Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

مائنڈ فُلنیس – 16

 

 قسط نمبر 16

 

 


Mindfulness Sleep

مائنڈ فل نیس نیند: بے خوابی سے نجات اور پُرسکون نیند 

 

ایک سیانے کا قول ہے :
‘‘پریشانی اور اُمید کے درمیان نیند بہترین پل کا درجہ رکھتی ہے ’’۔
یہ بات سولہ آنے سچ ہے کیونکہ ایک انسان اگر عمدہ نیند لے کر صبح اٹھے ، تووہ کئی پریشانیوں سے چھٹکارا پاچکا ہوتا ہے ، اور وہ اپنے نئے دن کا آغاز ایک نئے جوش اور جذبے سے کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص پرسکون نیند نہ لے سکے تو اس کی رات تو بے سکون ہوہی جاتی ہے ، دن میں اس کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔اچھی صحت اور اعلیٰ کارکردگی کے لیے پر سکون نیند لینا بہت ضروری ہے۔

PolysomnoGram – PSG
پولی سومنوگرام

پولی سومنوگرام PolySomnoGram (PSG)ایک ایسا طریقہ جس کے ذریعے کسی بھی انسان کی نیند کا بغور مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کروانے والے شخص کو ایک خاص کمرے میں سلایا جاتا ہے۔ جہاں اس شخص کی تھوڑی (Chin)اور آئی لڈز پر الیکٹروڈ لگائے جاتے ہیں تاکہ رات بھر نیند کے دوران دماغی کارکردگی اور آنکھوں کی حرکت کو مانیٹر کیا جاسکے۔دل اور سانس کی رفتار کو مانیٹر کرنے کیلیے سینے پر Pads لگائے جاتے ہیں۔ رات بھر بلڈ پریشر کو بھی نوٹ کیا جاتا ہے ۔ خون میں آکسیجن کی مقدار کو جانچنے کے لیے انگلی میں ایک خاص deviceلگائی جاتی ہے۔ ایک اور خاص آلے کی مدد سے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مریض کو سونے میں کتنا وقت لگا اور اس کے ذہن اور جسم نے نیند کے مرحلوں کو کس طرح طے کیا۔اس کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ نیند کی کمی یا محرومی سے دماغ کی کارکردگی بہت متاثر ہوتی ہے۔


نیند کی کمی کی وجہ سے یادداشت پر برا اثر پڑتا ہے اور کچھ بھی یاد کرنے کے لیے ذہن پہ کافی زور ڈالنا پڑتا ہے۔ مزاج چڑ چڑا ہو جاتا ہے، غصہ بڑھ جاتا ہے جو بلڈ پریشر پر بھی اثر انداز ہوتاہے ۔جس کی وجہ سے دل کی بیماری اور روڈ ایکسیڈنٹ کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔
آئیے! اب بات کرتے ہیں کہ نیند سے ہمیں کیافوائدحاصل ہوتے ہیں ۔ان میں سب سے زیادہ اہم توانائی کی بحالی اور اور اس کا ذخیرہ ہے ۔

 

  1. توانائی کا ذخیرہ
  2. مستحکم یادداشتMemory Consolidation
  3. توانائی کی بحالی Restoration

بھرپور نیند ہماری یاداشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔سارا دن میں جتنی بھی معلومات ہمارے دماغ میں آتی ہیں انہیں ذہن نشین کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم رات میں پرسکون نیند لیں۔
ایک رات بھر پور نیند لے کر ہم اپنے جسم کی تقریبا 100 کیلوریز محفوظ کر سکتے ہیں۔ دراصل دورانِ نیند ہمارا میٹا بولک ریٹ گر جاتا ہے، نظامِ ہاضمہ کی کارکردگی بھی کم ہوجاتی ہے، دل اور سانس کی رفتاربھی ہلکی پڑ جاتی ہے اور جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ جو 100 کیلوریز ہم محفوظ کرتے ہیں۔ بظاہر یہ معمولی سا ذخیرہ ہے مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے بیٹری کا روز چارج ہونا ۔یعنی ویسے تو بیٹری بجلی پر کام کرتی ہے مگر لوڈ شیڈنگ میں ذخیرہ شدہ پاور ہی استعمال میں آ تی ہے ۔جسے بیک اپ بھی کہتے ہیں ۔اسی طرح قوتِ حیات کو رواں دواں رکھنے کے لئے ا س بیک اپ یا اسٹوریج کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے ۔جو نیند کے دوران پوری کی جاتی ہے ۔ اور ایسے افراد لمے عرصے تک صحت مند اور توانا زندگی گزارتے ہیں ۔

 

 

  Sleep Disorders
نیند کے مسائل

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
یقیناً آپ کا فوری ردعمل یہ ہوگا کہ اجی جناب موت کا تو پھر بھی ایک دن معین ہے ۔ مگر اس آگ برساتے ماحول میں تو بجلی کا ایک گھنٹہ بھی معین نہیں اس لئے نیند نہیں آتی ۔اگر ہم مائیند فل لائف کے عادی نہیں ہیں تو ہمارا جواب ہوگا کہ آپ کی بات بالکل صحیح ہے ۔اس موسم میں بجلی کا نہ ہونا اچھے اچھوں کو ان سومنیا میں مبتلا کر سکتاہے ۔
مگر ہمارا جواب اس کے بر عکس ہے ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ جلتی دھوپ میں ننگے پاؤں اپنی پیٹھ پر اینٹیں لادے تین مالوں تک کئی بار سیڑھیاں چڑھنے اترنے والا مزدور ناقص غذا کھا کر بھی بغیر بجلی کے ، مچھروں کو اپنا ساتھی بنا کر جب سخت کھردری زمین پر لیٹتا ہے تو ا سکے خراٹوں کی گونج سے علاقہ گونجتا ہے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر اس محنت کش کی آنکھ سویرے سے پہلے نہیں کھلتی ۔وہ کبھی کسی طرح کے سلیپ ڈس آرڈر کی شکایت لے کر کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں آتا۔ یہاں ہمیں بزرگوں کی بات یاد آجاتی ہے( کہ نیند تو سولی پے بھی آجاتی ہے ۔)ہے ناں سوچنے کی بات ….حقیقت بھی یہی ہے
ماہرین کی کیس اسٹڈیز کہتی ہیں کہ نیند کم آنے یا بے خوابی کا تعلق وارثت سے نہیں بلکہ طرز زندگی اور طرز فکر سے ہوتا ہے ۔
مائینڈ فل طرزِ زندگی میں آپ کو موجودہ لمحہ میں جینے اور خوش رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس عمل سے آپ کا اپنے دماغ اور سوچ پر پورا کنٹرولرہتاہے۔
ذرا سوچیئے کہ بھرپور نیند صحت مند زندگی کے لئے اتنی زیادہ اہم ہے کہ رب تعالی نے اسے خودکار نظام کا حصہ رکھا ہے ۔ا س خود کار نظام میں خلل واقع ہو رہا ہے تو ا سکی بنیادی وجہ انسان کی جانب سے فطری زندگی اور قدرت کے نظام سے دوری سوا اور کیا ہوسکتی ہے ۔ بہرحال حالیہ ریسرچز اور کیس اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ 100 سے زائد مختلف عوارض ایسے ہیں جو آپ کی رات کی نیند میں خلل پیدا کرسکتے ہیں۔ اگر ان کو شکایات کے لحاظ سے تقسیم کیا جا ئے تو نیند میں حائل ہونے والی بے ضابطگیوں کو ہم چار اقسام میں رکھتے ہیں ۔
نیند کا مشکل سے آنا یعنی کروٹیں بدلتے رہے ساری رات ہم ….
نیند میں جاکر مشکل سے جاگنا یعنی اتنی گہری نیند کے بم بھی پھاڑ دو تو پتا نہ چلے ۔اور دیر تک سونا ۔پھر بھی کہنا کہ نیند نہیں بھری….
وقت پر نیند لینے میں مشکلات۔ اس پر معروف شاعر نے کیا خوب کہا کہ شب بھر رہا چر چا تیرا۔
غیرمعمولی نیند کے رویے Abnormal Sleep Behavior ایسی نیند جس میں ایک بار جاگ کر دوبارہ نہیں سونا، نیند میں باتیں کرنا اور اکثر سچی سچی باتیں اگل دینا بھی شامل ہے ۔
نیند میں پیدا ہونے والی ان بے ضابطگیوں کوجاننے کے لئے آپ کا نیند کے مراحل سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔ جو ہم انتہائی مختصراً بیان کر دیتے ہیں۔ نیند کو دومرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔REM اورNREM۔
ہماری نیند کا 75 سے 80 فیصد حصہNREM میں ہی گزرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارے دماغ میں موجود برقی پیٹرن Electrical Pattern یاSpindles Sleep بہت تیز اورDelta Waves بہت سست Slow ہو ۔یعنی اس وقت ہم گہری نیند میں ہوتے ہیں۔ Sleep NREM کے بغیر ہماری دما غی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے کیوں کہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب Short Term Memory، Long Term Memory میں منتقل ہوتی ہے۔ جب ہمارے جسم سے وہ ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو خلیوں کی reproduction اور repairing کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔
REM یعنی Rapid Eye Movement نیند کا وہ مرحلہ ہے کہ جب ہم گہری نیند سے باہر آرہے ہوتے ہیں اور اس دوران آنکھوں کے پپوٹوں میں حرکت شروع ہوجاتی ہے ہمارے جسم میں ہارمون کا اخراج جو ابتدائی نیند میں سست پڑ جاتا ہے وہ اب تیز ہوجاتا ہے۔ اس دوران ہمارے مسلز muscles وقتی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں یعنی جسم کو حرکت دینا ممکن نہیں ہوتا۔جو ہمیں جذباتی قدم اٹھانے سے محفوظ رکھتے ہیں ۔یہ مرحلہ اس لئے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم اکثرو بیشتر سچے خواب اسی مرحلے پر دیکھتے ہیں ۔ویسے کچھ سائنسدان اس بات پر بھی بحث کرتے ہیں کہ ریم سلیپ کے دوران ہمارا دماغ ان حالات اور جذبات سے مقابلہ کرنا سیکھتا ہے ۔جن کا سامنا وہ سارا دن میں نہیں کر پاتا۔
پتے کی بات یہ ہے کہ نیند کا یہی وہ مرحلہ ہے کہ جب مائنڈ سائینس ذہنی عارضے میں مبتلا افراد کو بہترین ٹریٹمنٹ دے سکتی ہے ۔وزن کم کرو اسکتی ہے۔ ماضی کے ناخوشگوار نقوش دھندلا سکتی ہے ا س کے علاوہ اور بہت کچھ بھی …. بہرحال اس کی مزید تفصیل میں جائے بغیر اب ہم آپ کو نیند کے ان مراحل میں پیدا ہونے ولے خلل جوبیماریوں کے صورت میں سامنے آتے ہیں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں ۔

Sleep Walking
نیند میں چلنا 

اس بیماری سے بڑوں کے مقابلے میں 11 سے 12 سال کے بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ نیند کی حالت میں مریض ناصرف اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے بلکہ مختلف قسم کے کام بھی سر انجام دے سکتا ہے۔جیسے کسی بھی سمت میں چلنا شروع کر دینا، کپڑے پہننا، کھانا پکانا یہاں تک کہ اس حالت میں مریض گاڑی بھی چلا سکتا ہے۔یہ تکلیف عموماNREM sleep کے دوران سامنے آتی ہے۔

Sleep Apnoea
سوتے میں سانس کا رکنا یا حبسِ دم

  یہ ایک خطرناک تکلیف ہے۔ سوتے میں اچانک دم کے گھٹنے سے آنکھ کھل جاتی ہے ۔ یہ کیفیت عموما ریم سلیپ کے دوران ہوتی ہے۔اس مرض کی وجہ نیند کے دوران جسم میں آکسیجن کی مقدارکم ہو جاتی ہے اور گیسوں کے تبادلے کا تنفسی نظام متاثر ہوتاہے۔ جسم میں موجود ہوا کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے آکسیجن پھیپھڑوں تک نہیں پہنچ پاتی اور سانس لینا مشکل ہوجا تا ہے۔ یہاں تک کہ دماغ تک آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوجاتی ہے۔ آکسیجن کی اس قلت کا دورانیہ 10 سیکنڈ یا کچھ منٹس تک اور ایک گھنٹے میں تقریباً 30مرتبہ ہو سکتا ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ Sleep Apnoea ایک دائمی مرض کی صورت بھی اختیار کر جاتاہے۔ اس کی و جوہات میں زندگی میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات اور حالات بھی ہوسکتے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے ذہنی دباؤ لاشعوری طور پر مریض کے ذہن میں موجود ہوتا ہے۔ کئی بار مریض کو پتا ہی نہیں ہوتا وہ لاشعوری طور پر کسی ڈپریشن میں مبتلا ہے ۔عام زبان میں اسے ماسک انزئیٹی (Mask Anxiety)بھی کہاجاتاہے۔

Narcolepsy
نومیت یا نارکو لیپسی

یہ بھی ایک اعصابی مرض ہے ۔جس میں ہمہوقت نیند کا غلبہ رہتا ہے۔ مریض کے با بار اضافی نیند محسوس کرنے کو ‘‘نارکولیپسی’’ کہتے ہیں ۔ جس میں متاثرہ مریض دن کے کسی بھی وقت میں گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔ اس کی علامات میں اچانک اور شدید نیند کا احساس اور پٹھوں اور عضلات کا ڈھیلا پڑجانا شامل ہے ۔ نارکولیپسی سے مرد و خواتین دونوں ہی یکساں متاثر ہوتے ہیں ۔ زیادہ تر نوجوان جن میں ہارمونل چینجز بہت تیزی سے واقع ہو رہے ہوتے ہیں نارکولیپسی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اس تکلیف کو عموماًزیادہ تشویش ناک اس لیے نہیں سمجھا جاتا کیوں کہ عام طور پر اچانک نیند محسوس کرنے کو رات کی کم یا نامکمل نیند، تھکن اور کم زوری سے موسوم کر دیتے ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق امریکہ میں تقریبا ہر 3000 لوگوں میں سے ایک آدمی اس تکلیف میں مبتلا نظر آتا ہے۔ نیند لینے کا یہ دورانیہ کچھ منٹوں سے لے کر گھنٹوں کا ہوسکتا ہے ۔ہر وقت غنودگی چھائے رہنے کے سبب نئی اور مختلف چیزیں سیکھنے اور یاد رکھنے کا عمل بھی متأثر ہوتا ہے ۔طبی محققین کے مطابق اس مرض میں مبتلا افراد کے دماغ کے خلیات کیمیائی مادّہ ہائپوکریٹن ضرورت سے کم مقدار میں خارج کرتے ہیں ۔ یہ مادہ ہمارے سونے اور جاگنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے ۔
اس مرض کا کوئی مخصوص علاج ابھی موجود نہیں، لیکن طبی ماہرین کی کوشش ہے کہ وہ ہائپوکریٹن کے لیول کو بڑھانے کے قابل ہو جائیں تو نارکولیپسی کو کنٹرول کیا جاسکے گا۔

 

Insomnia
بے خوابی یا نیند کا نہ آنا

یہ سب سے زیادہ سامنے آنے والا عارضہ ہے۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر ضدی اور بہت زیادہ حساس افراد ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں یا محرومیوں کو برداشت نہیں کر پاتے ۔یا پھر کسی بھی ناخوشگوار حادثہ کو بار بار دہراتے ہیں ۔ان کے اعصاب شدت سے متاثر ہوتے ہیں ۔ اس تکلیف سے متاثرہ لوگوں کے لیے سونا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔یا پھر وہ ایک بار سو جائیں تو مستقل سوتے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگ رات کے کسی بھی وقت یا پھر صبح ہی اچانک سے اٹھ جاتے ہیں اور پھر دوبارہ سونا ان کے لیے نا ممکن ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ سارا دن تھکن کی شکایت کرتے رہتے ہیں ۔
اس کی دیگر وجوہات میں کسی بھی طرح کا نشہ کیفین،الکوحل اورنکوٹین جیسی چیزوں کا استعمال، کسی نفسیاتی مسئلے کی موجودگی یا کوئی جذباتی صدمہ ، دکھ،ذہنی دباؤ ہے ۔جو ہمیں اندر سے پوری طرح خوش نہ ہونے دیتا۔
کام کی روٹین ایسی ہو کہ ہم بالکل یا ٹھیک سے سو نہ پا رہے ہوں۔ ماضی کے نا خوشگوار واقعات کسی خوفناک یا ڈراؤنے خواب کی صورت میں نیند حرام کر رہے ہوں ۔ جو سب سے اہم چیز اس بیماری کی جانب ہمیں لے کر جاتی ہے وہ ہے ہمارا کسی بھی بات کو سر پر سوار کرنالینا اورہر پل مسلسل اس کے بارے میں سوچنا کہ یہ رفتہ رفتہ ہمارے دماغ کے اعصاب کو متاثر کر تاہے اور ایک دن ایسا آتا ہے جب ہماری نیند بالکل ختم ہو جاتی ہے۔
ہم نے آپ کو نیند کی ضرورت اور اس میں پیدا ہونے والے ڈس آرڈر پر مختصر فراہم کر نے کی کوشش کی ۔
غور طلب نکتہ یہ بھی ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پو رے جسم کی کارکردگی کو بحال کرنے کے لیے اگر صرف نیند لینا ہی کافی ہے تو یہ کام تو خواب آور گولیوں سے لیا جاتا رہا ہے۔مگر یہ وقتی طور پر تو کام کرجاتی ہے ۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ خواب آور گولیاں بھی ہار مان جاتی ہیں ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ لوگ اپنی طرزِ فکر نہیں بدلتے ۔ورنہ توانائی کی بحالی کا یہ کام تو کسی پرسکون جگہ پر کچھ دیر خاموش بیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے۔

 

  مائینڈ فلنیس مشقیں اور میڈیٹیشن 

مائینڈ فلنیس کی مشقیں اور طرزِ حیات آپ کی نیند کو کس طرح بہتر سے بہتر بنا سکتاہے….؟ اور ان دس آرڈر بالخصوص بے خوابی ، نارکولیپسی اور سوتے میں حبسِ دم جیسے اعصابی تکلیفوں سے نجات دلانے میں کس طرح مدد گار ہو سکتا ہے ۔
جیسا کہ ہم نے کہا کہ عمومی نیند نہ آنے کی تکالیف میں طرزِ زندگی اور طرزِ فکر ذمہ دار ہوتےہیں ۔
تو پھر ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے تو اپنے روز مرہ کے معمولات پر نگاہ دوڑائیں اور انہیں منظم اور مرتب کرنے کی کوشش کریں ۔

 

 

کیفین نہ لیجیے 

کیفین کافی، چائے ، کولا مشروبات، چاکلیٹ اور بعض ادویات میں شامل ایک کیمیائی مادہ ہے۔ انسانی جسم میں پہنچ کر یہ مادہ تھکن دور کرتا اور انسان کو ہشاش بشاش کردیتا ہے۔ یہ قوتِ ارتکاز بڑھاتا اور استعداد کار میں اضافہ کرتا ہے ۔ مگر مگر مگر …. کیفین کی پچاس سے ساٹھ ملی گرام کی مقدار جس انسان کے خون میں شامل ہو وہ بستر پر لیٹ کر بھیڑیں تو گن سکتا ہے ۔سو نہیں سکتا ۔اس لئے وہ لوگ جو روز چائے کی پانچ چھ پیالیاں پینے ، یا دن میں تین چار چاکلیٹس کھانے یا پھرکولڈ نکس پینے کے شوقین اور عادی ہوتے ہیں ۔وہ دیگر کے مقابلے میں جلد مختلف عوارض مثلاً دل کی بیماریوں اور کمیِ نیند میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ اس لئے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سونے سے چھ گھنٹے قبل کیفین نہ لی جائے۔

کام روک دیجیے 

بے چین نیند اور بے خوابی بھی اہم وجہ دیر تک کام کرنا بھی ہے۔ اس لئے کام کے ختم کرنے کا ایک وقت مقرر کیجئے ۔

شام کو ورزش نہ کیجیے 

ماہرین کہتے ہیں کہ صبح ہمارا جسمانی درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے ۔ اس وقت انسانی جسم جسمانی کام اور محنت کے لئے بالکل تیار ہوتا ہے ۔ مگر تاریکی چھاتے ہی درجہ حرارت گرنے لگتا ہے ۔ یہ اس بات کا فطری اشارہ ہوتا ہے کہ اب جسم کو سوجانا چاہیے ۔ ایسی صورت میں اگر شام کو ورزش کرنے سے جسم کا درجہ حرارت 2 ڈگری تک بڑھ جاتا ہے ۔یہ چستی نیند میں خلل کا باعث بنتی ہے۔ اس لئے شام میں سخت ورزش کے بجائے مائینڈ فلنیس واک کو اپنی عادت بنائی ۔اور دھیمی رفتار سے اپنے پیروں کے زمین سے تعلق کو محسوس کیجئے ۔

صحت بخش اور سادہ غذا کا انتخاب 

بچپن میں ناپسندیدگی کے باوجود امی زبردستی ایک پیالی گرم دودھ ضرور پلاتی تھی۔ امی کہتیں ا س سے اچھی نیند آتی ہے ۔ اب جدید سائنس نے بھی اس بات کو درست ثابت کردیا ہے۔ وجہ یہ کہ گرم دودھ میں میلاٹونین پایا جاتا ہے ۔ جسم میں اس کی کثرت سے انسان کو گہری اور پرسکون نیند آتی ہے ۔ یہ ہارمون انناس، کیلے اور مالٹے میں بھی ملتا ہے ۔ لہٰذا رات کو یہ غذائیں استعمال کرنا مفید ہے ۔ایک امائنو ایسڈ یا تیزاب، ٹرپٹوفین (Tryptophan) بھی نیند آور خصوصیات رکھتا ہے۔ میلاٹونین یہی تیزاب یا ایسڈ پیدا کرتا ہے ۔ یہ بعض سبزیوں ، پنیر اور گوشت میں بھی پایا جاتا ہے ۔

  کھا نے کا احترام کیجئے 

کھانا ٹھونسیئے نہیں بلکہ کھائیے ورنہ بھوکارہنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر آپ کام کے ساتھ کھاناکھانے کے عادی ہیں۔ جیسا کہ آفس جانے والوں کا بلکہ اب تو اسٹوڈنٹس اور گھریلو خواتین کا بھی یہی حال ہے۔ ہروقت ذہن میں کوئی نہ کوئی چرخی چلتی رہتی ہے ۔ اب آفس یا کالج کو ہی لیجئے ۔تیس منٹ کا لنچ بریک ہے ۔اور اس کے فورا بعد باس سے میٹنگ یا پھر کالج میں ٹیسٹ ہے ۔بس کھانا کیا کھایامنہ میں ٹھونسا اور ساتھ ساتھ میٹنگ کے ایجنڈے پر بھی فوکس رہا۔نتیجے میں کھایا گیا بے چارہ کھانا محض معدے پر بار کا سبب بنتا رہا۔ یاد رکھیئے پریشانی میں کھانا یا تناؤ میں کھانے سے معدہ اور ہاضمہ پر پڑنے والے بہت برے اثرات میں ذیا بیطس اور ذیا بیطس سے بلڈ پریشر ، بے چین نیند ، بد خوابی اور دیگر بیماریاں شامل ہیں ۔اس لئے اگر پرسکون نیند سونا چاہتے ہیں اور کھائی جانے والی غذا کے زیادہ سے زیادہ فوائدچاہتے ہیں تو مائینڈ فلنیس ایٹنگ کی عادت ڈالیے اور کھانے کو اللہ تعالی کے شکر کے ساتھ پوری طمانیت اور خوشی کے ساتھ تناول کیاجائے ۔

 

عرقِ گلاب اور پانی پیجئے

اگر ہمارے جسم میں پانی کی کمی رہے تو ہم دباؤ اور بے چینی محسوس کرتے ہیں ۔ یہ بے چینی اچھی نیند میں رکاوٹ بھی بنتی ہے ۔ لہٰذا رات کو پیاسے مت سوئیے اور بدن کو نم رکھیے ۔ لیکن اتنا پانی نوش نہ کریں کہ رات کو بار بار اُٹھنا پڑے۔ یہاں ایک خاص ڈرنک کا ذکر بھی کرنا چاہیں گے۔ اپنے پینے کے پانی میں عرقِ گلاب کو ملا لیجئے ۔اس سے ناصرف پانی کا ذائقہ اور خوشبو دل کو بھائے گی ۔بلکہ ذہنی سکون بھی حاصل ہوگا۔ یہ خاص ڈرنک ایک نشست میں ڈاکٹروقار یوسف عظیمی نے ہمیں بتایا اور ہم نے اسے اپنا کر کافی فوائد حاصل کئے ۔ویسے بھی آج کل گرمیاں بھی ہیں اور رمضان بھی آنے والے ہیں ا س کی مناسبت سے اگرآپ عرقِ گلاب ملا پانی پینا اپنا معمول بنالیں تو جسمانی صحت مندی کے فوائد کے ساتھ بہتر اور پر سکون نیند بھی میسر آسکے گی ۔اب یہ کتنا ملانا ہے ا س کے لئے آپ حسبِ زوق لے سکتے ہیں ورنہ تو اس کا تناسب ڈیڑھ لیٹر پانی میں تین یا چار ٹیبل اسپون پانی کافی ہوتا ہے ۔

سلیپنگ ڈریس آرام دہ بنایئے 

بعض لوگ رات میں وہی کپڑے پہن کر سو جاتے ہیں جو انہوں نے دن بھر پہنے ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کر یں گے کہ پرانے کپڑے جو پہنے کے قابل نہیں رہتے یا پھر دھل کر دھل کر بالکل نرم پڑ جاتے ہیں انھیں سونے کا لباس بنا دیتے ہیں ۔
اپنے سونے کے لباس کو ڈھیلا اور آرام دہ کپڑے کا بنایئے ۔یہاں آپ کو ایک اور پتے کی بات بتاتے ہیں۔ اگر آپ سونے کے لباس بھی خوبصوت انداز اور ڈیزئین کے سلوائیں تو یہ بھی آپ کے لئے خوشی اور ایکسائیٹمنٹ پیدا کرے گا۔ایساکئی بار دیکھا گیا ہے ۔ہم نے اپنے قریبی لوگوں میں آزمایا۔کبھی کبھار تو جلدی سونے کی خواہش صرف ا س لئے ہوتی ہے کہ وہ والا سونے کا لباس یا سلیپنگ ڈریس زیب تن کیاجاسکے ۔

 

مائینڈ فلنیس میڈیٹیشن

انسومینا یا بے خوابی اور نیند میں سانس کے رُک جانے کے مریضوں کے لئے یہ میڈیٹیشن بہت مفید ہیں۔ ساتھ ساتھ ہماری قوتِ حیات یعنی قدرتی بیٹری کو چارج رکھنے اور بڑھتی ہوئی عمر میں ا س کابیک اپ تیار رکھنے میں خاصی مدد گار ثابت ہوں گی۔ اس کے لئے سب سے پہلی میڈیٹیشن سانس کی کی ہے ۔

 

مائینڈ فلنیس بریدھنگ اور شکرانہ 

ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا جملہ بھی دہراتےجائیے۔
مغرب میں جب یہ میڈیٹیشن کروائی گئی تو انھوں نے لوگوں کو پییسPeace یا ریلیکس بولنے کی ترغیب دی ۔
ہم آپ سے کہیں گے کہ شکر اللہ کہنے کی مشقکیجئے ۔
بس ایک منٹ کے لئے آنکھیں بند کیجئے اور سانس کی آمدورفت کو معمول پر رکھتے ہوئے اپنے لبوں سے شکرانے کے الفاظ ادا کیجئے ….!
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی کیفیت ہوں کتنے ہی پریشان یا ٹوٹے ہوئے ہوں ۔
دو ستو یہاں یہ مت سوچئے گا کہ ابھی تو سخت الجھن میں ہوں آخر کس بات کا شکر کروں ۔ یقین کیجئے یہ الفاظ آپ کے اندر بے چینی اور اضطراب کو بڑھا دیں گے۔ ناشکری ویسے بھی ایک نا پسندیدہ عمل اور سوچ ہے ۔اس لیے بس اپنے لبوں کو حرکت دیجئے اور ایک منٹ تک شکر اللہ کے الفاط دہرائیے ۔
مائینڈ فلنیس ٹچ آ پ کے اعصاب کو پرسکونرکھے۔
۔ہم آپ کو مائینڈ فلنیس ٹچ کے حوالے سے خاصی تفصیل دے چکے ہیں ۔یہاں ایک ایسی مائینڈ فلنیس ٹچ کی مشق بتارہے ہیں جو نیند کے نہ آنے کی ہر طرح کی وجوہات میں موثر پائی گئی ہے ۔
اس کے لئے آپ رات میں سونے سے پہلے کا وقت مقرر کریں تو بہتر ہے ورنہ دن میں کسی وقت ضرور کیجئے ۔
سر میں ڈالنے والاکوئی بھی تیل جو گھر میں دستیاب ہو۔سرسوں کا ہو تو بہتر ہے ۔
اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی پر تھوڑاسا لگالیجئے ۔
اور اب اس چکنی انگلی اور انگوٹھے سے اپنے دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر مساج کیجئے ۔اس دوران میں آپ آنکھیں بند کر لیجئے ۔اور اپنی انگلیوں کے حرکت کو پیرں کے انگوٹھوں پر محسوس کرنے کی کوشش کیجئے
مائینڈ فلنیس ٹچ کی یہ مشق اتنی لطیف اور پرسکون ہے کہ بہت جلدی آپ کا ذہن مکمل طور پر انگلیوں کے مسَ اور انکی حرکت پر مرکوز ہو جائے گا۔
جتنی دیر چاہیں یہ مشق کیجئے ۔
اب بغیر کوئی بات کئے سیدھا ہوکر آرام سے لیٹ جایئے ۔ ہمیں یقین ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں آپ میٹھی اور گہری نیند میں ہوں گے۔
مائینڈفلنیس نیند کے بارے میں ابھی بس اتنا ہی ، اس پر انشاءاللہ اگلے باب میں ہم مزید معلومات فراہم کریں گے اور آپ کو مزید نئی تیکنکس اور مشقوں کے بارے میں بتائیں گے۔

 

 

 

                     (جاری ہے)

تحریر : شاہینہ جمیل

جون 2016ء

 

 

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ فُلنیس – 16

   قسط نمبر 16       ایک سیانے کا قول ہے : ‘‘پریشانی اور …

مائنڈ فُلنیس – 15

   قسط نمبر 15       ‘‘دوستی ایساناطہ جو سونے سے بھی مہنگا….’’ علی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے