کشورِ ظلمات ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

(تیسری قسط)
وہ آفس کی بلڈنگ سے باہر آیا تو آسمان پر کالی گھٹا اُمڈتی چلی آرہی تھی…. وقفے وقفے سے بادلوں کی گڑگڑاہٹ بھی سنائی دے رہی تھی…. حبس کا زور ٹوٹ چکا تھا اور تیز ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں….شاید دور کہیں بارش ہو رہی تھی…. نرسری کے کمرشل ایریا میں واقع اُس کے آفس سے کوٹھی تک کوئی پندرہ منٹ کا واکنگ ڈسٹینس ہوگا…. خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ خراماں خراماں چلا جارہا تھا…. سڑک کے دونوں اطراف ایستادہ درختوں پر کھلے پھول نہایت دلکش منظر پیش کر رہے تھے…. درختوں کی جھومتی شاخیں بھی گویا کالی گھٹاؤں کو دیکھ کر خوشی کے گیت گارہی تھیں…. مین روڈ سے ذیلی سڑک پر مڑتے ہی اِکا دُکا بوندیں گرنے لگی تھیں…. حدِنگاہ تک یہ سڑک بالکل سنسنان پڑی تھی…. ابھی وہ چند قدم ہی چلا ہوگا کہ تیز بارش شروع ہوگئی…. بارش میں نہانا اُس کو بے حد پسند تھا…. گائوں میں بارش ہوتی تو لڑکے بالے سب ہی شور مچاتے ہوئے میدانوں کا رُخ کرتے…. یہاں کراچی میں تو بارش بھی سوغات سمجھی جاتی ہے۔ لوگ اکثر تو کئی کئی برس اس سوغات کا انتظار کرتے ہیں…. اور پھر جب کبھی کھل کر مینہہ برس جاتا ہے تو شہر کا سارا سسٹم درہم برہم ہوجاتا ہے…. ہفتوں بارش کے اثرات باقی رہتے ہیں…. اپنی فطرت کے برعکس آج وہ خود کو بھیگنے سے بچا رہا تھا…. اس لئے کہ اُس کے جوتوں کا واحد جوڑا خراب ہوسکتا تھا…. وہ جس طرف چل رہا تھا وہاں سہانجنہ، گل مہر اور سفیدے کے درخت لگے تھے جو اتنے گھنے نہ تھے کہ تیز بارش کی بوندوں کو روک سکیں۔۔۔ ۔ دوسری طرف کچھ فاصلے پر برگد کا درخت نظر آیا جو بے حد گھنا تھا…. وہ دوڑتے ہوئے اُس درخت کی طرف بڑھا…. ابھی وہ اُس کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اُسے درخت میں بجلی سی کڑکٹتی نظر آئی….
کہیں آسمانی بجلی تو نہیں گرگئی؟؟!…. اُس نے سوچا…. وہ پلٹنا چاہتا تھا…. لیکن اُس کے قدم من من بھر کے ہوگئے تھے…. وہ نہ چاہتے ہوئے بھی درخت کی طرف بڑھتا جارہا تھا…. درخت کے تنے سے لیکر اوپر آخری شاخ تک دوڑتی ہوئی روشنی کی لہر اب آہستہ آہستہ خدوخال اختیار کرتی جارہی تھی…. اُسے بہت زیادہ خوف محسوس ہورہا تھا لیکن اُس کا جسم اب اُس کے ذہن کے اختیار میں نہیں رہا تھا…. رفتہ رفتہ مزاحمت بھی ختم ہوتی چلی گئی اور وہ کٹھ پتلی کی مانند آگے بڑھتا گیا…. روشنی کے خدوخال اب واضح ہو رہے تھے…. یہ دس بارہ فٹ کا…. لمبا تڑنگا آدمی تھا….
لیکن اُسے آدمی کہنا بھی غلط ہوگا….
پھر کیا تھا!…. نہیں معلوم!….
جب وہ اُ س درخت کے نیچے پہنچا تو اُس کا ذہن بھی غنودگی میں ڈوبتا چلا گیا….۔ مکمل اندھیرا…. اور قبر کا سا سناٹا….
پھر اس اندھیرے میںر وشنی کی ایک کرن داخل ہوئی…. اور کچھ لوگوں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں…. وہ کسی اندھیر کوٹھری میں قید تھا…. اچانک اس کوٹھری کا دروازہ خوفناک آواز کے ساتھ کھلا اور تین آدمی آپس میں کچھ بات کرتے ہوئے داخل ہوئے…. ان تینوں کا قد بھی بارہ پندرہ فٹ سے کیا کم ہوگا…. خوف کی ایک سر د لہر اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی….
کون لوگ ہیں یہ اور مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟!…. ان لوگوں کا لہجہ…. ان کا قد اور ان کی آنکھیں اُنہیں انسانوں سے منفرد کرتی ہیں….
کہیں یہ لوگ!…. جنات کی مخلوق میں سے تو نہیں….
اُف میرے خدا…. میں کس مصیبت میں پھنس گیا….
اب اُسے کوٹھی میں رہائش کے فیصلے پر پچھتاوا ہورہا تھا…. اُس کی ایک غلطی نے اُسے کتنی بڑی مصیبت سے دوچار کردیا تھا….
’’کون ہو تم لوگ اور مجھ سے کیا چاہتے ہو؟…. مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘…. وہ تقریباً چیختے ہوئے بولا….
تینوں کے چہرے سپاٹ تھے…. اُس کی چیخ وپکار سے اُن کے چہروں پر کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں اُبھرسکا…. وہ مسلسل چیختا رہا…. آخر اُن میں سے ایک آگے بڑھا…. ’’شور نہ کرو…. شور کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا…. ہم تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتے…. ہمیں تم سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے…. بس ہمیں اس بات کی ہدایت ہے کہ تمہیں ہر صورت میں زندہ رکھا جائے تمہیں یہاں کیوں لایا گیا ہے اور یہاںسے آگے کہاں لے جانا ہے…. اس بارے میں ہمیں خود بھی کچھ معلوم نہیں ہے‘‘…. ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ باہر سے آنے والی آوازوں نے ان تینوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا….
اس کا مطلب ہے کہ باہر بھی کوئی پہرہ دے رہا ہے….اُس نے سوچا
’’عقابل خان….تم ارماروس سے بات کرو…. ہم اُس کے حکم کے پابند ہیں…. ہم اُس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے‘‘….
’’توپھر مرنے کے لئے تیار ہوجائو‘‘…. یہ تو اپنے چوکیدار عقابل خان کی آواز تھی لیکن یہاں اُس کا لہجہ بالکل صاف تھا….
’’بچائو…. آہ!…. میں مر رہا ہوں‘‘….
تینوں لپک کر باہر جاچکے تھے…. اُس نے اُٹھنے کی کوشش کی لیکن اُس کے ہاتھ پیر بالکل بے جان ہوچکے تھے…. باہر سے لڑائی کی آوازیں آرہی تھیں…. لیکن یہ سب آوازیں نامانوس تھیں،جیسے ہزاروں وولٹ کا کرنٹ تاروں میں دوڑنے سے جس طرز کی آواز پیدا ہوتی ہے یہ اُسی طرز کی آوازیں تھیں لیکن اُس سے زیادہ تیز اور زیادہ خوفناک….
یہ کس قسم کے ہتھیاروں سے لڑ رہے ہیں…. وہ دیکھنا چاہتا تھا…. لیکن اپنی جگہ سے ہلنے سے بھی قاصر تھا…. تھوڑی دیر بعد…. وقفے وقفے سے دو خوفناک چیخیں تیز شعلوں کے ساتھ بلند ہوئیں…. اور عجیب سی بُو پھیل گئی…. یہ عجیب سی بو پہلے سے یہاں موجود تھی لیکن بہت ہی ہلکی…. چیخوں کے بعد یہ بُو اس قدر تیز ہوگئی تھی کہ اس کا سر پھٹنے لگا…. اُسے یاد آیا…. یہ تو گندھک کی بُو تھی…. لیکن آخر یہ کیا معاملہ ہے؟…. اُس کا ذہن اس گھتی کو سلجھانے سے معذور تھا….
پھر عقابل خان اندر داخل ہوا…. اُس کا دایاں کندھا شدید زخمی تھا…. ’’عقابل خان؟…. تم یہاں کیسے؟…. یہ لوگ کون ہیں؟…. تم زخمی کیسے ہوگئے؟…. مجھے ان لوگوں نے کیوں اغوا کرکے قید کر رکھا ہے؟‘‘…. وہ ایک سانس میں ہی بہت سے سوالات کرتا چلا گیا پھر بھی بہت سے سوالات تو اُس کے دل میں ہی رہ گئے….
’’عمر صاحب!…. اس وقت ہمارے پاس بالکل وقت نہیں…. آگیا بتیال کے لوگوں کو ضرور اطلاع ہوگئی ہوگی…. وہ بس آتے ہی ہوں گے…. پھر یہاں سے نکلنا مشکل ہوجائے گا…. مجھ سے غلطی ہوگئی میں یہاں اکیلے آگیا…. لیکن اگر میں جلدی نہ کرتا تو پھر یہ لوگ نامعلوم کس جگہ آپ کو منتقل کردیتے…. پھر آپ کو تلاش کرنا بہت مشکل کام ہوتا اور شاید اس میں برسوں بھی لگ جاتے…. اور نجانے آپ کی کیا حالت ہوتی…. بس عمر صاحب آپ میرا ہاتھ پکڑ لیں…. آپ کی کمزوری دور ہوجائے گی…. اور ہم فوراً یہاں سے نکل جائیں گے‘‘….
اُس نے عقابل خان کا ہاتھ پکڑا تو اُسے یوں محسوس ہوا کہ گویا وہ کلفٹن کے پلے لینڈ میں لگی کسی تیزرفتار رائیڈ میں بیٹھ گیا ہے بلکہ اُس سے بھی تیز رفتار…. مناظر اس قدر تیزی سے گزر رہے تھے کہ اُسے خوف سے چکر آنے لگے….عقابل خان نے اُس کا ہاتھ بہت مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا…. اُس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیں…. کسی لمحے غیر ارادی طور پر اُس نے آنکھیں کھولیں تو گزرنے والے مناظر کی رفتار دیکھ کر اُس کو بہت تیز چکر آگیا…. اور پھر اُس کا ذہن اندھیرے کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا….
اب اُس کی آنکھ کھلی تو حیرت سے کھلی ہی رہ گئیں…. وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا…. اور اُس کا سیدھا ہاتھ عقابل خان کے بائیں ہاتھ کی گرفت میں تھا…. عقابل اُس کے بیڈ کی پائنتی پر بیٹھا تھا…. اُس کے دوسرے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا….
’’شکر ہے خدا کا…. صیب آپ کو ہوش آگیا…. ام تو پریشان ہوگیا تھا‘‘….
کچھ دیر وہ گم صم اِدھر اُدھر دیکھتا رہا…. عقابل خان نے آگے بڑھ کر اُسے سہارا دے کر بٹھایا اور دودھ کا گلاس اُسے پکڑاتے ہوئے بولا ’’صیب! یہ پی لو…. کمزوری دور ہوجائے گی‘‘….
دودھ بہت ہی میٹھا تھا…. ایک گلاس دودھ کیا پیا اُس کی جان میں جان آگئی اب اُس نے عقابل خان کو غور سے دیکھا…. اُس کی قمیض کے نیچے کندھے پر پٹی بندھی ہوئی دکھائی دی…. ’’عقابل خان وہ لوگ کون تھے تم نے بتایا نہیں؟‘‘….
’’کون سے لوگ صیب!‘‘….
’’وہی جن کی قید سے تم مجھے چھڑا کر لائے ہو!‘‘….
’’صیب…. ام تو اُدر سے گزر رہا تھا…. آپ اُدر پیڑ کے نیچے بے ہوش پڑا…. ام اُدر سے آپ کو اُٹا کر لایا…. آپ کو تیز بخار تھا…. اِدر ایک ڈاکٹر رہتا ہے…. اَم اُس سے آپ کے لئے دوائی لے کر آیا…. یہ رکی اے‘‘…. یہ کہہ کر عقابل خان سرہانے رکھی دوا کی شیشی کی طرف اشارہ کیا….
’’دیکھو خان مجھ سے چھپائو نہیں!‘‘….
’’ام کدھر چھپاتا ہے‘‘….
’’تم تو اُن چاروں کو مار کر مجھے نکال کر لائے ہو اور لڑائی میں تمہارا کندھا بھی تو زخمی ہوگیا تھا!‘‘….
اس بات پر تو عقابل خان ایک لمحے کے لئے بُری طرح گڑ بڑا سا گیا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ اپنے کنفیوژن پر قابو پاچکا تھا…. ’’یہ تو ام بارش میں پسل کر گرگیا تھا…. ایک پتھر سے توڑا سا چوٹ لگ گیا…. کوئی بات نئیں…. ٹیک اوجائے گا‘‘…. عقابل خان نے نظریں جھکا کر کہا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھ گیا…. ’’آپ آرام کرو صیب…. کوئی ضرورت ہو تو اَم کو آواز دو، اَم فوراً آئے گا‘‘….
عقابل خان کے جانے کے بعد عمر کی نظر گھڑی پر گئی تو اُسے حیرت کا مزید جھٹکا لگا…. اس وقت شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے!…. وہ برگد کے پیڑ کے قریب کس وقت پہنچا تھا؟…. اُس نے خود سے سوال کیا…. یہی کوئی پانچ بج کر دس منٹ ہوئے ہوں گے!…. یا پھر اس سے بھی کم!…. یعنی صرف بیس منٹ گزرے ہیں…. اس دوران جو کچھ ہوا…. وہ تو کم ازکم چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہوگا….
کیا میں خواب دیکھ رہا تھا؟….
اگر یہ خواب تھا تو برگد کے درخت پر نظر آنے والا لمبا تڑنگا دیو نما آدمی…. اُسے تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا…. پھر عقابل خان لڑائی میں زخمی ہوا تھا…. اور اُس کے دائیں کندھے پر زخم آئے تھے…. اگر یہ لڑائی خواب میں ہوئی تھی تو…. بیداری میں عقابل خان کا دایاں کندھا ہی زخمی کیوں ہے…. خواب میں محسوس ہونے والی کمزوری کے اثرات بیداری کے بعد بھی کیوں قائم ہیں…. اور یہ جسمانی کمزوری بھی تو بیداری ہی سے شروع ہوئی تھی….برگد کے درخت کے نیچے میں خواب میں تو نہیں پہنچا تھا….
وہ کڑیوں سے کڑیاں جوڑتا رہا…. آخر تھک ہار کر اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کوٹھی چھوڑ دے گا…. چاہے اُسے کسی کچی بستی میں ہی رہنا پڑے اور بسوں میں دھکے کھانے پڑیں…. وہ کسی قسم کی مہم جوئی میں پڑنے کا متحمل نہیں ہوسکتا…. اُس کی بہت سی ذمہّ داریاں ہیں…. اگر وہ مزید یہاں رہا تو یقینا کسی ایسی مصیبت میں بھی پھنس سکتا ہے جس سے اُس کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے….
یہ سوچتے ہوئے اُس کی پلکیں نیند سے بوجھل ہوتی گئیں اور وہ بے خبر سوگیا….
رات کے دوبجے کے قریب اُس کی آنکھ کھل گئی…. بجلی چلی گئی تھی…. پنکھا بند ہونے کی وجہ سے کمرے میں حبس ہوگیا تھا…. اُس کے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے…. اُس نے اُٹھ کر پانی پیا اور پردے ہٹاکر کھڑکیاں کھول دیں….
بجلی معلوم نہیں کب آئے…. اس لئے سونے کی کوشش کرنی چاہئے…. یہ سوچ کر وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی…. لیکن گرمی کی وجہ سے نیند نہ آسکی…. کافی دیر تک یونہی وہ آنکھیں بند کرے لیٹا رہا…. دفعتاً موتیے کی تیز خوشبو سے سارا کمرہ معطّر ہوگیا…. اُس نے گہری سانس لے کر آنکھیں کھولیں تو ایک پری چہرہ خوبرو حسینہ اُس کے سرہانے بیٹھی تھی…. اُس نے بالوں میں ڈھیر سارے موتیے کے ہار پروئے ہوئے تھے…. ہاتھوں میں بھی موتیے کے پھولوں کا کنگن پہن رکھا تھا…. اُس کی آنکھوں سے خودسپردگی کے جذبات جھلک رہے تھے…. خوشبوئوں کا ایک سیلاب تھا جو اُس کے انگ انگ سے پھوٹ رہا تھا….
وہ کون ہے؟…. کس جہان سے آئی ہے؟…. کمرے کا دروازہ بند ہونے کے باوجود اُس کے کمرے میں کیسے آگئی؟…. اُس کے کمرے کی دیوار پر لگی تصویر میں اور اُس میں اس قدر مماثلت کیوں ہے؟…. اس کا قد عام عورتوں سے لمبا کیوں ہے؟…. اور اُس کی آنکھیں قدرے گول کیوں ہیں؟…. کیا وہ انسان نہیں ہے…. اُس کے ذہن میں ایک طوفان سا برپا تھا….
اس سے پہلے کہ یہ سوالات اُس کی زبان پر آتے…. اُس دوشیزہ نے اپنے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا…. اور اُس کے مزید قریب آگئی…. اُس کے اندر بھی جذبات کی موجوں میں طوفان سا آگیا…. اچانک اُسے خیال آیا…. مجھے اپنے حواس برقرار رکھنے چاہئیں….
اس خیال کے ساتھ ہی اُس کے اندر اعتماد کی لہر اُبھری اور وہ اُٹھ کر کھڑا ہوگیا….
’’آخر تم کون ہو؟…. مجھ پر اس قدر فریضتہ کیوں ہو؟‘‘…. اُس نے ہمت کرکے پوچھ لیا…. وہ لڑکی بھی اُس کے اچانک اُٹھ جانے پر چونک سی گئی تھی…. لیکن فوراً ہی اُس کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی….
’’مجھے معلوم تھا…. آخرکار مجھے سب کچھ بتانا ہی پڑے گا‘‘…. پہلی بار اُس نے لب کھولے…. اُس کا لہجہ خاصا مختلف تھا…. اور آواز میں بھی ہلکی سی گونجار سی تھی…. وہ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی اور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کربولی ’’تم آرام سے بیٹھ جائو…. میں تمہیں سب کچھ بتاتی ہوں…. لیکن میری بھی ایک شرط ہے‘‘….اُس کے ہاتھوں کے لمس نے عمر کے جسم میں کرنٹ سا دوڑا دیا تھا….
’’کون سی شرط!…. دیکھو اگر میرے اختیار میں نہیں ہوئی تو میں ایسی کوئی شرط پوری نہیں کرسکوں گا‘‘….
’’گھبرائو نہیں…. ایسی کوئی بات نہیں ہے…. بس تمہیں یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ تم مجھ سے دور نہیں بھاگو گے اور میرے بارے میں کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کرو گے‘‘….
’’لیکن اگر مجھے کوئی پریشانی ہوئی اور کسی نقصان کا اندیشہ ہوا تو میں یہ شرط پوری نہیں کرسکوں گا‘‘….۔
’’تم بے فکر رہو ایسا کچھ نہیں ہوگا‘‘….
’’آخر تم نے میرا ہی انتخاب کیوں کیا؟‘‘….
’’میں تمہیں سب کچھ بتادوں گی…. بس تم مجھ سے وعدہ کرو….‘‘
عمر نے اُس کی بات کاٹ کر کہا ’’اچھا ٹھیک ہے…. لیکن اگر مجھے کسی نقصان کا یا کسی مصیبت میں پھنسنے کا اندیشہ ہوا تو میں پھر بری الذمہّ ہوجائوں ‘‘….
’’مجھے یقین ہے ایسی کوئی بات نہیں ہوگی‘‘….
’’اب بتائو…. تم کون ہو‘‘….
’’میرا نام قسطورہ ہے…. اور میرا تعلق نوعِ جنات سے ہے‘‘…. یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک عمر کے چہرے کو بغور دیکھتی رہی…. پھر ایک گہری سانس لے کر دوبارہ اپنی بات شروع کی…. ’’میرے دادا عمرام!…. روحانی جن ہیں…. اُنہوں نے روحانی بزرگوں یعنی اولیاء اللہ سے بہت فیض حاصل کیا ہے…. اُن کے اندر قدرت نے بچپن سے ہی یہ صلاحیت ودیعت کر رکھی تھی کہ وہ انسانوں کی دنیا میں بآسانی آجا سکتے تھے‘‘….
’’تو کیا دوسرے جنات کے لئے انسانوں کی دنیا میں آنا جانا مشکل ہے‘‘…. عمر نے درمیان میں پوچھا….
’’ہاں!…. جس طرح ہر انسان جنات کی دنیا میں نہیں داخل ہوسکتا…. اُسی طرح ہر جن بھی انسانوں کی دنیا میں نہیں آسکتا‘‘…. قسطورہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
’’لیکن ہم نے تو سنا ہے کہ جنات بڑی زبردست طاقت کے مالک ہوتے ہیں‘‘….
’’انسان کو اللہ پاک نے تما م مخلوق سے افضل واشرف بنایا ہے…. یہ بات مجھے میرے دادا نے بتائی تھی…. اور انسان سے زیادہ صلاحیتیں کسی مخلوق کے پاس نہیں….اور یہی بات تو مجھے انسانوں کی دنیا میں کھینچ لائی ہے‘‘….۔
’’لیکن ہم انسان تو جنات کی طرح پرواز نہیں کرسکتے…. نہ ہی کوئی کرشمہ دکھا سکتے ہیں‘‘…. عمر نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے پوچھا
’’دراصل جو انسان اپنی روحانی صلاحیتوں سے واقف ہوجاتے ہیں…. وہ جنات سے کہیں زیادہ حیرت انگیز کرشمے دکھا سکتے ہیں‘‘….
’’تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو؟‘‘….
’’یہ بات تو قرآن پاک میں تحریر ہے…. سورئہ النمل میںحضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے…. حضرت سلیمانؑ ملکہ سبا کے تخت کو حاضر کرنے کا حکم دیتے ہیں…. حضرت سلیمانؑ کے دربار میں حاضر ایک جن کہتا ہے کہ وہ اُس تخت کو اِس مجلس کے اختتام تک حاضر کردے گا…. لیکن ایک انسان جس کے پاس کتاب کا علم تھا…. اُ س نے وہ تخت پلک جھپکنے کے مختصر لمحے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش کردیا‘‘….
’’تم نے قرآن کیسے پڑھ لیا؟‘‘…. عمر نے پھر سوال کیا
قسطورہ مسکرائی اور گہری سانس لے کر بولی ’’مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ تمہاری معلومات کتنی محدود ہیں…. حالانکہ تم مسلمان ہو…. قرآن حضرت محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی اللہ کی آخری کتاب ہے…. اور یہ کتاب انسان اور جنات دونوں کی رہنمائی کے لئے نازل ہوئی…. حضرت محمد رسول اللہﷺ جن وانس دونوں کے پیغمبر ہیں…. بلکہ وہ تو رحمت اللعالمین ہیں…. ہر عالم پر اُن کی رحمت برس رہی ہے‘‘…. پھر کچھ دیر وہ خاموش رہی….
’’کیا تم بتاسکتی ہو کہ شام کو میرے ساتھ جو واقعہ پیش آیا…. وہ محض خواب تھا یا پھر حقیقت تھا‘‘…. عمر نے سوال کیا
’’میرے علم میں نہیں…. تم بتائو تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا‘‘…. قسطورہ نے فکرمندی کے ساتھ پوچھا…. پھر عمر نے سارا واقعہ الف سے ے تک کہہ سنایا…. جسے سن کر قسطورہ کے چہرے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی…. اور وہ پریشان سی ہوکر ٹہلنے لگی…. کچھ دیر بعد اُس نے عمر سے پوچھا ’’تمہیں کچھ یاد ہے…. کیا اُن لوگوں نے آپس میں بات کرتے ہوئے آگیا بتیال کا نام لیا تھا‘‘….
’’نہیں اُن لوگوں نے تو مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کی…. اُن میں سے ایک نے بس مجھے دھمکیاں دی تھیں…. ارے ہاں یاد آیا…. جب عقابل خان اُن لوگوں کو ختم کرکے زخمی ہوکر کوٹھری میں آیا تھا تو یہ کہہ رہا تھا کہ آگیا بتیال کے لوگوں کو خبر ہوگئی ہوگی اور وہ آتے ہی ہوں گے‘‘….
’’ہونہہ…. تو یہ آگیا بتیال کے لوگ تھے…. خیر تم فکر نہ کرو…. یہاں عقابل چاچا ہیں…. وہ تمہاری حفاظت کریں گے‘‘….
’’عقابل چاچا!…. کیا وہ تمہارے‘‘….
ہاں! وہ میرے چاچا ہیں…. دادا نے اُن کی روحانی تربیت کرنے کے بعد اُنہیں یہاں مقرر کیا ہے…. اُن کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ آگیا بتیال کی تخریبی سرگرمیوں سے انسانوں کو متاثر نہ ہونے دیں‘‘….
’’آگیا بتیال…. یہ کیا چیز ہے‘‘….
’’یہ تخریب پسند جنات کا ایک گروہ ہے‘‘….
’’میں نے تو سنا ہے کہ پوری جنات قوم شرپسند ہے!‘‘….
’’تم نے بالکل غلط سنا ہے‘‘…. قسطورہ کا لہجہ کچھ افسردہ سا ہوگیا…. ’’دراصل جب سے انسانوں کی دنیا میں روحانی بزرگوں کا اثر کم ہوا ہے…. مختلف قسم کے غلط نظریات قائم ہوگئے ہیں…. انسان اور جنات دونوں ایسی مخلوق ہیں جن پر جزا اور سزا کا قانون لاگو ہوتا ہے…. اس لئے کہ انہیں اچھائی اور برائی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیاردیا گیا ہے…. جس طرح انسانوں میں کچھ لوگ شرپسند ہوتے ہیں…. اسی طرح جنات میں بھی ہوتے ہیں…. لیکن جنات میں اکثریت محبت کرنے والے، صلح جو اور امن پسند لوگوں کی ہے‘‘….

(جاری ہے)

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے