Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

مائنڈ فُلنیس – 14

 قسط نمبر 14

 

 


Mindfulness Improves Working Memory Capicity

مائنڈ فل نیس سے یادداشت بہتر بنائیے

سن 2013ء میں ایسوسی ایشن فار سائیکولوجیکل سائنس Association for Psychological Science (APS) میں چھپنے والی ایک ریسرچ میں بتایا گیا کہ مائنڈ فلنیس مشقیں یاداشت کو بہتر بنانے اور حافظہ کی عمر بڑھانے میں کامیاب مشقیں ثابت ہوئی ہیں ۔
اس کے لئے کیلیفورنیا یونیورسٹی ، سانتا باربرا میں ڈیپارٹمنٹ آف سائیکلوجی اینڈ برین سائنس کے مائیکل مرازیک Michael D. Mrazek, کی زیرِنگرانی 48 انڈر گریجویٹ اسٹوڈنٹس پر کی جانے والی ایک اسٹڈی کے نتائج کے مطابق وہ اسٹوڈنٹس جنہیں دو مہینے تک مائنڈ فلنیس مشقیں کروائیں گئیں تھیں۔ وہ اسٹوڈٹنس،GRE گریجویٹ ریکارڈ ایگزامینیشنGraduate Record Examination اور ورکنگ میموری کیپیسٹی ٹیسٹ Working memory capacity testمیں ہائیسٹ اسکورر رہے اور ان کی بہترین کارکردگی سامنے آئی۔
گو کہ ماہرین مانتے ہیں کہ یہ مشقیں کروانا اور ذہن کو حالیہ لمحہ پر واپس لانے کی پریکٹس کروانا اتنا آسان نہیں۔ مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیسے جیسے انسانی ذہن اپنے خیالات اور سوچ سے آگاہ ہوتا جاتا ہے اس کے لئے اپنے جذبات اور صلاحیتوں کو سمجھنا بھی اتنا ہی آسان ہوجاتا ہے ۔ بہر حال مائنڈ فلنیس کے ماہرین نے ریسرچز اور اسٹڈیز کی بنیاد پر یاد داشت کو بہتر بنانے اور کام کے دوران آ پ کی ورکنگ میموری کیپیسٹیworking memory capacity کو بڑھانے کے لئے جو بنیادی اصول اور چند پوائینٹس پیش کئے۔ وہ ہم آسان زبان میں آپ کے ساتھ شئیر کرتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ یادداشت یا حافظہ کیا ہے …..؟

 

حافظہ کیا ہے ؟

  انسان جو کچھ بھی دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے اس کا اثر اور نقش اس کے دماغ پر ثبت ہو جاتا ہے۔ ان تجربات اور احساسات کا اثر اور نقش خود کو بار بار دہراتا ہے۔ ہمارے شعور کی اس اثر اور نقوش کی تجدید کرنے والی قوت کا نام ہی حافظہ ہے۔
یعنی اگر دیکھتے، سنتے یا محسوس کرتے وقت انسان کا دماغ مستعد نہ ہو یا دوسری چیزوں کی طرف مشغول ہو یا بے توجہی کی حالت میں ہو تو یہ نقش بہت مدھم رہے گا اور ضرورت کے وقت اس کی تجدید نہیں ہو سکے گی، دوسرے الفاظ میں یہ نقش تازہ نہ رہ سکے گا۔
حافظے کا سب سے بڑا قانون یہ ہے کہ جتنا گہرا کسی چیز کا اثر ہوگا اتنا ہی اس کا یاد رکھنا آسان ہوگا اور جتنا مدھم کسی چیز کا نقش ہوگا اتنا ہی اسے بھولنے کا امکان زیادہ ہوگا۔
حافظے کی تربیت اور اس کے نظم و ضبط کے لیے جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ مفید باتیں یاد رہ جائیں وہاں یہ بھی لازمی ہے کہ غیر ضروری باتیں فراموش ہوتی رہیں۔اب کن باتوں اور واقعات کو حذف ہوجانا ہے اور کن باتوں کو یاد رہ جانا ہے ۔ شعور اس کا فیصلہ انہیں نقوش کی گہرائی کی بنیاد پر کرتا ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو ازخود ہر انسانی ذہن میں جاری وساری ہے ۔


ماہرین نے یاداشت کو بہتر بنانے کے لئے جو اصول بتائے ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہم جان لیں کون سے عوامل یادداشت کے دشمن ہیں۔ یعنی اسے کمزور کرتے ہیں اور کون سے عوامل یاداشت کے دوست ہیں یا اسے بہتر بناتے ہیں اور قوت فراہم کرتے ہیں۔ تو سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں دشمنوں کی۔

 

حافظے کے دشمن

ماہرین کے مطابق یاداشت کے چار دشمن ہوتے ہیں جن کے باعث آپ اپنے حافظے سے پورے طور پر کام نہیں لے سکتے۔
وہ چار دشمن یہ ہیں۔

  1. ….لاپرواہی
  2. ….تھکاوٹ
  3. ….منقسم توجہ یا منتشر خیالی
  4. ….ذہن کا استعمال نہ کرنا

کیا آپ بتا سکتے ہیں ان میں سب سے خطرناک دشمن کون ہے؟۔ شاید آپ کہیں ان تمام میں سب سے خطرناک دشمن لاپرواہی ہے۔ ماہرین کی رائے اور تجربے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانی یادداشت کا سب سے خطرناک دشمن منقسم توجہ یا منتشر خیالی ہے۔
دراصل سوچ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی نہ تو اپنی شکل ہے، نہ تعریف۔ یہ ذہن میں اٹھنے والے خیالات، عزائم، خواب، تصورات، خوف، پریشانیوں اور الجھنوں کے مجموعے کا نام ہے۔


آپ اپنی ذہنی کیفیت کی نہ تو تصویر کھینچ سکتے ہیں اور نہ ہی تحریر کر سکتے ہیں۔ سوچ اور فکر عموماً دماغ میں بھٹکتی رہتی ہے، اس کی کیفیت ایسی ہے جیسے آپ کسی بلی کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک کمرے میں چھوڑدیں ۔ روشنی ہونے کے باوجود آنکھوں پر پٹی کی وجہ سے دیواروں سے سر پٹکتی رہے گی۔ مگراس تھکادینے والے عمل کے بعد بھی کوئی راہ نہ نکال پائے گی اور اگر آپ اس کی پٹی کھول کر کسی راستے پر کھڑا کردیں تو عین ممکن ہے وہ چلتے چلتے کسی منزل تک پہنچ جائے۔
تومحترم قارئین! منقسم توجہ انسانی حافظے کو اتنا زیادہ تھکا دیتی ہے کہ وہ کچھ یاد رکھنے تو کیا یاد کرنے کے بھی قابل نہیں رہتا۔

مائنڈ فلنیس تکنیک نمبر 1

 

منقسم توجہ سے بچنے کے لئے مائنڈ فلنیس مشق یہ ہے کہ آپ خود کو ہر لمحہ ہر پل حال میں رکھنے کی کوشش کریں۔ ہم مانتے ہیں کہ ایسا کر نا مشکل ہوگا مگر ناممکن نہیں۔ کم سے کم دن بھر کا کوئی ایک کام چاہے آفس میں ہوں یا گھر میں مائنڈ فلنیس اصولوں کے مطابق کیجئے۔ ہم آپ کو مائنڈ فلنیس تھاٹ لیبلنگ کی مشق بتاچکے ہیں ۔ ماہرین کی رائے میں تھاٹ لیبلنگ کی مشق منقسم توجہ کو مرکوز کرنے اور یکجا کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے ۔
لیجیئے جناب دشمنوں کی بات تو ہوگئی۔ ہم نے کوشش کی آسان زبان میں اس کی وضاحت کر پائیں۔ اب آپ کو بتاتے ہیں ان دوستوں کے بارے میں جو ہماری یاد داشت کو قوت بخشتے ہیں۔

چار دوست

 ماہرین نے ہماری یاداشت کے چار دوست بتائے ہیں جو یادداشت کو قوت بخشنے اور بڑھانے میں ہمیشہ حاضر ِخدمت رہتے ہیں۔ وہ چار یار یہ ہیں۔

  1. ….ہوشیاری
  2. ….دلچسپی
  3. ….خواہش
  4. ….یکسوئی

اب اگر ان تمام دوستوں کو کسی ایک دوست کے ساتھ پانا چاہیں تو وہ ہے خواہش۔ یہ خواہش ہی ہے جو آپ کے لیے کوئی ٹارگٹ بناتی ہے۔
یہ خواہش ہی ہوتی ہے جو بتاتی ہے کہ آپ کامیاب ہوناچاہتے ہیں ،یا دولتمند یا پھر چاہے جانا چاہتے ہیں یا کسی کو چاہنا چاہتے ہیں ۔ ہر خواہش کا اپنا ایک مقام ہے اپنی ایک قوت ہے۔
یعنی جن لوگوں کی زندگی میں اہداف متعین ہوتے ہیں اور وہ پر عزم ہوتے ہیں ان کی سوچ اور فکر ہر وقت ان کا ساتھ دیتی رہتی ہے دلچسپی ہو یا ہوشیاری یا پھر یکسوئی دبے پاؤں خواہش کے پیچھے چلی آتی ہیں اور وہ لوگ آگے بڑھتے رہتے ہیں اس کے برعکس جو لوگ بغیر اہداف اور عزائم کے ہوتے ہیں وہ اپنی سوچ اور الجھنوں میں گمراہ رہتے ہیں۔
بس یوں سمجھ لیجیئے کہ جب تک ہمارے اندر کسی چیز کو سیکھنے، اسے یاد رکھنے یا پانے کی خواہش نہیں ہوگی ۔ حافظے کے دیگر دوست ہماری مدد نہیں کر پائیں گے۔
یہ خواہش کیسے اُبھرے گی۔ آپ کیسے جانیں کہ آپ کی خواہش کیا ہے….؟
اس کے لئے پچھلے باب میں بیان کردہ مائنڈفلنیس چار سات آٹھ بریدھنگ کی کی مشق یاداشت کے لئے بہترین ثابت ہوتی ہے۔

 

مائنڈ فلنیس کے چار اصول

 

جب ہم اپنے دوست اور دشمن کو جان لیتے ہیں تو ہمارے لئے ان دشمنوں سے بچاؤ اور دوستوں سے قربت کے اصول بنانا اور سمجھنا آسان ہوجاتاہے۔
ریسرچز کی بنیاد پر ماہرین نے حافظے کو ترقی دینے کے چاراصول بتائے ہیں، جن کی مشق کر کے آپ اپنے حافظے کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔

  1. ….صحیح تصور قائم کرنا
  2. ….تعلق پیدا کرنا
  3. ….حواس سے کام لینا
  4. ….ذہن میں کسی چیز کو متحرک رکھنا

صحیح تصور قائم کرنا

سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم اس پہلے مرحلے پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیں تو باقی سارے مرحلے خود بخود باآسانی طے ہوتے چلے جائیں گے۔ عمومی مائنڈ فلنیس کی مشقوں کی بنیاد یہی وہ پہلا اصول ہے۔
ریسرچز بتاتی ہیں کہ انسانی دماغ مسلسل خیالات کی رو کو جذب کرتا رہتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ہم خود کو ان خیالات میں الجھا لیتے ہیں۔ کبھی ماضی کبھی حال اور کبھی مستقبل میں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کے دماغ میں کسی چیز کا جتنا زیاد ہ واضح تصور ہوگا، اسی قدر زیادہ مدت تک وہ آپ کے ذہن میں محفوط رہے گا۔ اس لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آپ اپنے دماغ میں جو کچھ بھی تصور قائم کرنا چاہیں وہ نہایت واضح اور صحیح ہو۔ تاکہ اس کا گہرا نقش آسانی سے قائم ہو سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے دماغ کو بےجاخیالات اور سوچوں سے آزاد رکھیں۔
یہاں آزاد رکھنے سے مراد یہ ہے کہ فطری طور پر مسلسل آنے والے خیالات یا بے سروپا سوچوں میں خود کو الجھانے سے دور رکھیں۔ انھیں آنے دیں اور جانے دیں۔ جیسا کہ ہم مائنڈ فلنیس بریدھنگ میں بتاتے رہے ہیں۔

تعلق پیدا کرنا 

ہمارے حافظے میں بہت سی ایسی چیزوں کی تصویریں موجود ہیں جنہیں ہم اپنی زندگی میں دیکھ چکے ہیں۔ ان تمام تصویروں نے دماغ میں ا پنے لیے مستقل جگہیں پیدا کر لی ہیں۔ جب ہم کوئی نئی چیز اپنے حافظے میں لانا چاہتے ہیں تو اس کی تصویر بھی قائم ہو جاتی ہے لیکن یہ بہت ہلکی ہوتی ہے۔
اگر ہم اس تصویر کا تعلق کسی ایسی تصویر سے پیدا کریں جو ہمارے ذہن میں پہلے سے موجود ہے تو اس کا نقش مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر جب ہم کوئی فون نمبر یا ایڈریس یاد کرنا چاہتے ہیں تو اس کا کوئی کوڈ ورڈ رکھ لیتے ہیں یا کوئی نشانی بنالیتے ہیں۔ اب اگر ہم وہ نمبر بھول بھی جائیں تو اس نشانی سے ہمیں یاد کرنے میں مدد مل جاتی ہے۔ اور مزے کی بات جب وہ نشانی سامنے آتی ہے ہمیں وہ نمبر بھی یاد آجاتا ہے ۔ یعنی جتنا زیادہ اس کے دہرانے کا عمل ہوتاہے۔ ا تنا زیادہ اس کانقش گہر اہوتا ہے۔ یہی ہے اصل میں تعلق کا قائم کرنا۔

 

حواس سے کام لینا 

ہمارا ذہن ماحول کو یاد رکھتا ہے۔
اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ پرسوں آپ نے کیا کھایا تھا تو آپ کو جواب دینے میں کم سے کم دو منٹ تو لگیں گے۔ امکان ہے کہ اس سے بھی زیادہ لگ سکتے ہیں۔ اب ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنی سالگرہ پر کیا پکوان بنوائے تھے۔ تو جھٹ جواب حاضر ہوگا۔چکن کڑھائی ، بار بی کیو ، پیزا اور چاکلیٹ کیک وغیرہ وغیرہ ۔ یہ تجربہ ابھی کے ابھی کرکے دیکھ لیجئے۔ ریسرچ سے ثابت ہے کہ ہمارا ذہن ان واقعات و حقائق کو کبھی فراموش نہیں کرتا جو کسی خاص واقعے سے منسوب ہوں یا پھر مختلف یا عجیب یا انوکھے ہوں۔
ایک ریسرچ میں چنداسٹوڈنٹس کو کچھ مشکل چیزیں نیند کی حالت میں یاد کرائی گئی اور ماحول میں گلاب کی خوشبو بسا دی گئی۔ یعنی وہ اسٹوڈنٹس جب یاد کر رہے تھے تب ماحول میں گلاب کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
جب کچھ دنوں بعد جاگتے ہوئے گلاب کی خوشبو سونگھائی گئی تو ان اسٹوڈنتس کو وہ تمام چیزیں یاد آگئیں جو انہیں نیند کی حالت میں یاد کروائی گئی تھیں۔ اس کا مطلب ہے ہمارا ذہن ہمارا شعور ماحول کو یاد رکھنے کی دلچسپ صلاحیت رکھتا ہے۔
بہرحال یہ ایک الگ تفصیل طلب موضوع ہے جسے ہم نے آپ کے لئے مختصرا بیان کیا ہے ۔ اس لئے ماہرین کہتے ہیں کہ جن حقائق کو ہم اپنے ذہن میں محفوظ رکھنا چاہتے ہوں ان کے لیے اپنے تمام احساسات کو بیک وقت متوجہ کرنے کی کوشش کیجئے۔ مائنڈ فلنیس کا اصول ہے کہ اپنی بھرپور توجہ اس چیز یا کام پر مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ اس ماحول کو بھی ذہن میں رکھنے کی عادت ڈالئے۔

 

ذہن میں کسی چیز کو متحرک رکھنا 

متحرک چیزیں ہمیں جلد متوجہ کرتی ہیں۔جن بھی چیزوں کو یاد رکھنا ہے انہیں بار بار اپنے ذہن میں متحرک کریں۔ جیسا کہ ہم نے با بار دہرانے کے عمل پر بات کی۔ دہرانے کا سب سے فطری اور آسان طریقہ ہے کہ مخصوص چیزوں کی تصویر کو سامنے رکھا جائے۔ یا پھر انھیں ایسے واقعات سے موسوم کیا جائے جو روزمرہ معمولات کا حصہ ہوں ۔

 

 

مزید رہنمائی کے لئے آپ روحانی ڈائجسٹ کے پتے پر ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ 

 

 

                     (جاری ہے)

تحریر : شاہینہ جمیل

اپریل 2016ء

 

 

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ فُلنیس – 17

   قسط نمبر 17       دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک آپ کی اچھی …

مائنڈ فُلنیس – 16

   قسط نمبر 16       ایک سیانے کا قول ہے : ‘‘پریشانی اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے