کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

(دوسری قسط)
عام حالات میں بھی جب کوئی غیر متوقع بات یا واقعہ رونما ہوجائے تو ہم میں سے اکثر لوگ سخت متحیّر ہوجاتے ہیں، لیکن یہ کوئی عام واقعہ نہ تھا…. اُس کی آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی تھیں وہ ایسا ہرگز نہ تھا کہ صرف متحیّر کردے…. یہ تو کسی کمزور دل انسان کو بے ہوش کردینے کے لئے بھی کافی تھا…. وہ تو اُس وقت اللہ نے اُسے ہمت دی اور وہ اپنے قدموں پر کھڑا رہا…. اُس نے دیوار پر آویزاں تصویر کو پلٹ کر دیکھا کہ موازنہ کرسکے…. دیوار پر آویزاں تصویر مجسم ہوکر اُس کے سامنے آگئی تھی…. اور جب اُس کی نظر میں دروازے پر پلٹیں تو اندھیرے کی سیاہ چادر میں گم ہوگئیں…. اُسے ایک اور جھٹکا لگا…. اُسی اندھیرے کی چادر پر ابھی چند لمحے قبل روشنیاں سی بکھر رہی تھیں…. اور اب وہاں کچھ بھی نہ تھا…. اُس کی پیشانی پسینے سے بھیگ چکی تھی…. حالانکہ یہ سردی کا موسم تھا…. وہ کمرے سے باہر نکل کر دہلیز پر کھڑا کچھ دیر اِدھر اُدھر دیکھتا رہا…. پھر ہمت کی اور یہ سوچ کر کہ شاید چوکیدار کچھ بتاسکے، اُس کے کمرے کے قریب جاکر کھڑکی سے اندر جھانک کریہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ جاگ رہا ہے یا سورہا ہے…. ہوا بہت تیز چل رہی تھی…. کھڑکی کے پردے لہرائے تو چوکیدار کے کمرے کا منظر دکھائی دیا…. وہ نماز پڑھ رہا تھا…. اُسے شدید حیرت ہوئی کہ ویسے ہی چوکیدار کا قد بہت لمبا تھا…. اس قدر چھوٹے سے کمرے میں جہاں ایک چارپائی، اسٹینڈ فین اور ایک لوہے کی الماری کے بعد مزید کسی سامان رکھنے کی جگہ تک نہ تھی اور چوکیدار سارا دن باہر کرسی پر بیٹھا رہتا تھا یا پھر شام کو گھاس پر چادر بچھاکر لیٹ جاتا…. آخر پونے سات فٹ لمبے آدمی کو سجدہ کرنے کے لئے پانچ فٹ کی گنجائش تو درکار ہوگی؟…. اور اُس کے کمرے میں تو دو تین فٹ کی جگہ بھی بمشکل ہی نکلتی ہوگی…. آخر اتنا لمبا تڑنگا آدمی کیسے اتنی کم جگہ میں انتہائی اطمینان کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہے….
اُس کا ذہن بُری طرح اُلجھ گیا تھا…. ایک خیال یہ آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ کمرے سے باہر نماز ادا کر رہا ہو اور دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہورہا ہو کہ جیسے وہ کمرے کے اندر کھڑا ہے…. اسی شش وپنج میں وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا مین گیٹ کی طرف بڑھنے لگا…. اُس طرف چوکیدار کے کمرے کا دروازہ بھی کھلتا تھا…. کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا…. یاالٰہی یہ کیا معاملہ ہے!…. وہ دوبارہ ہمت کرکے کھڑکی کے قریب پہنچا…. اب اُس نے کھڑکی کے بالکل قریب کھڑے ہوکر کمرے کے اندر جھانکنے کی کوشش کی…. اِس مرتبہ اُس نے جو کچھ دیکھا اُسے دیکھ کر تو اُس کے ہاتھ پیر سُن ہونے لگے…. دس ضرب سات مربع فٹ کے اس کمرے میں تونمازیوں کی صفیں بچھی ہوئیں تھیں…. چوکیدار عقابل خان امامت کر رہا تھا….
عقابل خان!….
جب اُس نے شیراز کی زبان سے پہلی بار یہ نام سنا تو بے اختیار کہہ دیا کہ ’’یہ کیسا نام ہے؟!‘‘
’’امارے دادا نے رکااے!…. تم کو کوئی اعتراض اے؟‘‘…. چوکیدار نے، جو اُس وقت بیٹھا حقے کی چلم صاف کر رہا تھا، مُڑ کر فوراً جواب دیا تھا….
’’عقابل خان!‘‘…. اُس نے زیرِ لب دُہرایا تو شیراز اُسے ہاتھ پکڑ کر آگے لے گیا تھا….
’’شش!…. یار تمہیں کیا ؟…. وہ جو چاہے اپنا نام رکھے!…. یہ پہاڑی لوگ بہت جذباتی ہوتے ہیں…. اور تم نے دیکھا نہیں اُس کو کتنا بُر الگا ہے‘‘….
اور اِس وقت کھڑکی سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا…. اُس کو دیکھنے کے بعد اُسے یہ نام کچھ زیادہ ہی عجیب محسوس ہورہا تھا….
عقابل خان!….پہلے تو کبھی یہ نام نہیں سُنا…. لیکن پہلے کبھی ایسا منظر بھی تو نہیں دیکھا!…. اُس نے سوچا…. پھر اُس نے دوبارہ کمرے کے اندر توجہ مرکوز کی…. عقابل خان کا قد اُس لمحے پندرہ فٹ سے بھی زیادہ لمبا محسوس ہوا…. مقتدیوں کے قد بھی کم وبیش اتنے ہی تھے…. سب سے چھوٹا قد بھی گیارہ بارہ فٹ سے کیا کم ہوگا…. اُس کی نگاہ بے اختیار کمرے کی چھت کی جانب گئی….
اُف خدایا!….یہ چوکیدار کا کمرہ ہے یا اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد؟….
کم بیش دس ضرب سات مربع فٹ کے کمرے کا اندرونی منظر اس قدر وسیع وعریض تھا جیسے کوئی بلند وبالا وسیع عریض ہال ہو….
کیا وہ اس وقت کوئی تھری ڈی فلم تو نہیں دیکھ رہا…. اُس نے فوراً اپنی آنکھیں ملیں…. اب اُس پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی تھی…. وہ تقریباً بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں آیا…. جلدی جلدی دروازے کی چٹخنی چڑھائی اور بستر پر گرگیا…. اُس کے جسم پر لرزہ طاری تھا…. جتنی سورتیں اُس وقت یاد آسکیں…. پڑھ ڈالیں…. پھر پانی پر پھونک ماری اور غٹاغٹ پی گیا…. نیند اُس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی…. باہر بہت تیز ہوا چل رہی تھی…. شائیں شائیں کی آوازیں اور سوکھے پتوں کی کھڑکھڑاہٹ…. اُس کے خوف کو بڑھا رہی تھیں….
پھر آہستہ آہستہ اُس نے خود کو ترغیب دینی شروع کی کہ اُس نے کچھ نہیں دیکھا…. جو دیکھا وہ اُس کی آنکھوں کا دھوکہ تھا…. اگر اِس کوٹھی میں جیسا کہ شیراز نے بتایا تھا، غیبی مخلوق جنات آباد بھی ہیں…. تو ابھی تک کوئی ایسی بات تو نہیں ظاہر ہوئی جس سے یہ کہا جاسکے کہ اس مخلوق کو اُس کا یہاں رہنا ناگوار گزرا ہے…. پھر خوفزدہ ہوکر خود کو ہلکان کرنے سے کیا حاصل؟…. جب تاریکی میں بسنے والی مخلوق کو کوئی پریشانی نہیں ہے تو وہ بھی ایسی کوئی بات نہیں کرے گا جس سے کسی کو پریشانی ہو…. ورنہ اتنے بڑے شہر میں وہ کہاں جائے گا؟…. اگر کرائے کے مکان میں رہتا ہے تو پھر گائوں میں آس لگائے بیٹھی ماں جی کو خرچہ کیسے بھیجے گا؟…. اُس کی بہن کی شادی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟…. اُس کے ساتھ ایک مسئلہ تھوڑا ہی تھا…. بہت سے مسائل تھے…. اگر واقعتا کوئی پریشانی کی بات ہوئی تو پھر فیصلہ کیا جائے گا…. ابھی ازخود پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں….اُس نے دل میں کہا….
اس خود ترغیبی عمل سے اُس کے ذہن کو بہت سکون ملا اور اُس کی گھبراہٹ بھی کافی کم ہوئی…. اُس نے تین بار آیت الکرسی پڑھی…. اپنے اوپر دم کیا اور کمبل اُوڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا…. نیند اب بھی اُس کی آنکھوں سے دور تھی…. لیکن دن بھر کی تھکن کی وجہ سے اُس کا سر بھاری ہو رہا تھا اور پھر آہستہ آہستہ غنودگی کی کیفیت بڑھتی چلی گئی…. اور وہ گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا….
صبح اُس کی آنکھ کھلی تو فجر کی اذان ہو رہی تھی…. کافی دیر تک وہ بے سُدھ سا پڑا رہا…. اُس کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا…. ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے رات بھر وہ پتھر توڑتا رہا ہو یا پھر کسی دوڑ میں حصہ لیا ہو…. لیکن مکمل بیدار ہونے سے پہلے نیم بیداری اور نیم غنودگی کی ملی جلی کیفیت کے اثرات ذہن پر ابھی روشن تھے….
وہی خوبرو دوشیزہ اُس کے سرہانے بیٹھی تھی…. اُس نے اپنی زلفوں میں موتیوں کے ہار باندھ رکھے تھے…. موتیا کی تیز خوشبو تو اِس وقت بھی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی اور مکمل بیدار ہونے کے بعد بھی اُسے واضح محسوس ہو رہی تھی….
یہ وہی لڑکی تھی جو اُسے رات کمرے کے دروازے پر کھڑی نظر آئی تھی…. وہ کمرے میں کیسے آگئی؟…. کمرہ تو اندر سے بند ہے…. اُس نے دوازے پر ایک نگاہ ڈالی تو چٹخنی لگی ہوئی تھی…. کمرے کی دونوں کھڑکیاں بھی بند تھیں اور کمرے میں داخلے کا اور کوئی راستہ بھی نہ تھا….
پھر تکیہ کے قریب اُس کی نظر گئی تو وہ تیزی سے اُٹھ کر بیٹھ گیا…. موتیے کی چند کلیاں بکھری ہوئی تھیں…. کہیں یہ اُس کا وہم تو نہیں؟…. اُس نے وہ کلیاں اُٹھائیں اور سونگھ کر تسلی کی…. نہیں یہ میرا وہم کیسے ہوسکتا ہے…. پھر اُس نے ذہن پر زور ڈالا تو اُسے یاد آیا کہ وہ لڑکی سرہانے بیٹھ کر اُس کے بالوں میں دیر تک اُنگلیاں پھیرتی رہی تھی….
اُس کے ہاتھوں کا لمس….
اُس کی محبت بھری نگاہیں….
اُس کی مہکی مہکی سانسیں….
اُس کی بے قراریاں…. اور خودسپردگی….
سب کچھ تو اُس کے ذہن پر نقش تھا!….
کیا یہ خواب تھا؟….
اگر یہ خواب تھا تو موتیے کی کلیاں کہاں سے آئیں؟…. اُس کے بالوں میں اُس کی نازک انگلیوں کے لمس کا احساس ابھی تک تازہ کیوں ہے؟….
اُس کی بہکی نگاہیں اور مہکی سانسوں کا احساس!….
یہ سب کیا ہے؟….
نہیں یہ خواب کیسے ہوسکتا ہے!….
لیکن یہ بیداری بھی تو نہیں!….
اُس نے دروازہ کھولا…. ٹھنڈی ہوا کا تیز جھونکا کمرے کے اندر آیا…. کمرے کے باہر دہلیز پر بھی موتیے کی چند کلیاں پڑی تھیں…. اُس نے جھک کر اُٹھالیں…. کچھ دیر وہیں کھڑا کلیوں کو سونگھتا اور اِدھر اُدھر دیکھتا رہا….
یہ عجیب بات تھی کہ اب اُس کے اندر حیرت واستعجاب تو موجود تھا لیکن خوف کا کوئی نام ونشان تک نہ تھا….
’’میاں عمر!…. جو بھی ہے…. خوبصورت ہے‘‘…. اُس نے زیرِ لب کہا…. پھر سوچنے لگا کہ یہ مجھے کیا ہوگیا ہے؟…. میں اپنے کھلنڈرے دوستوں کی طرح کیوں سوچ رہا ہوں!….
پھر اُس نے شاور لیا…. اور کپڑے بدل کر نماز فجر ادا کی….
اُس کی ماں جی کہا کرتی تھیں کہ ’’صبح صبح ایک مرتبہ الحمد شریف اور تین مرتبہ قل ھو اللہ شریف پڑھ کر اللہ والوں کو بخش دیا کر…. دن بھر اگر کوئی مشکل آئے گی تو یہ اللہ والے مدد کریں گے‘‘….
وہ ہنستے ہوئے کہا کرتا….’’ماں جی!…. کیا یہ لالچ نہ ہوا؟…. ہم بزرگوں کو ایصالِ ثواب اس نیت سے کریں کہ وہ ہماری مدد کریں گے…. ماں جی! یہ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن کو یاد رکھیں…. جو لوگ ایصالِ ثواب نہیں کرتے کیا اُن کی مدد نہیں ہوتی ہوگی؟‘‘….
’’بس کر پُتر، بس کر!…. چار جماعتیں کیا پڑھ گیا…. عقل کی پھرکنی گھمانے لگتا ہے ہر وقت…. یہ کتابیں تجھے نہیں بتائیں گی کہ اللہ والوںکے پاس کیا طاقت ہوتی ہے؟‘‘….
’’اچھا ماں جی! جیسا تیرا حکم!…. بس اب خوش!؟…. اب تو ایک کپ چائے پلادے‘‘….
’’شہر کا اثر آگیا نا تیرے اوپر…. چاء پی پی کر رنگ کالا کرلیا…. نمکین لسی پیا کر….سواد بھی ملے گا اور صحت بھی‘‘….
نماز ختم کرکے دُعا مانگنے کے لئے اُس نے ہاتھ اُٹھائے تو ماں جی کی نصیحت یاد آگئی…. اُس نے سورئہ فاتحہ اور سورئہ اخلاص پڑھ کر تمام اولیاء اللہ کو ایصالِ ثواب کیا اور دعا مانگی….
یا اللہ!…. اس جگہ پہلی ہی رات میں میرے ساتھ جو کچھ پیش آیا…. اُس کی تشریح اور توجیہہ، میں تو کیا شاید ترقی یافتہ ملک کاکوئی سائنسدان بھی نہ کرسکے…. میں یہ جگہ چھوڑنا نہیں چاہتا…. جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا اور جو کچھ آئندہ پیش آنے والا ہے…. سب میں میرے لئے بھلائی کا راستہ نکالئے…. اگر اس دوران میرے سامنے مشکلات کھڑی ہوں تو اپنے دوستوں کے ذریعے میری مدد فرمائیے….
پھر آمین کہہ کر اُس نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے….
یہاں سے اُس کا آفس بس اتنا دور تھا کہ چہل قدمی کرتے ہوئے بھی چلا جائے تو بھی زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ منٹ کا وقت صرف ہو…. ناشتہ اُسے ہوٹل پر کرنا تھا…. اُس کے پاس ابھی خاصا وقت تھا…. کیوں نہ چوکیدار کے پاس بیٹھ کر وقت پاس کیا جائے….یہ سوچ کر وہ مین گیٹ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ چوکیدار کوئلے کی بوری گدھا گاڑی سے اُتر وا رہا ہے…. وہ سوچ میں پڑگیا…. ابھی پرسوں جب وہ شیراز کے ساتھ آیا تھا تب بھی چوکیدار کوئلے کی بوری اُتر وا رہا تھا….اور آج اتنی صبح صبح…. آخر یہاں اتنے کوئلے کی کیا ضرورت ہے؟…. پھر اُس کی نگاہ چوکیدار کے حقے پر گئی…. لیکن کیا ایک آدمی کے حقے میں دو دن کے اندر ایک من کوئلہ خرچ ہوسکتا ہے؟….
پھر اُس نے اپنے ذہن کو جھٹک دیا…. یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی حقیقت جو کچھ بھی ہے ضرور اُس کے سامنے آئے گی…. اس لئے خود سے کچھ کرید کرنے کی ضرورت نہیں!….
’’خان بابا!…. السلام علیکم‘‘…. اُس نے آگے بڑھ کر چوکیدار عقابل خان کو سلام کیا جو کوئلے کی بوری اپنے کمرے کی پچھلی دیوار کے ساتھ رکھ رہا تھا….
’’والیکم سلام صیب…. آپ ٹیک اے‘‘…. عقابل خان کا چہرہ ہمیشہ بے تاثر ہی رہتا تھا…. لیکن اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی کہ فوراً دوسرے کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی تھی….
’’اللہ کا کرم ہے…. خان بابا!…. آپ نے ناشتہ کرلیا؟…. اگر نہیں کیا ہے تو چلیں آج میرے ساتھ ناشتہ کریں‘‘….
’’نئیں صیب…. مہربانی…. ام نے ناشتہ کرلیا اے…. بیٹھو صیب کدھر جاتا ہے‘‘…. عقابل خان نے اُسے اپنی کرسی پیش کی اور اپنے کمرے سے نارنگیوں کا ایک ٹوکرا اُٹھا لایا…. ’’صیب…. یہ نارنگی کائو…. یہ ناگپور کی نارنگی ہے‘‘….
’’ناگپور کی؟…. یہ تو شاید بھارت کا شہر ہے!‘‘….
’’ہاں…. ابھی یہ اُدر اے۔۔۔ ۔ اُس کو اُدر اُورنج سٹی کہتے ہیں‘‘….
’’ناگپور میں تمہارا کون رہتا ہے؟‘‘…. اُس نے نارنگی کے چھلکے اُتارتے ہوئے پوچھا….
’’اُدر تو امارا سب کچھ اے!‘‘…. عقابل خان نے گہری سانس لے کر کہا
’’یعنی تمہارے بیوی بچے ناگپور میں رہتے ہوں گے؟‘‘….
’’نئیں صیب…. وہ تو اِدر ہی اے…. اُدر امارا بابا رہتا ہے….بابا تاج الدینؒ!‘‘….
’’بابا تاج الدین؟…. یہ کون ہیں؟‘‘….
’’یہ اللہ کا دوست اے‘‘….
’’کیا وہ زندہ ہیں؟‘‘
’’اللہ کا دوست مرتا نئیں اے…. زندہ رہتا اے…. بس پردہ کرلیتا ہے‘‘….
’’صحیح بات ہے….یہ نارنگیاں کون لایا؟‘‘….
’’امارا دوست اُدر سے آیا تھا…. وہ لایا‘‘….
اُس نے دو نارنگیاں کھائیں…. بہت ہی لذیذ تھیں اور خوشبودار بھی…. پھر اُس نے اُٹھتے ہوئے کہا…. ’’اچھا خان بابا…. نارنگیوں کا شکریہ…. اب میں چلتا ہوں‘‘….
اُس نے راستے میں ایک ہوٹل پر ناشتہ کیا…. پھر نیوز پیپر کے اسٹال پر کھڑے ہوکر اخبارات کی شہہ سرخیوں پر نگاہ دوڑائی…. اور پھر مٹر گشت کرتے ہوئے آفس پہنچ گیا…. آفس کا چپڑاسی اُس وقت آفس کھول رہا تھا…. اُس نے جاتے ہی اپنا کمپیوٹر آن کیا…. میل چیک کیں…. اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا…. ایک ایک دو دو کرکے اسٹاف کے لوگ آتے گئے آفس میں چہل پہل شروع ہوگئی….
ثریا اُس کے کیبن میں کسی کام سے آئی تو مسکراتے ہوئے بولی…. ’’کیوں عمر صاحب! آپ آج جلدی اس لئے آئے تھے کہ ہم سے چوری چوری خوب نارنگیاں کھاسکیں؟‘‘….
’’نہیں میں نے تو کوئی نارنگی نہیں کھائی…. اگر کھائی ہوتی تو یہاں اُس کی باقیات بھی تو ہوتیں…. اور میں اکیلے اکیلے کیوں کھانے لگا؟‘‘….
’’بھئی یہ تو چھوڑیں…. لیکن نارنگی تو آپ نے کھائی ہے یہاں بیٹھ کر‘‘…. پھر ثریا نے قریب سے گزرتے ہوئے اسلم کو آواز دی ’’ارے اِدھر آئو ذرا‘‘….
’’ذرا نہیں…. لو میں پورا آگیا‘‘…. اسلم دانت نکالتے ہوئے بولا….
’’تمہیں یہاں نارنگیوں کی….‘‘ ابھی ثریا اپنا جملہ پورا کرتی کہ اسلم بیچ میں بول پڑا ’’ارے بھئی عمر!…. کیا ماںجی نے گائوں سے نارنگیوں کا ٹوکرا بھیجا تھا…. لگتا ہے صاحب! پورا ٹوکرا ڈکار گئے ہیں…. کیوں ثریا؟‘‘….
’’آخر تم لوگوں نے نارنگیوں کی رٹ کیوں لگا رکھی ہے…. میری بات تو سنو…. بھئی میں نے کوئی نارنگی وارنگی نہیں کھائی‘‘ عمر بالآخر جھلا گیا….
’’پھر یہ نارنگی کی تیز خوشبو!…. چہ معنی دارد؟‘‘….
اب تو اُس کی کیبن کے ساتھ کئی لوگ اکٹھا ہوگئے…. سب کی زبان پر ایک ہی لفظ تھا….
نارنگیاں!….
’’بھئی کیا مصیبت ہے؟…. مجھے کام کرنے دو…. یہ اسائنمنٹ آج ہی مجھے مکمل کرنا ہے‘‘….
’’ہاں…. لیکن …. پہلے‘‘…. اسلم بولا
’’نارنگیاں‘‘…. اور یہ لفظ تو سب نے کورس کے انداز میں ادا کیا…. شور سُن کر ایم ڈی صاحب جو کسی کام سے اُدھر آئے تھے، اِس طرف متوجہ ہوگئے…. خاصے بذلہ سنج انسان تھے…. وہ عمر کی کیبن کی طرف بڑھے تو سب اِدھر اُدھر ہونے لگے….
’’ٹھہرو…. ٹھہرو بات کیا ہے؟…. ہمیں بھی تو پتہ چلے؟‘‘…. اُنہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
’’سر!…. وہ…. نارنگیاں!‘‘…. ثریا نے ہکلاتے ہوئے کہا
’’عمر…. کیوں بھئی…. ماں جی نے گائوں سے نارنگیاں بھجوائی ہیں…. اس سوغات میں ہمیں شریک نہیں کروگے‘‘….
’’سر آپ بھی!‘‘…. عمر نے ماتھے پر اپنا ہاتھ مارا…. تو اُسے احساس ہوا کہ اُس کے ہاتھوں سے نارنگی کی خوشبو کی لپٹیں نکل رہی ہیں…. اور اُسے یاد آیا کہ اُس نے ابھی آدھا گھنٹہ پہلے ہی تو عقابل خان کی دی ہوئی نارنگیاں کھائی تھیں….
جس طرح عقابل خان غیر معمولی تھا…. شاید کوئی غیبی مخلوق ہو…. شاید جن!؟…. ممکن ہے اُس کی دی ہوئی نارنگی بھی اُسی کی طرح غیر معمولی خصوصیات کی حامل رہی ہوں؟….۔ لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات کی کسی کو بھنک بھی پڑے…. اس کا ذہن بہت اسپیڈ کے ساتھ کام کر رہا تھا….
’’سر وہ بات یہ ہے کہ …. کل چھٹی تھی…. میں نے سوچا کہ…. اورنج جوس بنایا جائے…. اورنج ایسنس کی شیشی کھولتے وقت سارا ایسنس میرے ہاتھوں پر گرگیا…. کتنی ہی مرتبہ کل سے ہاتھ صابن سے رگڑ رگڑ کر دھوچکا ہوں لیکن خوشبو ہے کہ جاتی ہی نہیں‘‘….
’’ہاتھ تو تم نے دھوئے…. اور پیچھے یہ لوگ تمہارے پڑگئے…. حالانکہ ہاتھ دھونے کے بعد تمہیں اِن کے پیچھے پڑنا چاہئے تھا…. ویسے آپس کی بات ہے…. گائوں سے اگر ماں جی نارنگیاں بھیجیں تو ہمیں نہ بھولنا‘‘…. ایم ڈی صاحب مسکراتے ہوئے چلے گئے…. باقی لوگ بھی اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے….
اُس نے ایک لمبی سانس کھینچی اور خدا کا شکر ادا کیا کہ بات آسانی سے ٹل گئی…. اس نے یہ بھی شکر ادا کیا کہ آج شیراز آفس نہیں آیا تھا…. ورنہ اُس کا پول ضرور کھل جاتا…. اُسے تو معلوم تھا کہ وہ کل کتنا مصروف رہا تھا…. اورنج جوس بنانے کا وقت اُس کے پاس کہاں سے آتا؟….
’’یا الٰہی!…. مجھ پر کرم کرنا‘‘ …. اُس نے دل ہی دل میں دعا کی اور پھر اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگیا…. اسائننمنٹ مکمل کرکے اُس نے پرنٹ آئوٹ نکالا…. کاغذات فائل میں سیٹ کرکے چپڑاسی کے ذریعے ایم ڈی صاحب کو بھجوادیا….
اب اُس کے پاس فوری نوعیت کا کوئی کام نہیں تھا…. چپڑاسی نے اُسے واپس آکر بتایا کہ ایم ڈی صاحب کچھ کلائنٹس کے ساتھ اہم میٹنگ میں مصروف ہیں…. لہٰذا اُس کا اسائنمنٹ آج تو کسی بھی صورت چیک نہیں ہوسکتا…. لہٰذا اب اُس کے پاس فرصت ہی فرصت تھی…. کچھ دیر تک وہ کمپیوٹر پر اپنی فائلوں کی سیٹنگ کرتا رہا، پھر اُس نے کمپیوٹر بند کردیا…. آفس کا ایک چکر لگایا…. سب ہی بہت مصروف تھے لہٰذا کسی کے ساتھ گپ شپ ممکن نہ تھی…. پھر اُسے یاد آیا کہ وہ کام میں اِس قدر مگن ہوگیا تھا کہ لنچ کرنا ہی بھول گیا…. وہ آفس کے ڈائننگ روم میں پہنچا تو اُس وقت خالی پڑا تھا…. کچن میں جھانکا تو دین محمد چپڑاسی ہیڈفون سر پر لگائے گانے سُن رہا تھا…. اُس کو دیکھا تو ہڑ بڑا کر جلدی سے ہیڈ فون سر سے اُتارا اور کھڑا ہوگیا ’’عمر صاحب! آپ نے لنچ نہیں کیا تھا…. کیا کھائیں گے؟…. میں بھاگ کر لے آتا ہوں‘‘….
’’بسکٹ ہوں تو چائے کے ساتھ دے دو…. اور سنو آفس ٹائم میں گانے مت سنا کرو…. ڈی جی ایم صاحب نے بیل بجائی اور تم سن نہیں سکے تو ڈانٹ بھی پڑسکتی ہے تم تو اُنہیں جانتے ہو…. وہ ایم ڈی صاحب
کی طرح نہیں ہیں…. سخت دماغ آدمی ہیں‘‘….
’’جی صاحب!…. آئندہ خیال رکھوں گا…. آپ ڈائننگ روم میں بیٹھئے میں چائے لاتا ہوں‘‘….
اُس نے ڈائننگ روم میں ایک کرسی گھسیٹی اور ٹیبل پر کہنیاں ٹکاکر بیٹھ گیا…. کچھ دیر بعد دین محمد چائے اور بسکٹ لے آیا…. وہ سوچنے لگا کہ آخر آج اُسے بھوک کیوں نہیں لگ رہی ہے…. صبح ناشتے میں دو سینڈوچ لئے تھے اور ایک کپ چائے ہی تو پی تھی…. اگر وہ اپنے شہر جھنگ میں ہوتا تو کم ازکم دو پراٹھے تو ناشتے میں کھانے ہی پڑتے ورنہ ماں جی پیڑھی سے اُٹھنے ہی نہ دیتیں…. کراچی آکر اُس کی خوراک کم ہوگئی تھی لیکن اب ایسی بات بھی نہ تھی کہ دوپہر کو اُسے بھوک ہی نہ لگے بلکہ عموماً اُسے ہی سب سے پہلے بھوک لگا کرتی تھی اور سلمیٰ اور شیراز جو آفس میں کھائو پیر مشہور تھے…. کے بعد تیسرے نمبر پر وہی ڈائننگ روم میں داخل ہوتا تھا…. چاہے کام کم ہو یا زیادہ…. لیکن آج تو اُس کو بھوک ہی نہ لگی….ثریا اور اسلم نے اُس سے پوچھا تھا لیکن اُس نے جواب میں کہا کہ تم چلو میں یہ مکمل کرکے آتا ہوں….
عقابل خان کی نارنگیاں!…. اُسے پھر یاد آکئیں….
لذیذ اور خوشبودار!…. لیکن اُن میں ایسی کون سی خاص بات تھی کہ صرف دو نارنگیاں کھانے سے دن بھر کی کیلوریز پوری ہوگئیں…. ممکن ہے ناگپور کی نارنگیوں میں واقعی اتنے وٹامنز ہوتے ہوں….
پھر اُس کا دھیان …. رات والی لڑکی کی طرف چلاگیا…. اور اُس کے جذبات کا دھارا بدل گیا…. اُس کے خیال کی رو میں ایک ترنگ سی پیدا ہونے لگی….
کیا اُسے اُس ماورائی لڑکی سے محبت ہوگئی ہے؟…. پہلی ہی نظر میں؟…. وہ خود سے سوال کرتا رہا….

(جاری ہے)

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے