روحانی ڈائجسٹ / ذہن و شعور / پرسنل ڈیولپمنٹ / کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


عالمی شہرت یافتہ موٹیویشنل مصنف، ماہرِتعلیم اور بزنس مین اسٹیفن رچرڈ کوؤی نے 1989ء میں دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپلThe 7 Habits of Highly Effective People نامی کتاب لکھی۔ عالمی سطح پر بیسٹ سیلر ہونے کے ساتھ اب تک 75 ممالک میں 40 زبانوں میں دو کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
اس کتاب میں اسٹیفن نے بتایا کہ دنیا کے بااثر ترین اور کامیاب انسانوں میں سات عادات مشترک ہوتی ہیں اور انہی عادات کی بنیاد پر ان کے کردار کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ ان کی یہی عادتیں ان کے مستقبل کو بھی روشن بناتی ہیں۔ ان سات عادات کو سمجھ لینے اور اپنانے سے نوجوان اپنی زندگی کامیاب بنا سکتے ہیں ۔
ذیل میں ہم اسٹیفن کوؤی کی شہرۂ آفاق کتاب The 7 Habits of Highly Effective People ‘‘کامیاب اور پُراثرلوگوں کی 7 عادتیں ’’ کے خلاصے کی تیسری قسط نوجوان قارئین کے لیے پیش کررہے ہیں۔  

قسط نمبر 3

حصّہ سوم

عوامی فتح

 

Paradigms of Interdependence
باہمی انحصار کا زاویۂ نظر

گزشتہ صفحات میں ہم سمجھاچکے ہیں کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو دوسروں کا محتاج Dependent ہوتا ہے۔ کھانے پینے، نگہداشت، پرورش میں دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ بچپن میں زاویہ نظر کچھ یوں ہو تا ہے کہ تم میری مدد کرو ، مجھے کھلاؤ، میرا خیال رکھو۔ جب وہ جسمانی اور ذہنی طور پر خودمختار Independent اور خود اپنا خیال رکھنے کے قابل ہوجاتا ہے تو اس کا زاویہ نظر بدل جاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب میں خودمختار ہوں ، اپنا اچھا برا جانتا ہوں، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں۔
جب اس کی عمر اور شعور میں پختگی آتی ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر چیز باہمی انحصار Interdependentپر قائم ہے ، ایک ایکو سسٹم ہے جس کے زیر اثر قدرت اور معاشرے چلتے ہیں ، پھر زاویہ نظر ہوتا ہے کہ آؤ مل کر کام کریں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں، بوند بوند سے دریا بنتا ہے ۔


7 عادات میں سے پہلی، دوسری اور تیسری عادات ذاتی فتح کے متعلق ہیں ۔ یہ انسان کو انحصار و محتاجی سے خودمختاری، خود اعتمادی کی طرف لے جاتی ہیں۔ چوتھی پانچویں اور چھٹی عادات عوامی فتح کے متعلق ہیں جو خود مختاری سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی جانب لے جاتی ہیں تاکہ آپ بہتر ٹیم یا بہتر لیڈر بن سکیں۔
عوامی فتح کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ خود انحصاری کی بنیاد خود مختاری پر ہے، جب تک آپ خود کامیابی کی راہ میں محنت نہیں کریں گے تو آپ دوسروں کو لے کر اس راہ پر نہیں چل سکتے۔ جس طرح الجبرا سمجھنے سے پہلے جمع ضرب سمجھنا ضروری ہے، عوامی فتح سے پہلے ذاتی فتح ضروری ہے۔ پہلے خود کو فتح کریں پھر دوسروں کو ….
شخصی فتوحات کا عمل ہی عوامی فتوحات تک لے جاتا ہے۔ اپنی ذات پر عبور Self-Mastery اور تنظیم Self-Disciplineہی دراصل دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یہی ترتیب کا اصول Principle of Sequencing ہے۔
لوگوں سے تعلقات بہتر بنانے کی ترکیب میں ضروری اجزاء وہ نہیں جو ہم ‘‘کہتے ’’یا ‘‘کرتے ’’ ہیں بلکہ بذات خود ‘‘ہم’’ہوتے ہیں۔
اگر ہمارے الفاظ اور کام ہماری باطنی ذات (کرداری اخلاقیات) کے بجائے ظاہری شخصی تکنیک (شخصی اخلاقیات) سے اخذ شدہ ہوں گی تو لوگ ہمارے دوہرے پن کو بھانپ لیں گے اور یوں ہم موثر باہمی انحصار تخلیق نہ کرسکیں ۔ باہمی تعلقات کے لیے وہی تکنیکیں موثر ہوتی ہیں جو قدرتی طور پر ہمارے خود مختار کردار کا حصہ ہوں۔
اب بات کرتے ہیں باہمی انحصار کی اثریت کی ، جیسا ہم نے سونے کے انڈے اور بطخ کی کہانی سے P/PC توازن یعنی پیداوار اور پیداواری اثاثہ میں توازن کے بارے میں بتایا تھا …. باہمی انحصار میں سونے کے انڈے اثریت ہیں اور انہیں باقائدگی سے حاصل کرتے رہنے کے لیے بطخ کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ باہمی انحصار اور P/PC توازن کے تعلق کو آپ ایک اور استعارے یا مثال سے بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں اور وہ ہے جذباتی بینک اکاؤنٹ….
ہم سب جانتے ہیں بینک اکاؤنٹ کیا ہوتے ہیں۔ کیسے کھلوائے جاتے ہیں اور ان میں پیسے کیسے جمع اور کیسے نکلوائے جاتے ہیں۔ اگر میں نے اپنے بینک اکاؤنٹ میں کافی پیسے جمع کروائے ہوئے ہیں تو مجھے خوف نہیں ہو گا ۔ میں جانتا ہوں گا کہ کسی ضرورت کے وقت خرچ کے لیے رقم میرے پاس موجود ہے۔ اگر میرے اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کے برابر ہو یا میں قرضے پر چل رہا ہوں تو مجھے بےحد سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا۔ کیونکہ ایسی صورت میں میرے پاس کسی قسم کی غلطی یا لچک کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
انسان بھی اسی قسم کے لین دین پر چل رہے ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ اکاؤنٹ جذباتی بینک اکاؤنٹ Emotional Bank Account کہلاتا ہے۔ اگر میں ایمانداری، خوش اخلاقی ، خوشدلی اور وعدوں کی پاسداری جمع کرواتا رہوں تو کچھ ہی عرصے میں میرے جذباتی بینک اکاؤنٹ میں کافی سرمایہ جمع ہو جائے گا۔ لوگوں کامجھ پر اعتماد بڑھ جائے گا۔ میں اس اعتماد کا فائدہ بھی اٹھا سکوں گا۔ میں کئی قسم کے تجربات یا غلطیاں کر سکوں گا۔ مجھ پر دوسروں کا اعتماد میری کئی غلطیوں کا مداوا کرے گا۔
لیکن اگر میں لوگوں سے بدتمیزی کروں، بداخلاقی سے پیش آؤ، وعدہ خلافی کروں، غیر ضروری طور پر غصہ دکھاؤں، لوگوں کو نظر انداز کرو ں , ڈراؤں دھمکاؤں۔ تو پھر یقینی طور پر میرے جذباتی بینک اکاؤنٹ میں اعتماد کا لیول بہت کم ہو جائے گا اور میں قرض Credit پر چل رہا ہوں گا اور یقیناً میرے پاس غلطی کرنے یا لچک کی گنجائش بالکل نہیں رہ جائے گی۔ مجھے اپنی کہی ہوئی ہر بات کے بارے میں بہت محتاط رہنا پڑے گا۔ میں ہر وقت ذہنی دباؤ میں پھنسا رہوںگا۔
اگر اعتماد کا ایک خاص لیول اپنے اکاؤنٹ میں نہ جمع رکھا جائے تو پھر بہت کچھ تباہ ہو جائے گا۔ بغیر جانے ہی ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جس میں سب فریق اپنے اپنے انداز کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو برائے نام عزت دیتے ہیں، پہلے سرد جنگ چلتی ہے پھر تعلقات خراب ہو کر لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتے ہیں، بدزبانی کی جاتی ہے، ایک دوسرے کے لیے دروازے بند کئے جاتے ہیں، جذباتی لا تعلقی پیدا ہو جاتی ہے اور آخر میں خود پر رحم کھایا یا پچھتایا جاتا ہے۔
اس قسم کی بے حد نازک صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے جذباتی اکاؤنٹ میں رقم موجود ہو۔ جذباتی بینک اکاؤنٹ میں آپ 6 قسم کی رقم جمع Deposit کرواسکتے ہیں :

1:آپ کسی بھی انسان کے اکاؤنٹ میں جو سب سے اہم رقم آپ جمع کروا سکتے ہیں ، وہ ہے دوسروں کو سمجھنا ۔ اس کے لیے بس اتنا کرنا ہے کہ آپ دوسروں کو غور سے سنیں۔ بغیر اپنی رائے دیے بغیر کسی قسم کی نصیحت کیے اور بغیر اپنی مثال دئیے۔ صرف اور صرف دوسروں کوتوجہ سے سنیں اور دوسروں کو احساس دلائیں کہ آپ انہیں ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں۔ ان کے خیالات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی قدر کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات ان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ سنہرا اصول کہتاہے کہ

 

"Do unto others as you would
have others do unto you.”

’’دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم چاہو کہ دوسرے تمہارے ساتھ کریں۔‘‘


2: چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھنا آپ کی دوسری رقم ہیں، تعلقات میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ لوگ اندر سے نازک اور حساس ہوتے ہیں چھوٹی چھوٹی مہربانیاں، ادب آداب ، تعلقات میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ جبکہ چھوٹی چھوٹی بے ادبیاں اور ناقدریاں تعلقات تباہ کرسکتی ہیں۔
3: وعدہ وفا کرنا بھی جذباتی بینک اکاؤٹ کے لیے ایک اہم رقم ہے، لوگوں کے ساتھ جو وعدہ یا کمٹمنٹ Commitmentکریں اُسے پورا کریں، تو دوسروں اور آپ کے درمیان ایک اعتماد کا پُل بن جائے گا ۔
4:تعلقات کے قیام میں توقعاتexpectations بہت اہمیت رکھتی ہیں، بےغرض محبت صرف والدین اور اولاد کے درمیان ہوتی ہے۔ باقی سب تعلقات میں توقعات کا پورا ہونا یا نہ ہونا ان کی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ ہے۔ بعض اوقات تعلق میں بے جا یا حد سے زیادہ بلند توقعات رشتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ چنانچہ لوگوں سے تعلقات بناتے وقت پہلے ہی توقعات کو واضع کردیا جائے تو آگے چل کر مشکلات پیش نہیں آتی۔
5: ذاتی تشخص یا شخصی ایمانداریPersonal Integrity کا اظہار آپ کے جذباتی اکاؤنٹ کی پانچویں اہم رقم ہے ۔
اس کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی وفادار اور دیانت دار رہو جو موجود نہ ہوں۔ جب آپ غیر حاضر لوگوں کا تحفظ کرتے ہیں تو ایسے میں آپ لوگوں کا اعتماد جیتتے ہیں۔ اگر آپ کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی کریں گے تو سننے والا شخص یہ توقع کرے گا کہ آپ اس کے پیٹھ پیچھے بھی اس کی برائی کرسکتے ہیں۔ کیا اس طرح کے دوغلے پن کو دیکھ کر کوئی اعتماد کرے گا؟؟
6: جذباتی اکاؤنٹ کے اعتماد کی رقم میں اگر آپ کی غلطی سے کوئی کمی واقع ہو جائے تو ‘‘غلطی پر خلوص سے معافی مانگنا ’’ جذباتی اکاؤنٹ کی رقم کو محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن بار بار جھوٹی معافیاں مانگنے سے الٹا نقصان اور تعلقات کی کوالٹی میں فرق بھی پڑسکتا ہے۔
غیر مشروط پیار Unconditional Love کی رقم جذباتی اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا مطلب ہے کہ بغیر کسی شرط کے حقیقی معنوں میں دوسروں سے ان کی پوری شناخت، تشخص، قدروقیمت ، آزادی اور ان کے اصولوں کے ساتھ پیار کرنا۔ دوسروں سے ان کی مرضی اور آزادی کے مطابق تعلق رکھنا نہ کہ انہیں اپنی مرضی، اپنے اصول و توقعات کے تابع کرنے کی کوشش کرنا ۔ ناں کہ یہ کہنا کہ تم میرے دوست ہو، چنانچہ تمہیں ‘‘ایسے رہنا ’’یا ‘‘ایسے کرنا ’’چاہیے ۔
یہ ہے باہمی انحصار کا زاویہ نظر …. آپ کو اس زاویہ نظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، تاکہ آپ آگے بیان کی گئیں عادات 4، 5 اور 6 کو پوری ایمانداری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرسکیں۔
چلیں اب عوامی فتح کی ہر عادت کو ذرا گہرے انداز سے دیکھتے ہیں :

 

عادت : 4

Think Win-Win
جیتیں اور جیتنے دیں کی سوچ 

چوتھی عادت وِن وِن Win-Winکا مطلب ہے کہ ‘‘میں بھی جیتوں اور تم بھی جیتو’’…. یعنی دونوں فریقوں کی جیت ہو۔
کامیاب اور مؤثر لوگ انفرادی فائدے کے بجائے اجتماعی فائدے کا سوچتے ہیں ۔ اعلیٰ اخلاقی روایات ان کے پیش نظرہوتی ہیں اسی لیے وہ کامیابی کے سفرمیں دوسروں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ کامیاب افرادٹیم ورک کے ذریعے دوسرے لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں اور انہیں بھی کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔
اس کے برعکس غیر موثر Inefficient لوگ یہ مانتے ہیں کہ میں جیتوں صرف اس لئے کہ دوسرے کی ہار ہو جائے۔
اگر صرف انفرادی کامیابی Individual success کے بارے میں سوچا جائے تو حسد، کینہ اور بغض زندگی کو مشکل بنادیتے ہیں اور دوسروں کی کامیابی ہمیں گراں گزرتی ہے۔ اس سے نفسیاتی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔
انسان کامیاب اور مؤثر Effectiveتب بنتا ہے جب وہ یہ سوچے کہ میرا فائدہ تو ہونا ہی چاہے ، دوسرے کا بھی فائدہ ہونا چاہیے۔ جب آپ دوسروں کا فائدہ سوچتے ہیں تو ایسی صورت میں لوگ جڑے رہتے ہیں اور باہمی تعاون سے کام اچھی طرح چلتے رہتے ہیں۔
وِن وِن کی عادت زندگی کو اشتراک و تعاون Co-Operation کی نظر سے دیکھتی ہے، مقابلہ بازی Competition کی نظر سے نہیں۔
مجھے ایک کمپنی کے سربراہ کی طرف سے بلایا گیا، وہ بہت پریشان تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ کمپنی کے وکرز بہت خودغرض ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے، اگر یہ آپس میں تعاون کرنے لگیں تو پروڈکشن میں بہت اضافہ ہوگا۔
وہ چاہتا تھا کہ میں انسانی تعلقات اور تعاون پر کوئی ایسا ‘‘ٹریننگ پروگرام ’’ بناؤں جس سے ان کے مسائل حل ہوجائیں۔
میں نے کمپنی کا معائنہ کیا تو جانا کہ وہاں واقعی خودغرضی، عدم تعاون، حکم عدولی اور کمیونی کیشن کے بہت مسائل ہیں۔ لوگوں میں اعتماد کا لیول اتنا نیچے آچکاہے کہ اُن کا جذباتی بینک اکاؤنٹ خالی ہونے کو ہے ۔
دراصل کمپنی کے مالک کے دفتر کی دیوار پر ایک چارٹ تھا جس میں ریس کی لائن پر بہت سے گھوڑے دوڑ کے لیے تیار تھے اور ہر گھوڑے پر منیجروں کے نام چپساں تھے۔ ریس کی اختتامی لائن پر ایک بہت ہی خوبصورت غیرملکی ساحلی تفریحی مقام کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ کمپنی کا مالک ہر ہفتہ اپنے سارے منیجروں کو دفتر میں بُلاتا اور ان سے آپس میں تعاون کرنے اور کمپنی کی پروڈکشن بڑھانے پر بات کرتا اور پھر اپنے دیوار پر لگے اس چارٹ کو دکھاتا اور کہتا کہ :
‘‘تم میں سے کون ہے جو اس خوبصورت غیرملکی ساحل کا ٹرپ جیتنا چاہتا ہے؟’’
یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ہر ایک پھول سے کہا جائے کہ بڑھو لیکن پانی صرف ایک کو ملے گا۔ کمپنی کا مالک تعاون تو چاہتا تھا کہ لوگ آپس میں مل کر کام کریں، آپس میں خیالات بانٹیں، سب محنت سے فائدہ اُٹھائیں، لیکن وہ اُن سب کا ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ بھی کروارہا تھا۔ ایک ورکر کی کامیابی یعنی باقی سب ورکرز کی ہار۔
کمپنی کے مسائل کی وجہ غلط زاویہ نظر تھا، وہ مقابلے کے زاویہ نظر سے تعاون کا پھل حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے فوری حل کی تکنیک چاہتے تھے۔ آپ کوئی پھل اس وقت تک تبدیل نہیں کرسکتے جب تک آپ جڑ نہ بدل دیں۔ رویوں اور رجحانات کی تبدیلی تو محض پتوں کی کاٹ چھانٹ کرنے کے مترادف ہے۔
وِن وِن کوئی فوری حل تکنیک نہیں ، یہ انسانی تعلقات کے چھ زاویہ نظر میں سے ایک ہے۔

  1.  جیت- جیت
  2. جیت -ہار
  3. ہار-جیت
  4. ہار-ہار
  5. صرف جیت
  6. جیت -جیت یا کچھ نہیں

1:  وِن وِن یعنی جیت-جیت کا مطلب ہے کہ میں بھی جیتوں تم بھی جیتو، یہ دل اور دماغ کی ایسی حالت ہے جو سب کا مفاد سوچنے کے لئے ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ وِن وِن کا ​​مطلب ہے ایسے معاہدے اور حل جو سب کے لیے فائدہ مند اور تسلی بخش ہوں۔ زندگی میں یہ اصول بنا لیں کہ جس کام میں آپ اپنا فائدہ سوچتے ہیں اس میں دوسرے کا فائدہ بھی سوچیں۔ جس شخص نے آپ کو زندگی میں کہیں کوئی فائدہ پہنچایا ہے اس کو ضرور فائدہ دیں۔ ایسا کرنے سے دو اشخاص کے درمیان وہ چیزیں سامنے آتی ہیں جو کامن انٹرسٹ پر ہوں۔ کسی بھی معاہدہ میں جب ایک فریق دوسرے کے مفاد کو مد نظر رکھتا ہے تو وہ معاہدہ خوش اسلوبی سے طے پا جاتا ہے اور پروان چڑھتا ہے۔ یہی چیز ون ون کہلاتی ہے۔
2:جیت-ہار کا مطلب ہے کہ اگر میں جیتوں تو تم ہاروگے، بہت سے لوگ اسی زاویہ نظر پر جیتے ہیں۔ یہ بچپن ہی سے کئی لوگوں کے اندر سرائیت کیے ہوئے ہے۔ گھر ، اسکول اور دفتروں میں مقابلے کی فضا اس زاویہ نظر کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ سوچ کامیابی کے جانب ایک تحکمانہ رسائی ہے، کہ مجھے میرا راستہ مل جائے مگر تمہیں نہ ملے۔ جب ہم ایک کا دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں تو دراصل ہم یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ یہ اُس کا حق نہیں، یا وہ اس کے قابل نہیں۔ ایسے ہر فرد کی قدر وقیمت کو مقابلہ سے ناپا جاتا ہے ، یوں اندرونی قدروقیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بلکہ ہر کسی کو بیرونی طریقے سے دیکھابھالا جاتا ہے۔
3: ہار-جیت یعنی اچھا میں ہارا تُم جیتے…. کچھ لوگوں کی پروگرامنگ اُلٹ ہوتی ہے ، ان میں احساسات اور سوچوں کے اظہار کا کم حوصلہ ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی طاقت اور مقبولیت سے فوراً مرعوب ہوجاتے ہیں اور ہتھیار ڈال کر خود اپنی ہار تسلیم کرلیتے ہیں ۔ ہار -جیت والوں کے اس رویے سے جیت-ہار والے کافی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہار جیت والے اپنے محسوسات کو دفن کرکے خود کو نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کرلیتے ہیں۔
4: ہار-ہار یعنی دونوں کی ہار…. جب دو جیت-ہار والے ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے ہیں تو نتیجہ ہار-ہار ہوتا ہے۔ دونوں چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو گرائیں ، ایسے لوگ اپنے دشمن کو ہی مرکز بنالیتے ہیں اور ہر چیز سے نابینا ہوکر صرف انتقام اور دشمن کو ہارتا دیکھنا ہی ان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے ۔ اس جنگ میں وہ یہ بھول جاتے ہی کہ انتقام دودھاری تلوار کی طرح ہوتا ہے۔
5:صرف جیت ، ایک متبادل یہ ہے کہ صرف جیت کے بارے میں سوچا جائے ، جیت کی سوچ رکھنے والوں کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرے ضرور ہاریں، وہ اس سے بے تعلق ہوکر صرف اپنی خواہش کے مطابق جو چاہتے ہیں۔ وہ حاصل کرلیتے ہیں۔ صرف جیت کی ذہنیت والے شخص کا مقصد صرف اپنی خواہش کا حصول ہوتا ہے، دوسروں کی خواہشات وہ انہی پر چھوڑ دیتا ہے۔
6:  جیت-جیت یا کچھ نہیں ، یعنی اگر ہم مل کر ایسے حل تک نہیں پہنچ سکتے جہاں دونوں کا فائدہ نہیں تو پھر ایسے کام کرنے کا کوئی مطلب نہیں؟ یعنی نوڈیل No Deal ….
جب اقدار اور اہداف دو مختلف اطراف میں جارہے ہوں تو کف افسوس ملنے کے بجائے نو ڈیل No Deal زیادہ احسن ہے۔ کاروباری تعلقات کے آغاز میں جیت جیت یا نوڈیل کی اہمیت ہوتی ہے لیکن بنے بنائے اور چلتے ہوئے تعلق میں نوڈیل شاید ممکن نہ ہو۔
آپ کی نظر میں ان زاویہ ہائے نظر میں کون سا بہتر ہے؟ …. اس کا درست جواب ہوگا کہ یہ حالات پر منحصر ہے۔
اسپورٹس کی دو ٹیموں یا دو دفتروں میں مقابلہ ہے تو جیت-ہار مؤثر چیز ہے، مگر ایک ہی دفتر میں کام کرنے والوں کے درمیان نہیں…. ایسے میں جیت -جیت مؤثر ہے۔ اگر میں سیلز مین یا کمپنی کا سپلائر ہوں اور مذاکرات میں آپ سے اپنی شرائط جیت لیتا ہو ں، تو وہ وقتی جیت تو ہوگی مگر شاید دوبارہ آپ مجھے بزنس نہ دیں گے ۔ یوں یہ وقتی جیت بعد میں ہار-ہار بن جائے گی۔
باہمی انحصار کی حقیقت میں جیت-جیت ہی واحد متبادل ہے۔ اگر آپ لیڈر شپ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو صرف جیت-جیت سوچیے ….
جیت-جیت کا اصول زندگی کی پانچ پرتوں کا اظہار کرتا ہے، یہ پانچ پرتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ کردار سے شروع ہوکر تعلقات اور پھر معاہدات تک جاتی ہیں ۔ ان کی اسٹرکچر اور سسٹم کی بنیاد میں جیت-جیت کا اصول موجود ہو، اس کے لیے ایک باقاعدہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ پانچ پرتیں یوں ہیں:


آئیے اب ہر پرت کو علیحدہ علیحدہ دیکھتے ہیں:
کردار، جیت-جیت کی بنیاد ہوتا ہے۔ ایک شخص یا تنظیم جو وِن وِن ، جیت-جیت رویہ کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے کردار میں تین اہم خصوصیات ہوتی ہیں:
1: ذاتی تشخص اور وفاداریIntegrity : ذاتی تشخص کی تعریف ہم پہلے بھی کرچکےہیں یعنی انسان کی اپنی نظروں میں خود اس کی قدر و قیمت ہو، وہ اپنے اقدار Values، وعدوں Commitments اور خیالات Feelings کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنا ہو۔
2: پختگی یا بالغ نظریMaturity : بالغ نظری یا میچیورٹی دراصل ہمت و حوصلہ اور سوچ سمجھ کے توازن کا نام ہے۔


بہت سے لوگ Either-Or یعنی یا یہ یا وہ کی طرز میں سوچتے ہیں، یا تو آپ اچھے ہیں یا آپ کٹھور ہیں۔ وِن وِن میں دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ جرات حوصلہ اور سوجھ بوجھ کے درمیان توازن کرنے جیسا ہے۔
جیت-جیت کو اپنانے کے لئے آپ کو صرف ہمدرد ہی نہیں بلکہ دوسروں کی نظر میں بااعتماد بھی ہو نا ہوگا۔ آپ کو صرف سمجھدار اور حساس ہی نہیں بلکہ بہادر بھی ہونا ہوگا۔ ایسا کرنے سےحوصلہ Courage اور غور و فکر Consideration میں توازن قائم ہوگا، یہی اصل بالغ نظری ہے، اور جیت-جیت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
اپنے عقائد، خیالاتIdeas اور جذبات Feelings کو جرات اور حوصلے کے ساتھ دوسروں کے سامنے رکھنا اور دوسروں کی خیالات اور جذبات کی بھی قدر کرنا۔ توازن ہی اصل میچیورٹی کا نشان ہے۔ انا کی مضبوطی اور دوسروں کے احساس میں توازن، اپنی خود اعتمادی اور دوسروں کی عزت میں توازن، دوسروں کی فکر اور کام کی فکر میں توازن….
جیت-جیت کے لیے صرف اچھا اور ایماندار ہونا ، دوسروں کا احساس کرنا کافی نہیں اس کے لیے حوصلہ مندی، خوداعتمادی اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان صفات میں توازن کا نام ہی میچیورٹی ہے۔ بلند حوصلہ اور سمجھ بوجھ دونوں جیت -جیت کے لیے لازمی ہیں ۔
3:فراخ ذہنیتAbundance Mentality: کثرت افراط اور فراوانی کی سوچ رکھنا، اس بات میں یقین رکھنا کہ سب کے لئے بہت کچھ ہے۔
دراصل اس سوچ سے کئی مشکلات جنم لیتی ہیں کہ ہمارے جیتنے کے لئے کسی اور کو ہارنا ضروری ہے یا پھر اس نے حاصل کر لیا تو مجھے نہیں ملے گا … اسے Scarcity Mentality ‘‘قلّت کی ذہنیت’’ کہتے ہیں ..
بہت سے لوگوں میں یہ سوچ ان کے ذہن سے چپک جاتی ہے، مثلاً اگر کیک کاٹ کر تقسیم کرنا ہو تو ان کے ذہن میں یہی چلتا رہتا ہے کہ کسی کو زیادہ نہ چلا جائے ورنہ کم پڑجائے گا۔ ایسی سوچ ‘‘حاصل جمع صفر’’ Zero-Sum پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ایک کے فائدے کا مطلب دوسرے کا نقصان ہے۔
ایسے لوگوں کے لیے وہ اپنی کامیابی یا منافع دوسروں کے ساتھ شئیر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، حتی کہ ان کے ساتھ بھی نہیں جنہوں نے اس کامیابی اور منافع میں ان کی مدد کی ہو۔ اگر ان کے دوستوں اور خاندان میں کسی کو کامیابی، شہرت یا پرموشن ملے تو انہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان سے کچھ چھین لیا گیا ہو۔
ہمیں اس سوچ سے چھٹکارا حاصل کرکےیہ سوچنا چاہئے کہ ہر انسان کے لئے یہاں بہت کچھ ہے ….اسے فراخ ذہنیت Abundance Mentality کہتے ہیں۔
فراخ ذہنیت والے لوگ مانتے ہیں کہ سب کے لیے بہت کچھ ہے۔ عزت، نفع، شہرت اور کامیابی بانٹی جاسکتی ہے۔ یہ سوچ یعنی امکانات، مواقع، متبادل راہ اور تخلیق کے در وا کرتی ہے۔ ان تینوں خصوصیات یعنی ذاتی تشخص ، بالغ نظری اور فراخ ذہنیت سے کردار میں ایسا نکھار پیدا ہوتا ہے ، جو انسانی تعلقات کے قیام میں کسی تکنیک کے ہونے یا نہ ہونے سے بالاتر ہوتا ہے۔
تعلقات Relationship کی تعمیر اسی کردار کی بنیاد پر ہوتی ہے، ساتھ میں اعتماد کا جذباتی اکاؤنٹ اسے اور مضبوط و توانا رکھتا ہے۔
ایک ایسا تعلق جس میں جذباتی بینک اکاؤنٹ زیادہ ہو اور دونوں فریق جیت-جیت کے زاویہ نظر پر یقین رکھتے ہوں۔ ایک آئیڈیل صورتحال کہلائے گی….
یہ دونوں فریقوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ایک شان دار اشتراک عمل Tremendous Synergyپیدا کرے گی (اس کا تعلق عادت 6 سے ہے۔ اس بارے میں ہم آگے ذکر کریں گے) ایسا تعلق اگرچہ مسئلہ کی اہمیت اور اختلافِ رائے کو کم نہیں کرتا، مگر اس تعلق سے دو شخصیات اور پوزیشن کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی منفی اینرجی ختم ہوجاتی ہے اور اس تعاون سے پیدا ہونے والی مثبت انرجی مسئلہ کو سمجھنے اور اسے حل کرنے پر خرچ ہوتی ہے ۔ اس طرح کام آسان ہوجاتا ہے۔
تعلقات سے سمجھوتے Agreements پروان چڑھتے ہیں جو جیت -جیت کو نئے معنی اور سمت دیتے ہیں۔ ہم اسے کارکردگی Performance اور شراکت داری Partnership کا سمجھوتہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ سمجھوتے باہمی انحصار کا وسیع معنوں میں احاطہ کرتے ہیں۔ جیت -جیت پر مبنی سمجھوتوں میں پانچ عناصر واضع ہوتے ہیں:
من چاہا نتیجہDesired Results (طریقہ نہیں)، یہ واضح کرتا ہے کہ کیا اور کب کرنا چاہیے
رہنما اصول Guidelines، قوائد اور پالیسیوں میں رہتے ہوئے نتیجہ پانا ۔
ذرائع Resources، انسانی ، معاشی ، ٹیکنیکل یا تنظیمی ذرائع جنہیں استعمال کرکے نتیجہ حاصل کیا جائے۔
احتساب Accountability، ایسی ذمہ داری جو کارکردگی کے معیار اور وقت کی قدرپیمائی اور آزمائش کا تعین کرتی ہے۔
وضاحتِ نتائجConsequences Specify یعنی اچھا بُرا ، فطری منطقی جو نتیجہ ہو اس کی تشخیص کرنا۔
یہ پانچ عناصر جیت جیت کے سمجھوتوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔ واضح باہمی مفاہمت اور جرات مندانہ سمجھوتے ایک ایسا معیار تخلیق کرتے ہیں جس کے ذریعے لوگ اپنی کامیابی کو ناپ سکتے ہیں۔
جیت -جیت کے سمجھوتوں کے نتائج کارکردگی کا قدرتی اور منطقی نتیجہ ہوتے ہیں۔
بنیادی طور پر چار قسم کے نتائج ہوتے ہیں۔ پہلے دو ہیں سزا یا جزا Rewards and Penalties، انعام یا ہرجانہ ۔
یہ دونوں افسران بالا کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔
باقی دو ہیں معاشی یا نفسیاتی نتائج اور مواقع یا ذمہ داریاں ہیں۔
معاشی نتائج میں کمائی، انکم، الاؤنس، نفع وغیرہ آتا ہے اور نفسیاتی نتائج میں عزت، شناخت Recognition، تعریف، صلاحیتوں کا اعتراف اور اعتمادیت Credibility شامل ہیں۔
اگر لوگ زندہ رہنے کے لیے پیسے نہ کمارہے ہوں تو نفسیاتی نتائج، معاشی نتائج کی نسبت زیادہ تحریک رکھتے ہیں۔
مواقع سے مراد ٹریننگ و تربیت، ڈیولپمنٹ، اپ ڈیٹ اور دیگر سہولتیں ہیں۔ ذمہ داری کا تعلق اسکوپ اور اتھارٹی سے ہے۔ یہ دونوں بڑھ بھی سکتے ہیں اور سکڑ بھی سکتے ہیں۔
ایک سچا جیت-جیت معاہدہ فریقین کے زاویہ نظر،کردار اور تعلقات کا نتیجہ ہوتا ہے۔
کسی ادارے میں جیت – جیت ماحول تب ہی چل سکتا ہے جب وہاں کا سسٹم اسے سپورٹ کررہا ہو۔ اگر آپ اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ اپنے ادارے میں ریوارڈ سسٹم کے ساتھ اقدار اور اہداف کو ہم آہنگ کریں۔
ایسے ادارے جو جیت -جیت پر مبنی نتیجہ چاہتے ہیں میں انہیں چار مراحل پر عمل کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
1 ۔ مسئلہ کو دوسروں کے نقطہ نظر سے دیکھیے اور اسے صحیح معنوں میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ سامنے والے کی ضروریات اور خدشات کو بہتر طور پرسمجھیں۔
2۔ اہم بنیادی مسائل Key Issuesاور خدشات کی نشاندہی کریں،( اس میں پوزیشن شامل نہیں) ….
3۔ اس بات کا تعین کریں کہ مکمل طور پر قابلِ قبول حل کے لیے کیا نتائج درکار ہیں۔
4۔ ان نتائج کو حاصل کرنے کے لیے ممکنہ متبادل اختیارات Options کی شناخت کریں۔
عادت نمبر 5 اور 6 اس عمل کے پہلے دو مرحلوں کے متعلق ہے جس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ عادت 4 کے متعلق اب تک آپ نے جو بھی سیکھا اسےدوبارہ ذہن نشین کرلیتے ہیں۔
جیت -جیت کوئی شخصی پلاننگ نہیں، یہ انسانی تعلقات کا ایک مکمل زاویہ نظر ہے، یہ ذاتی تشخص، بالغ نظری اور فراخ ذہنیت سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ اعلیٰ اعتماد کے رشتے سے بڑھتا ہے ۔ یہ ایسے معاہد ہ پر منحصر ہوتا ہے جو پُراثر طریقے سے توقعات کو بھی واضع کرتا ہے۔ ان کی تنظیم بھی کرتا ہے اور ان کی تکمیل بھی کرتا ہے۔ یہ معاون نظام میں کامیاب ہے ۔
درج ذیل نکات پر عمل کیجیے:
کسی آنے والی مواقع کے بارے میں سوچیے جہاں بات چیت میں آپ معاہدے تک پہنچنے یا حل پر پہنچنا چاہتے ہیں، یہ عزم کریں کہ اس بات چیت میں آپ ہمت و حوصلے اور سمجھ بوجھ و غور میں توازن قائم رکھیں گے۔
جیت-جیت کے زاویہ نظر پر عمل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی ایک فہرست بنائیں۔ پھر تعین کریں کہ اپنے طور پر ان میں سے بعض رکاوٹوں ختم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
ایک مخصوص رشتہ یا تعلق منتخب کیجیے۔ جہاں آپ جیت -جیت معاہدہ کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اب خود کو دوسرے شخص کی جگہ رکھنے کی کوشش کیجیے اور واضح طور پر لکھیے کہ وہ شخص حل کے بارے میں کس طرح سوچتا ہے۔ پھر اپنے نقطہ نظر سے نتائج کی لسٹ بنائیں….؟ اب دوسرے شخص سے متفقہ نکات کے بارے میں پوچھیں ۔
اپنی زندگی میں تین اہم تعلق کی شناخت کریں،
کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ ا ن میں سے ہر ایک کے جذباتی بینک اکاؤنٹس میں اعتماد توازن سے موجود ہے۔ پھر ہر ایک کے لیےمخصوص طریقہ لکھیں جس سے آپ دوسروں میں اپنے اعتماد کو مزید بڑھاسکیں ۔
اپنی سوچ کے اندر یا زاویہ نظر پر غور کریں، کیا یہ جیت – ہار والا ہے….؟
دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلق آپ کے زاویہ نظر پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے….؟ آپ کے اس زاویہ نظر کی بنیاد کیا ہے؟ اور اس بات کا تعین کیجیے کہ یہ زاویہ نظر آپ کے موجودہ حالات میں اچھی طرح سے کام کرتا ہے یا نہیں۔
جیت -جیت پر مبنی سوچ کے ایک ایسے ماڈل کو سمجھنے کی کوشش کیجیے جو مشکلات کے باوجود بھی باہمی فائدہ چاہتا ہے۔ عزم کیجیے کہ آپ اس شخص کو مزید قریب سے دیکھنے، جاننے اور سیکھنے کی کوشش کریں گے۔

ترجمہ: ہرمیس
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

عادت بدلو، زندگی بدلو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں ایک  امیر اور ایک غریب میں کیا فرق ...

بھوکے رہو بے وقوف رہو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     12جون2005کا دن تھا جب اسٹین فورڈ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن