان کے دوبڑے ہتھیار ہیں۔ ہم اپنے اگرد گرد دیکھیں توپتہ چلتاہے کہ علمی لحاظ سے اس ترقی یافتہ  دور میں  بھی شیطان نے بےشمار لوگوں کو شک اور وسوسوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عدم تحفظ کے احساس اورانسانی فکر پر شیطانی خیالات کے غلبے سے متاثر بےشمار لوگوں میں دوسروں کے لیے منفی جذبات عام ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کو خوش دیکھ کر یا اُنہیں کامیابیاں حاصل کرتے دیکھ کر ناخوش  ہوتے ہیں اور غصہ یا حسد میں مبتلاہوجاتے ہیں۔

 منفی جذبات میں شدّت آجائے توشیطانی طرزفکر سے مغلوب بہت سے مرد وعورت آج بھی لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کئی بُرے کاموں میں  ملوث ہو جاتے ہیں۔ ان میں نظربد، حسد، جادو  ٹونہ یا دیگرمنفی عملیات شامل ہیں۔

(جاری ہے)

 

ڈاکٹر وقا ر یوسف عظیمی

یہ بھی دیکھیں

انسانی طرز معاشرت پر کورونا وائرس کے اثرات کب تک رہیں گے؟

2019ء کے آخری مہینوں سے شروع ہونے والی وبا Covid-19سے اب دنیا کے تقریباً سارے …

چین اور انڈیا کے درمیان جنگ ہوسکتی ہے….؟

سائنس و ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ ترقی سے ایک طرف تو انسانوں کو نت نئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے