Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے / انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 7

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 7

مارچ 2020ء – قسط نمبر 7

سیکھیے….! جسم کی بو لی


علم حاصل کرنے کے لئے کتابیں پڑھی جاتی ہیں لیکن دنیا کو سمجھنا اور پڑھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے اور اس کے لئے انسانوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں باڈی لینگویج روز بروز اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے اس فن کے ذریعے دوسروں کو ایک کھلی کتاب کی مانند پڑھاجاسکتا ہے۔ لوگوں کی جسمانی حرکات و سکنات کے ذریعے شخصیت اور رویوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔


 

عالمی سطح پر بےشمار زبانیں بولی اور سمجھی جا تی ہیں ان تما م زبانوں کے با وجود دنیا بھر میں صرف باڈی لینگویج ہی ایک ایسی زبان ہے جس میں اظہا ر کے لئے الفاظ و جملوں کی قطعی ضرورت پیش نہیں آتی ہے۔باڈی لینگویج میں انسان کا پورا جسم زبان بن کر جذبات کی غمازی کرتا ہے۔آدمی کی خاموشی کے با وجود اس کی باڈی لینگویج اس کے جذبات کی تر جمانی کرتی ہے ۔ انسانی شخصیت کے مطالعے میں باڈی لینگوئج اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ کسی کتاب کا پہلا چیپٹر۔کسی شخص کی باڈی لینگوئج اس کی پوری شخصیت اور سوچ کی ڈائریکشن سے آگاہ کر دیتی ہے

 

Walking Gestures


چلنے کا انداز 

کبھی آپ کو ویڈیو یا کسی بڑے آئینے میں خود کو چلتے پھرتے دیکھنے کا موقع ملا ہے؟ اگرایسا ہوا ہے تو یقیناً آپ کو محسوس ہوا ہوگا کہ آپ کی چال دوسروں سے مختلف ہے۔ صرف آپ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے چلنے اور زمین پر قدم رکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ حتی کہ وہ لوگ بھی جو قدم سے قدم ملاکر چلتے ہوئے ایک جیسے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں، ان کا بھی زمین پر قدم جمانے کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔
ہر فرد اپنی ایک مخصوص چال رکھتا ہے، جس سے اس کے دوست احباب اور شناسا وغیرہ اسے آسانی سے شناخت کرلیتے ہیں۔
انسان کی چال ڈھال، اس کا اُٹھنابیٹھنا اس کی شخصیت کی عکاس اور اس کے پیشے، کردار افعال اور اعمال کی ترجمان ہوتی ہے۔ طبیعت میں عاجزی اور کردار میں وضع داری ہو تو انسان کی چال ڈھال میں اس کی عاجزی اور حسن کردار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ طبیعت میں غرور اور تکبر ہو تو چال ڈھال متکبرانہ ہوجاتی ہے۔ انسان حسن کردار سے تہی دامن ہوگا تو چال ڈھال میں چھچھوراپن اور آوارگی نظر آئے گی۔
کسی آدمی کی چال ڈھال سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کسی زعم میں ہے، اونچی ہواؤں میں ہے، اس کو کوئی غرور ہے۔

 

Footstep-Identification
چال ڈھال کے کھوجی !

ماہرین کہتے ہیں کہ جس طرح انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات سے کسی شخص کو لاکھوں میں پہچاناجاسکتا ہے، اسی طرح انسان کی چال بھی اس کی شناخت اورریکارڈ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ چال کی مدد سے کسی کوشناخت کرنا دوسرے تمام مروجہ طریقوں کی نسبت آسان اور بہتر ہے۔
چال سے کسی شخص کی شناخت کا فن بہت پراناہے۔ قدیم ادوار میں مجرموں کی تلاش کے لیے عموماً کھوجی کی مدد حاصل کی جاتی تھی۔ وہ زمین پر قدموں کے نشان دیکھ کر بتادیتے تھے کہ مجرم چلتا کس طرح ہے۔ اس کا وزن اور عمر اندازاً کتنی ہے۔ اس کی شخصیت کے کون سے منفرد پہلو ہیں۔ کھوجی کے اس قیاس کی مدد سے مجرم کا حلیہ تیار کرنے اور اسے پکڑنے میں مدد ملتی تھی۔ کھوجیوں کے اندازے اکثر اوقات حیرت انگیز حد تک درست ہوتے تھے۔
کھوجی اپنے ہنر میں اتنے ماہر تھے کہ وہ جانوروں کے کھروں کے نشان دیکھ کران کے بارے میں غیرمعمولی حد تک درست اندازہ لگا لیتے تھے۔ مثلاً یہ کہ گھوڑے یا دوسرے کسی دوسرے جانور کی جسامت کیسی ہے۔ وزن کتناہے۔ اس کے چلنے کا قدرتی انداز کیا ہے اور اس پر سوار شخص نے اسے کس انداز میں چلانے کی کوشش کی تھی۔ برطانوی حکمرانوں نے بھی ہندوستان میں اپنے دور اقتدار میں کھوجیوں کے فن کی حوصلہ افزائی جاری رکھی اور دیہی پولیس اسٹیشنوں کے ساتھ کئی کئی کھوجی منسلک ہوتے تھے۔پاکستان قائم ہونے کے بعد، ابتدائی برسوں میں یہ سلسلہ جاری رہا مگر بعدازاں پختہ اور نیم پختہ سڑکوں کی تعمیر اور جرائم کے لیے گاڑیوں اور دیگر جدید ذرائع کے استعمال کے بعد کھوجیوں کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی اور وہ ماضی کا قصہ بن گئے۔
ماہرین کا کہناہے کہ آج کے جدید دور میں بھی چال اور قدموں کے نشانات کی اہمیت ہے۔ کسی بھی شخص کے قدموں کے نشان کےریکارڈ سے، جسمانی طورپر روکے اور چیک کیے بغیر اس کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ ہر انسان چلتے وقت زمین پر ایک مخصوص انداز میں قدم رکھتا ہے جس سے پاؤں کے مختلف حصے زمین پر ایک خاص دباؤ ڈالتے ہیں۔انہوں نے انسانی پاؤں میں ایک لاکھ سے زیادہ ایسے حصوں کا پتا چلایا ہے جن کا زمین پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتاہے۔ طویل تجربات کے مراحل سے گزرنے کے بعد ماہرین نےچال کے 70 ایسے طریقوں کی نشاندہی کی ہےجو ہر فرد کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔

 

سائنسی جریدے نیو سائنٹسٹ کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جاپان کے شہر نگانو Nagano کی شن شو Shinshuیونیورسٹی کے ڈاکٹر تاڈ پاتاکی Todd Pataky کہتے ہیں کہ پاؤں ہمارے جسم کاایسا واحد حصہ ہیں جوچلنے کے دوران اپنے ماحول سے براہ راست رابطے میں آتے ہیں ۔ چنانچہ یہ ایک منطقی بات ہے کہ پاؤں اپنی مخصوص چال کے نشان زمین پر منتقل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے کسی دوست یا رشتے دار کواتنے فاصلے سے، جہاں سے وہ واضح طورپر دکھائی نہ دے رہا ہو، محض اس کی چال کی وجہ سے شناخت کرلیتے ہیں۔
ماہرین نے اپنے تجربات کے دوران104 رضاکاروں کو فٹ میٹ طرز کے ایک ایسے پلیٹ فارم پر سے گذرنے کے لیے کہا جس میں ہزاروں سینسر نصب کیے گئےتھے۔ انہوں نے ہر رضاکار کے دس قدموں کاڈیٹا ریکارڈ کرکے اس کا تجزیہ کیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر شخص کے قدموں کا الیکٹرانک گراف دوسرے سے مختلف ہے۔ ڈاکٹر پاتاکی کا کہنا تھا کہ 104 افراد کے 1040 قدموں کے نشانات سے حاصل ہونے والے نتائج میں درستگی کا تناسب 99.8فی صد تھا، ان کا کہناتھا کہ دوافراد کے پاؤں کا نمبر ، جسمانی ساخت اور وزن چاہے ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو، ان کے پاؤں زمین پر ایک دوسرے سے مختلف انداز میں دباؤ ڈالتے ہیں۔
آج کل حساس مقامات پر مشکوک افراد کی نگرانی کے لیے ویڈیو کیمرے اور سکینر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کام میں انسانی آنکھ استعمال ہوتی ہے جس میں بھول چوک کا امکان موجود رہتا ہے۔برطانیہ کی لیور پول یونیورسٹی کےالیکٹریکل انجنیئرنگ کے سائنس دان ڈاکٹر جان گولرماس John Y. Goulermas کا کہناہے کہ اگر ایسے مقامات کے داخلے کے راستوں پر پاؤں کے پریشر پوائنٹ ریکارڈ کرنے والے فٹ میٹ بچھادیے جائیں ، تو وہاں سے گذرنے والے ہرشخص کی شناخت کمپیوٹر اپنے ڈیٹا ریکارڈ سے کرکے خبردار کردے گا۔
سائنس دانوں کو توقع ہے کہ مستقبل قریب میں شناخت کے لیے انگلیوں کے نشان، اور آنکھوں کی پتلیوں کے ڈیٹا کی طرح چال کاریکارڈ بھی استعمال ہونے لگے گا۔

ڈاکٹر تاڈ پاتاکی ، کی تحقیقی رپورٹ کا لنک  https://doi.org/10.1098/rsif.2011.0430

 

Man & Women Walk
مرد اور عورت کا چلنے کا انداز

کیلیفورنیا یونیورسٹی، نیویارک یونیورسٹی اور ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ، مرد اور عورت کے چلنے کا انداز بھی ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ مواقعوں پر مرد و خاتون کی چال کا انداز ایک سا ہو مگر عام طور پر یہ فرق واضح ہوتا ہے اور اس کی وجہ دونوں کے جسمانی ساخت کا فرق ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کے ساتھ چلتے ہوئے مرد اکثر اپنی رفتار سست کردیتے ہیں جبکہ بچوں کے ساتھ وہ ان کا خیال رکھنے والا رویہ اپناتے ہیں اور ان کی رفتار کے مطابق چلتے ہیں، ایسا خواتین بھی کرتی ہیں۔
مرد جسمانی طور پر خواتین سے مضبوط اور لمبی چوڑی کاٹھی کے ہوتے ہیں اور تیز چلنا مردوں کے لیے نفسیاتی طور پر ایک اہم نکتہ ہوتا ہے، یعنی چلنے کا مقصد کسی مخصوص فعل کا حصول ہوتا ہے جیسے ایک سے دوسری جگہ پہنچنا، مرد حضرات سیدھا اور ایک لائن میں چلتے ہیں۔ دوسری جانب خواتین کی چال باوقار ہوتی ہے وہ عموماً چھوٹے قدم چلتی ہیں ۔ مرد چلتے ہوئے خواتین کے مقابلے میں بازؤں اور کندھوں کو زیادہ حرکت دیتے ہیں۔ خواتین چھوٹے قدم چلتی ہیں اور ٹانگوں کو قریب رکھتی ہیں۔

Every Foot Step Talk
ہر چال کچھ کہتی ہے

چلنے کے انداز میں بعض خصوصیات تو انسانی جسم کی مخصوص بناوٹ کے مطابق ہوتی ہیں ، ان میں چلنے کی رفتار، قدموں کی لمبائی یا قدموں کا درمیانی فاصلہ اور جسم کا جھکاؤ وغیرہ شامل ہیں۔
اگر ایک بچہ خوش ہوتا ہے تو وہ بڑی تیزی سے چلے گا اور اور اپنے پیروں پر بہت کم وزن پڑنے دے گا۔
اگر وہ خوش نہیں ہے تو اس کے کندھے جھکے ہوئے ہوں گے اور وہ بھاری بھاری قدم اٹھاتے ہوئے اس طرح چلے گا گویا اپنے جوتوں کا تلا (ایڑی نہیں) زمین پر پہلے ٹکانا چاہتا ہے۔


1- جو لوگ عام طورپر تیزی کے ساتھ اپنے بازوؤں کو آزادانہ لہراتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتے چلتے ہیں وہ عموماً ایک مقصد لیے ہوئے ہوتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔
2- اس کے برعکس وہ فرد جو عادتاً اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چلتا ہے، یہاں تک کہ وہ موسم گرما میں بھی جیب میں ہاتھ ڈال کر چلتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پراندیش آدمی ہے اور اخفائے راز کا متمنی ہے ۔ ایسے لوگ کم گو اور تنقیدی قسم کے مبصر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً کھرے اور ناقدہوتے ہیں ۔
3- جب لوگ اداس اور دلگیر ہوتے ہیں تو وہ اردگرد کے ماحول کو محسوس کیے بغیر جیبوں میں اپنے ہاتھوں کو مسلتے رہتے ہیں یا اپنے دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے افسردگی کے ساتھ اپنی نظریں اور سر نیچے جھکائے چلتے ہیں اور شاذہی اپنی نظریں اوپر اٹھاتے ہیں۔ ایسے افراد عام طورپر نظر آجاتے ہیں۔ یہ کسی بھی مقام پر آزردگی کے ایک احساس کے ساتھ ٹہلتے رہتے ہیں اور وہاں جو بھی شے موجود ہو اس پر نظریں گاڑے رکھتے ہیں جیسے وہ کوئی چیز تلاش کر رہے ہوں۔ ایسی چال کو افسردہ چال کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے ۔


4- جو شخص اپنے ہاتھ کمر یا کولہوں پر رکھ کر چلنے کا عادی ہو ، لمبی دوڑ کے سخت خلاف ہوتاہے ۔ وہ لمبے فاصلے تک چلنے کے خلاف ہوتا ہے اور کم از کم فاصلے پر اپنی منزل تک تیز ترین رفتار کے ساتھ پہنچنا چاہتا ہے۔ اس طرح کے لوگ عموماً جلد باز اور ہرکام میں مختصر راستہ یعنی شارٹ کٹ ڈھونڈ نکالنے کے چکر میں ہوتے ہیں اور ہر راستے کو تیزرفتاری سے طے کرتے ہیں، کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی توانائیاں ضرورت سے زیادہ ضائع کرتے ہیں ۔ ان کی جلد بازی کسی وقت کاہلی میں بھی بدل جاتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے برطانوی ہیرو سرونسٹن چرچل کے چلنے کا انداز اسی طرح تھا۔ان کی چال کا یہ مخصوص انداز بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا کہ ان کا فتح کا نشان، ویVیعنیوکٹری….
5- …جوافراد ذہنی طورپر کسی مسئلے یا پریشانی میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ چلنے کا منفرد اور مخصوص انداز رکھتے ہیں۔ وہ اکثر چلتے وقت ایسا انداز اپناتے ہیں کہ جیسے وہ کسی چیز میں بہت زیادہ محو ہیں۔ ان کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے اور ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی رفتار بڑی سست ہوتی ہے۔ وہ کبھی کبھار رک کر راہ میں پڑے ہوئے پتھر کو ٹھوکر مارتے ہیں۔ یا پھر نیچے گرے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھاکر اس کو آگے پیچھے دیکھنے کے بعد واپس نیچے پھینک دیتے ہیں۔ ان کے انداز میں بے دلی جھلکتی ہے مگر درحقیقت ان کا ذہن پوری طرح الجھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے یہ کہتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ اس بات کے ہرپہلوپر غورکرنا بہت ضروری ہے۔’’
6- اپنے آپ سے مطمئن اور کسی حد تک خود پسند قسم کا اور قدرے شان ودبدبہ کا دلدادہ شخض عموما ً اپنے خیالات کا اعتراف اپنی مخصوص چال کے ذریعے کرتا ہے۔ وہ اس طرح چلے گا کہ اس کی ٹھوڑی اٹھی ہوئی بازو آزاد لہراتے ہوئے اور ٹانگیں کسی حد تک سخت اکڑی ہوئی اور قدم نزاکت اور نفاست سے رکھتے ہوئے ۔ چلنے کا انداز بڑا مناسب اور محتاط حد تک متاثر کرنے والا ہوگا۔ جیسے ارادتاً دوسروں کو اپنی چال کے دبدبے سے متاثر کرنے کے درپے ہے۔ یہ میسولینی کے چلنے کاانداز تھا۔
‘‘قدم رکھنا ’’ ایک تاثر ہے ، اس طرح چلنے کا انداز ایک لیڈر پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے ، جس کی پیشوائی میں اس کے بہت سے ماتحت یا کارکن اسی رفتار سے ان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جیسے کسی بطخ کے عقب میں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے جلدی جلدی قدم اٹھارہے ہوں۔ یہ پیروکاروں کی وفاداری اور جاں نثاری کی علامت ہے۔
لیڈر ہو یا افسر ہر معاشرے کی رفتار کو متعین کرتے ہیں۔ ہر معاشرے میں قائد، پہلا قدم اٹھاتا ہے اور اس کے بعد اس کے بہت سے ساتھی۔ اگر آپ کسی ادارے کے سربراہ سے بات کرنے کے خواہشمند ہیں تو یہ خوبی یعنی لیڈر کو شناخت کرنے کی صلاحیت آپ کو بہت فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

Alexander Technique
درست چال صحت مند رکھے

کئی لوگ قدرتی اور متوازن چال کے بجائے اکڑ کر اور بناوٹی انداز سے چلنے لگتے ہیں، اس طرح وہ اس فائدے سے جو صحیح طریقے سے چلنے پر حاصل ہونا چاہیے، محروم رہتے ہیں، کیوں کہ صحیح طرح سے چلنے کے معنی یہ ہیں کہ جسم سیدھا رہے، سختی نہ ہو اور چال میں موسیقی کی سی ہم آہنگی ہو۔
صحیح طریقے سے پیدل چلنا بھی ایک فن ہے، ماہرین اس فن کو Alexander Technique الیکژینڈر تکنیک کا نام دیتے ہیں ، صحیح طریقے سے پیدل چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کی ہم آہنگی کے ساتھ حرکت سے نہ صرف صحت ملتی اور فائدہ پہنچتا ہے، بلکہ حقیقت میں سارے جسم کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے، چونکہ پیدل چلنے کی ورزش میں انسان گہرے سانس لیتا ہے، اس لیے اس کے جسمانی نظام میں آکسیجن کی مقدار بھی زیادہ داخل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قلب زیادہ قوت سے کام کرتا ہے، دوران خون بڑھتا ہے اورجسم انسانی کے تمام اندرونی اعضا زیادہ فعال ہوجاتے ہیں۔ اعضا کی فعالیت کے باعث شگفتگی اور اپنی بہتر حالت کا احساس ہوتا ہے۔ اس فائدے کو وہی لوگ بہتر طریقے سے سمجھتے اور محسوس کرسکتے ہیں جنہیں باقاعدہ پیدل چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس احساس کو سمجھنے کے لیے چال قدرے تیز ہونی چاہیے۔ فاصلہ بھی کافی ہونا چاہیے۔ ہفتے میں کم از کم پانچ روز اس طرح چلنا چاہیے۔
اکثر عام آدمی اور مقابلوں میں حصہ لینے والے تجربہ کار پیادہ رو لوگ بھی، پیدل چلنے میں گھٹنوں سے زیادہ اور ٹخنوں سے کم کام لیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو پیدل چلتے رہنے کے بعد بھی جلد تھکن ہوجاتی ہے، اس کی پیٹھ میں درد ہوتا ہے اور اعصاب دکھنے لگتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے اعصاب سے صحیح کام نہیں لے رہا ہے اور اس کا توازن درست نہیں۔ پیدل چلتے وقت انسان کا سر، کندھے اور سینہ جھکا ہوا نہیں رہنا چاہیے۔ پیدل چلتے وقت جسم کی ہر حرکت کو راست اور سامنے کی جانب ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جسم کا وزن ایک پیر سے دوسرے پیر پر ٹھیک طریقے سے منتقل کیا جائے۔ چلتے وقت جوتوں کا آرام دہ ہونا بےحدضروری ہے۔
چلتے وقت اپنے پیروں کی طرف توجہ رکھیں اور یہ دیکھیں کہ قدم صحیح رخ پر پڑ رہے ہیں یا نہیں۔ قدم بڑھاکر سیدھے چلنے میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جسم کا بوجھ پیر کے اگلے اور چوڑے حصے پر پڑتا اور متوازن رہتا ہے۔ ایڑیوں پر بوجھ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے توازن پوری طرح برقرار رکھنے میں دقتہوتی ہے۔
باقاعدہ پیدل چلنا، ورزش، پابندی سے غسل اور مناسب اور موزوں غذا صحت قائم رکھتی ہے اور جوانی، شگفتگی، تازگی اور صحت کو برقرار رکھاجاسکتا ہے۔

 

 

(جاری ہے)

 

مارچ 2020ء

 

یہ بھی دیکھیں

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 7

مارچ 2020ء – قسط نمبر 7 سیکھیے….! جسم کی بو لی علم حاصل کرنے کے …

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 6

فروری 2020ء – قسط نمبر 6 سیکھیے….! جسم کی بو لی علم حاصل کرنے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے