Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

مائنڈ فُلنیس – 13

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 قسط نمبر 13

 

 


Mindfulness Based Therapy for Weight Loss

مائنڈ فُل نیس بیسڈ تھراپی فار ویٹ لاس  

 

  اکیسویں صدی میں سائنسی توجیہات کے ساتھ معمولاتِ زندگی کو سمجھنا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ مائنڈ فلنیس بیسڈمیڈیٹیشن اور تیکنک چاہے سٹریس ریڈکشن کی ہوں یا ویٹ لاس کے لئے ان سب کی بنیاد بھی سائنسی تحقیقات پر رکھی گئی ہے۔ ان مشقوں کا مقصد انسانی زندگی کو منفی خیالات اور جذباتی اتار چڑھاؤ کو قبول کرتے ہوئے مثبت سوچ کے ساتھ صحت مند ،خوش وخرم، کامیاب اور مثالی شخصیت کا روپ دینا ہے۔
اب جہاں تک بات شخصیت کی ہے۔ تو سب میں ممتاز لگنا ایک مثالی شخصیت کے روپ میں اپنی شاخت بنانا ہر انسان کی ایک لاشعوری خواہش ہوتی ہے۔ ایک مثالی شخصیت میں لوگ عموماً کیا دیکھتے ہیں….؟ تو کامیابی، روپے پیسے، اعلی مقام کے ساتھ جو جواب تواتر سے آئے گا وہ ہے پرکشش اور جاذب نظر شخصیت۔ اور یہ صحیح بھی ہے پرکشش اور جاذب نظر شخصیت میں صحت مند اور چست نظر آنے کا بڑا عمل دخل ہے۔ موٹاپے کا تعلق خوش خوراکی ، امارت اور پرتعیش زندگی سے تو ہوسکتا ہے مگر پرکشش، جاذب نظری اور صحت مندی سے تو قطعی نہیں۔ بڑھتا ہوا وزن خود اپنے آپ میں ہزار بیماریوں کا میزبان ہوتا ہے۔ موٹاپے سے دیگر کیا خطرناک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ان پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ مگر آج ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں کہ ذہنی دباؤ منفی خیالات اور بے وجہ کاڈپریشن بھی موٹاپے کی وجہ بنتا ہے ؟
جواب ہے ، جی بالکل ایسا ہی ہے ۔ ریسرچز بتاتی ہیں کہ موٹاپے کی ایک وجہ اگر خوش خوراکی ہے تو دوسری وجہ جو بہت تیزی سے پھیل رہی ہے وہ خوش خوراکی نہیں بلکہ ایموشنل اییٹنگ ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ڈپریشن ہے۔ صرف یو ایس اے میں 68.5 فیصد افرادایموشنل اییٹنگ کے باعث موٹاپے اور زائد وزن کا شکار ہیں۔

 

Emotional Eating

ایموشنل اییٹنگ

ایموشنل اییٹنگ کیا ہے…..؟ دل میں رہ جانے والے منفی خیالات کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کو جب ہم ظاہر نہیں کرپاتے تو اس کے ردِ عمل کے طور پر کئی افراد سخت غصے یا ڈہریشن میں کچھ بھی چیز بے تکان کھانا شروع کردیتے ہیں۔ اس کھانے کا تعلق بھوک سے نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کھانا جذبات کی تسکین کے لئے کھایا جاتا ہے۔ اب وہ کیاکھاتے ہیں اور ان کے لئے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کا انحصار کھانے کے انتخاب پر ہے۔ عمومی طور سے لوگ اس کیفیت میں فاسٹ فوڈ ، کیک پیسٹری چپس، چاکلیٹ جیسی اشیاء کو ترجیح دیتے ہیں۔ ریسرچز بتاتی ہیں کہ ان اشیاء میں موجود کیمکلز خاص طور چینی یا گلوکوز عارضی طور پر اینڈورفن کے اخراج کے لئے ٹریگر کا کام کرتے ہیں۔ یہ اداسی اور دباؤ کی حالت میں انسانی دماغ سے ریلیز ہونے والا ایک کیمیائی مادہ ہے۔
اسٹڈیز بتا تی ہیں کہ بنج اییٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا افردا کے دماغ میں گلوکوز کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے دماغ نارمل سطح سے بھی انتہائی کم چست اور حاضر ہوتاہے۔ جبکہ نیورو اینڈوکرائینولوجی 2003 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایموشنل اییٹنگ کے مرض میں مبتلا افراد میں اینڈورفن کی مقدار میں بار بار تغیر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عموما ایسے افراد ان اشیاء کے کھانے سے وقتی سکون اور ذہنی دباؤ میں کمی محسوس کرتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت میں بظاہر پرکشش نظر آنے والی یہ اشتہاء انگیز اشیاء حد درجہ چکنائی ، مٹھاس اور ناقص اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ صحت کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوتی ہیں۔ یہی ایموشنل اییٹنگ جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو ایک اور ڈس آرڈر سامنے آتا ہےجسے بِنج اییٹنگ Binge Eating کہتے ہیں۔

 

Binge Eating Disorder

  بنج اییٹنگ ڈس آرڈر 

  بنج اییٹنگ ڈس آرڈر (BED ) یا Bulimia بار بار بسیار خوری کے بعد غذائی قلت پیدا کرنے کی عادت ہے۔ یعنی وزن کم کرنے لئے کھانے سے پرہیز کرنے کے بجائے بہت زیادہ کھاتے ہیں اور بھوک نہ ہونے کے باوجود بھی کھاتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں انھیں زیادہ کھانے پر اختیار نہیں ہے۔ جب بہت زیادہ کھالیتے ہیں تو پھر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ لہذا وہ کھائی ہوئی چیزوں سے الٹی کرنے یا ورزش کے ذریعے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بار بار ایسا کرنے سے غذا کی نالی میں کٹاؤ ، سوزش اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل سامنے آتے ہیں۔ دانتوں کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ہاضمے کی مزید خرابیا ں پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں پانی کی کمی اور دیگر طبعی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ شدید صورت میں چکر آنا ، بے ہوشی بے چینی ، توجی نہ دے پائے۔ حافظے کی خرابیاں بلا وجہ کے لڑائی جھگڑا جیسے علامات پیدا ہوسکتی ہیں۔
کھانے پینے کی خرابیوں کا سبب جینیاتی ، جذباتی ، معاشرتی ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد مجبوری کا احساس ، خود احترامی کی کمی ، افسردگی اور مثالی بننے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
انہیں لگتا ہے کہ شاید یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی پر کچھ اختیار حاصل ہونے کااحساس حاصل کرتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کھانے پینے کی خرابیوں کا علاج ممکن ہے۔
مائنڈ فلنیس کی ریسرچز بتاتی ہیں کہ اس مرض میں مبتلا لوگوں میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔

علامات 

بھوک نہ ہونے کے باوجودبہت زیادہ کھانا
عام رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ کھانا
پیٹ بھر جانے کے باوجود بھی مزید کھانے کی خواہش اور مسلسل کھاتے رہنا۔
وقت بے وقت کھانا خاص طور سے رات میں اٹھ کر کھانا اوربہت زیادہ کھانا۔
کھانا سامنے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوک پر قابو نہیں رکھ سکتے اور کھانے سے ہاتھ روکنا ناممکن محسوس ہو۔
یہ ایک ایسا ڈس آرڈر ہے جس میں مبتلا آدمی خود کو کسی بھی طرح کھانے سے روک نہیں پاتا اور کھانے کے بعد اتنا زیادہ کھا جانے پر احساسِ جر م میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ایسا آدمی دوسروں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔ محفلوں میں الگ تھلگ رہتا ہے۔
عموما وہ لوگ جو اپنی زندگی میں خود کو بے بس ، کمزور اور مجبور محسوس کرتے ہیں۔ بِنج اییٹنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے افراد کو لگتا ہے کہ ان کا حالات پر تو کیا کسی بھی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔ اپنی تکریم نہیں کرتے۔ زندگی میں رہ جانے والی کمیوں کے لئے خود کو ہی ذمہ دار گرادنتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے ان کا بس اپنے آپ پر چلتا ہے۔ لاشعوری طور پر یہ ان کا اپنی زات کے خلاف احتجاج ہوتاہے۔ ان کے اندر کہیں دبا غصہ ہوتاہے۔ ایسے افراد جو بہت زیادہ اسٹریس لیتے ہیں۔ ہر وقت ڈپریسڈ رہتے ہیں ان میں بہت زیادہ کھانے کی پرابلم ہو سکتی ہے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ وہ لوگ جو بہت زیادہ سختی کے ساتھ ڈائیٹنگ کرتے ہیں۔ ان میں اس دس آرڈر کے پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ا ن تمام معلومات سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ذہنی دباؤ، اسٹریس ، ڈپریشن ، احساسِ کمتری بلاوجہ کا انجا نا ان دیکھا خوف کس حد لے جا سکتاہے۔ ماضی کا پچھتاوا اور مستقبل کا خوف کبھی کبھی کس حد تک منفی اثرات ڈالتا ہے۔
مائنڈ فلنیس اس سلسلے میں آپ کے لئے کتنا مددگار ہوسکتاہے ،آیئے جانتے ہیں۔

Mindfulness Technique

مائنڈ فلنیس تکنیکس﷽

 

دورِحاضر میں ورزش کے علاوہ وزن کم کرنے کے بہت سے طریقے اور تیکنکس متعارف کروائی جارہی ہے۔ کہیں ایروبکس پر زور ہے ، تو کہیں ڈائیٹنگ پر انحصار ہے۔ تو کہیں ای ایف ٹی یا ہپناسس سے مدد لی جارہی ہے۔ مگر ان تمام طریقے کار میں دو سے تین سال کے بعد وزن کے دوبارہ بڑھ جانے کے امکانات باقی رہتے ہیں۔
مائنڈ فلنیس میڈیٹیشن وزن کم کرنے یا اسٹریس سے نجات کے لئے آپ کو کوئی علاج نہیں بلکہ طرزِ حیات پیش کرتا ہے۔ وہ لوگ جو اب تک مائنڈ فلنیس طرزِ زندگی اپنا چکے ہیں۔ ان میں اسٹریس اور اس سے پیدا ہونے والی ہر طرح کی ذہنی،جذباتی،اور جسمانی بیماریوں کے امکانات کم سے کم تر ہوتے چلے گئے ہیں۔ جہاں تک وزن کم کرنے کی بات ہے تو کئی اسٹڈیز سے یہ پتا چلا کہ مائنڈفلنیس ایٹنگ وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے تحقیقی مطالعے میں ایک موازنہ کیاگیا ہے۔ جس میں ایسے موٹے افراد کو لیاگیا جو کھانے پینے کے شوقین تھے اور اسی وجہ سے ان کا وزن بڑھا تھا۔ جبکہ دوسرے گروپ میں وہ موٹے افراد تھے جو بنج اییٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا تھے اور ا سکی وجہ سے وزن کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ ڈپریشن اور اسٹریس میں مبتلا تھے۔ کسی نہ کسی گلٹ میں مبتلا تھے۔ مائنڈ فلنیس ایٹنگ کے عادی افراد اور بنج اییٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا لوگوں کی انڈیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سائیکولوجسٹ اور مائنڈ فلنیس بیسڈ ایٹنگ اویرنیس ٹریننگ MB-EAT کی فاؤنڈر ڈاکٹر جین ایل کرسلر Jean L. Kristeller اور ان کے ڈیوک یونیورسٹی کے کولیگز نے این آئی ایچ (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ)کے تحت ایک اسٹڈی کی گئی ہے۔
اس اسٹڈی میں ڈیڑھ سو بنج اییٹر شامل کئے گئے تھے اور ان پر مائنڈ فلنیس اییٹنگ تیکنیکس کو سائیکولوجیکل اسٹنڈرڈ تھراپی کے ساتھ ان پر اپلائیکیا گیا۔
مائنڈ فلنیس اییٹنگ کے افراد اپنے کھانے سے زیادہ لطف اندوز ہوئے اور ان کے اندر کم مقدار کے باوجود کھانا کھانے کی طمانیت اور بھوک کی تسکین قابلِ تعریف تھی۔

مشق نمبر 1

مائنڈ فلنیس میڈیٹیشن اور تکنیک

  تو پھر اب بات کرتے ہیں کچھ مشقوں کی جو اگر آپ فاسٹ فوڈ کے شوقین ہیں بھی تو آپ کو بنج اییٹنگ ڈس آرڈر تک پہنچنے سے محفوظ رکھیں گیں۔ اور وہ دوست جو اس تکلیف میں مبتلا ہیں انھیں اس تکلیف سے باہر آنے میں مدد فراہم کریں گی۔
ویسے تو دیگر طریقے کار میں ہم موٹے بھدے لوگوں کودبلا پتلا نظر آنے اور اپنا آئیڈیل ویٹ کو برقرا رکھنے کے لئے تصوراتی امیجز بنواتے ہیں اور میڈیٹیشنز بھی کرواتے ہیں۔ مگر چونکہ مائنڈ فلنیس آپ کو تصوارت سے باہر نکال کر حال پر متوجہ رہنے اور حقیقت کو قبول کر اس کی تصحیح کرنے کی ترغیب و تربیت دیتا ہے۔ اس لئے آج ہم آپ کو بالکل اس کے برعکس کرنے کو کہیں گے۔ وہ افراد جو ایموشنل اییٹنگ بہت زیادہ کرتے ہیں یا بنج اییٹنگ کی تکلیف میں مبتلا ہیں انھیں خاص طور پر یہ مشق کرنی چاہیے۔ اس کے لئے آ پ کو کچھ تصاویر کھچوانی ہے۔ آج کل تو سیلفیز کا دور ہے۔تو پھر یہ کام آپ خود بھی کرسکتے ہیں۔ مگر اس تصویر کو فریم ضرور کروائیے۔
اب اپنی یہ حالیہ تصویر جس میں آپ موٹے بھدے نظر آرہے ہیں۔ کھانے کی ٹیبل پررکھ لیجئے۔
یا پھر کسی ایسی جگہ رکھیئے جہاں پر کھانا کھانے کے دوران یہ تصویرآپ کی نظروں کے سامنے رہے۔
جب کھانے کے لئے بیٹھیں تو سب سے پہلے اس تصویر کو غور سے دیکھیں۔ کہ آپ زیادہ کھانے کی وجہ سے کتنے بھدے ہوگئے ہیں۔

 

مشق نمبر 2

سگنلز کو پہچانیے

یہ سب سے اہم ہے جب بے اختیار آپ فریج کی جانب بڑھیں ، پرس سے چاکلیٹ نکال کر منہ میں رکھنا چاہیں ، یا پھر ایسے ہی راستے میں سے گزرتے ہوئے کسی بیکری یا سموسے والی کی دکان پر گاڑی یا چلتے آپ کے قدم کی رفتار ہلکی ہونے لگے تو پہلے سوچ لیجئے کیا واقعی آپ کو بھوک لگی ہے یا محض یہ اشتہاانگیز خوشبو آپ کو کھینچ رہی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ کھانے سے پہلے بھوک میں فرق محسوس کرنے کی کوشش کیجئے کہ کھانے کی طلب کے سگنلز کون سی بھوک کے ہیں۔ کیا واقعی آپ کو جسمانی کمزوری محسوس ہورہی ہے اور بھوک لگی ہے یا پھر محض اپنے Taste Buds کی تسکین اور یا پھر منفی خیالات کی جانب سے دھیان ہٹانے کے لئے آپ کچھ کھانا چاہتے ہیں۔

 

مشق نمبر 3

مائنڈ فلنیس اِیٹنگ فار بنج اِیٹر

دماغ اور گَٹ کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔
ہماری بھوک اور اعصابی نظام کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ وہ اس طرح کہ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو دماغ سے سگنلز پیٹ کو ملتے ہیں۔ جب ہم کھانا شروع کرتے ہیں تو ہارمونز کی ایک پیچیدہ کڑی حرکت میں آجاتی ہے۔ ان ہارمونز سے ترتیب وار مختلف رطوبتوں کا اخراج عمل میں آتا ہے اور انہضام کے عمل میں اپنا اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون اس وقت تک رطوبتوں کا اخراج کرتے رہتے ہیں۔ جب تک کہ ہمارے دماغ سے سگنلز ملتے رہتے ہیں۔ جب ہم سیر ہوجاتے ہیں تو دراصل بھوک ختم ہوجاتی ہے۔ اور ساتھ ہم کھانا کھانا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ سائینس بتاتی ہے کہ یہ جو بھوک کے ختم ہوجانے کا عمل ہے اس کی وجہ وہ سگنل ہے جو دماغ سے معدے کو ملتا ہے۔ ہمارے دماغ میں بھوک کے ختم ہونے کی اطلاع کا پیغام پہنچنے اور پکا ہونے میں پورے بیس منٹ لگتے ہیں۔ اگر کوئی بہت جلدی کھانا کھاتا ہے تو ایسے افراد میں شکم سیری کا سگنلز نہیں پہنچ پاتے۔ نتیجے میں ایسے لوگ اوور اییٹنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یاانھیں تھوڑی دیر بعد پھر بھوک لگنے لگتی ہے۔
تو اب اس مشق کے لئے آپ کو ایک ٹائمر یا الارم کلاک کا انتظام اس جگہ کرنا ہوگا جہاں آپ کھانا کھاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ اپنے کچن یا ڈائینگ ٹیبل پر ایک کچن ٹائمر کا انتظام کیجئے۔ اب کھانا شروع کرنے سے پہلے اس میں بیس منٹ کا ٹائمر سیٹ کر دیجئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا کھا نا بیس منٹ میں ختم کریں گے۔ اب بیس منٹ کی مناسبت سے یہ تو طے ہوگیا کہ آپ کھانا جلدی جلدی نہیں کھا سکتے۔ جب کھانے بیٹھیں تو مائنڈ فلنیس آداب کو ضروریاد رکھیئے۔

  1.  آہستہ آہستہ ہر لقمے کو خوب چبا چبا کر کھانا،
  2.  خوشبو اور
  3.  ذائقے کوآخر تک محسوس کرنا اور
  4.  شکرانہ….

 

1-.اگر آپ کی یاد دہانی کے لئے مائنڈ فلنیس اییٹنگ کی مختصراً وضاحت کریں تو مائنڈ لیس اییٹنگ یہ ہے کہ کشمش یا بادام کی مٹھی بھری اور منہ میں ڈال لی۔یا پھر چار پانچ بڑے نوالوں میں پورا کھاناختم۔ نہیں اب کرنا یہ ہے کہ کشمش یا بادام جو مٹھی بھر کر لی تھی۔اسے براہ راست منہ میں نہیں ڈال سکتے۔ بلکہ اسے پلیٹ یا پیالے میں نکال لیجئے۔ اور اب ایک ایک دانہ آہستہ آہستہ کھانا ہے۔
2-.ہر کھانے کی خوشبو ہی ہوتی ہے جو ہماری بھوک میں اضافہ کرتی ہے۔ اور بھوک نہ ہونے کے باوجود کھانے کی جانب راغب کرتی ہے۔ اگر آپ کھانے کی خوشبو سے لطف اندوز ہونا سیکھ لیں تو کافی حد تک بھوک پر قابو پا سکتے ہیں۔
2-Ž.ذائقے سے مراد یہ ہے کہ ہر دانے کو جب زبان پر رکھا تو اس کے زائقہ کو محسوس کیجئے۔زبان پر رکھنے سے لے کر معدے تک پہنچنے کے پروسس پر پورا غور کیجئے اور اسے محسوس کیجئے۔ یہ عمل اپنے روٹی کے ہر نوالے،سینڈوچ یا کباب کے ہر ٹکڑے اورکشمش کے ہر دانے کے لئے دہرایئے۔ تب بنے گا ہر نوالا مائنڈ فل اور آپ کا کھانا مائنڈفلنیس کھانا۔
4-.شکرانہ۔ اور شکرانہ کے لئے ہم تو کہیں گے کہ شکرانہ زندگی میں سانس کے چلنے کی طرح شامل کر لیجئے۔ اسے ایک غیر اختیاری عمل بنا لیجئے۔ تو بس مائنڈ فلنیس اییٹنگ کے دوران جب کشمش کا ایک دانہ آپ منہ میں ڈالیں تو اللہ کے شکر کے بعد ہر اس آدمی کا بھی شکر ادا کیجئے جس سے ہوتی ہوئی یہ صاف ستھری کشمش آپ تک پہنچی۔ اگر کھانے کے دوران کچھ بات کرنا چاہتے ہیں تو پھر پپوکی پڑھائی ، بجلی کے بل اور کل کی میٹنگ کے بجائے۔ اس کھانے کی بات کیجئے جو آپ کھا رہے ہیں۔ ان مراحل کا ذکر کیجئے اور اپنے اندر شکر اور احسان مندی کے جذبات پیدا کیجئے۔ اس کا برملااظہار کیجئے ۔ ان لوگوں کے لئے جن کی محنت سے اجناس ، گوشت مصالحہ جات ہم تک پہنچتے ہیں۔ اس کا شکر ادا کیجئے جس نے ان تمام اجزاء کو اکٹھا کرکے مزیدار اور صحت مند پکوان آپ کے لئے تیار کیا۔ لیجئے جناب بیس منٹ کا ٹائمر بج اٹھا۔ اور آپ نے اپنا کھانا بیس منٹ میں ختم کرلیا۔دورانیہ اس سے زیادہ ہو سکتاہے مگر اس سے کم نہ ہو تو بہترہے۔

نوٹ

کھانا ایک بار نکالئے اور ڈش کو سامنے سے ہٹالیجئے۔
ٹی وی اورکھانے کی دوران اخبار یا کوئی اور کتاب پڑھنے سے گریز کیجئے۔
کھانا زیادہ گرم نہ کھائیں۔ ٹھنڈا یا کم گرم کھانا کمکھا ئیے۔
مائنڈ فلنیس میڈیٹیشن
یہ میڈیٹیشن آپ کہیں باہر یا دعوت میں جانے سے پہلے ضرور کیجئے۔
اس میڈیٹیشن سے پہلے آپ یہ سوچ لیجئے کہ چاکلیٹ، آئسکریم، تلی ہوئی اشیاء خاص طور سے بیکری کا میدے سے بنا ہواسامان ، ان میں آپ کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ کیا چیز ہے۔
اس مشق میں آپ نے اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہے۔ جگہ اور وقت کا انتخاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اب ایک گہری سانس لیجئے۔ اور اس چاکلیٹ کو سونگھئے۔ اسے کھانا ہرگز نہیں ہے۔ بس سونگھنا ہے۔
ایک دفعہ پھر اس کو گہری سانس لے کر سونگھیے۔
اور اب اس لمحے کے بارے میں سوچیئے جب آپ چاکلیٹ بسکٹ کھانے سے خود کو نہیں روک پاتے۔
اس لمحے کو یاد کیجئے جب بہت زیادہ کھانے کی وجہ سے آپ کو بعد میں شرمندگی کا احسا س ہو تا ہے۔
اسی چاکلیٹ کے بسکٹ حد سے زیادہ کھانے کی وجہ سے آپ کے بہن بھائی ، آپ کے بچے اپنے کھانے کی چیزیں چھپا لیتے ہیں۔
جب آپ کے گھر والے ، آپ کو کسی کھانے کی دعوت میں ساتھ لے جاتے ہوئے گھبراتے ہیں۔
جب لوگ آپ کا مزاق اڑاتے ہیں۔
رونا آرہا ہے تو رو لیجئے۔ کیونکہ میڈیٹیشن کے بعد آپ نہیں روئیں گے۔
اپنی بے بسی اور اس شرمندگی کو محسوس کیجئے جو آپ کھانا کھانے کے بعد محسوس کرتے ہیں۔
ان نظروں کو یاد کیجئے جو آپ کی جانب اٹھتی ہیں۔
محسوس کیجئے یہ سب یاد کرتے ہوئے آپ کو کتنی شدید تکلیف ہورہی ہے۔ اس لمحے اپنے جسم میں دوڑنے والی حرارت کو محسوس کیجئے۔
آپ کے روئیں شاید کھڑے ہورہے ہیں۔ انھیں محسوس کیجئے
اب خود سے سوال کیجئے کیا آپ سچ مچ یہ سب چاہتے ہیں ؟
خود سے پھر سوال کیجئے۔ یقیناً آپ کے دل سے آواز آئے گی نہیں۔
اور اب آپ دوبارہ سے اس چاکلیٹ کے بسکٹ کو سونگھئے۔ کیا اب بھی اس کی خوشبو اتنی ہی دلفریب و اشتہا انگیز ہے جتنی اس میڈیٹیشن سے پہلے تھی۔
اس میڈیٹیشن کے بعد اس بسکٹ کی خوشبو پر دھیان دیجئے۔ اس میں سے کیمیکلز کی بو آئے گی۔ ا س میں سوائے نقلی ذائقہ ، رنگ اور خوشبو کے کوئی غذائیت نہیں ہے۔
کیا آپ کا دل اس بسکٹ کو کھانے کا چاہ رہا ہے؟یقیناً نہیں۔
آپ محسوس کر رہے ہیں کہ ا ب آپ کے لئے اس بسکٹ میں کوئی کشش نہیں رہی ہے۔
اس چاکلیٹ بسکٹ یا چپس کو پرندوں کو ڈال دیجئے۔ اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کیجئے۔
اور اب آپ دعوت میں جانے کے لئے تیار ہیں۔
مزید رہنمائی کے لئے آپ روحانی ڈائجسٹ کے پتے پر ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

                     (جاری ہے)

تحریر : شاہینہ جمیل

مارچ 2016ء

 

 


یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ فُلنیس – 7

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

دل اپنا دماغ رکھتا ہے

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے