روحانی ڈائجسٹ / ذہن و شعور / پرسنل ڈیولپمنٹ / کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 4

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


عالمی شہرت یافتہ موٹیویشنل مصنف، ماہرِتعلیم اور بزنس مین اسٹیفن رچرڈ کوؤی نے 1989ء میں دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپلThe 7 Habits of Highly Effective People نامی کتاب لکھی۔ عالمی سطح پر بیسٹ سیلر ہونے کے ساتھ اب تک 75 ممالک میں 40 زبانوں میں دو کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
اس کتاب میں اسٹیفن نے بتایا کہ دنیا کے بااثر ترین اور کامیاب انسانوں میں سات عادات مشترک ہوتی ہیں اور انہی عادات کی بنیاد پر ان کے کردار کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ ان کی یہی عادتیں ان کے مستقبل کو بھی روشن بناتی ہیں۔ ان سات عادات کو سمجھ لینے اور اپنانے سے نوجوان اپنی زندگی کامیاب بنا سکتے ہیں ۔
ذیل میں ہم اسٹیفن کوؤی کی شہرۂ آفاق کتاب The 7 Habits of Highly Effective People ‘‘کامیاب اور پُراثرلوگوں کی 7 عادتیں ’’ کے خلاصے کی چوتھی قسط نوجوان قارئین کے لیے پیش کررہے ہیں۔  

قسط نمبر 4

 

عادت : 5

Seek First to be Understand then to be Understood 
پہلے خود سمجھیں پھر سمجھائیں

کامیاب اور پُراثر لوگوں میں  پانچویں عادت یہ ہے کہ وہ یہ توقعات وابستہ نہیں کرتےکہ دوسرے انہیں سمجھنے کی کوشش کریں، بلکہ کامیاب اور پُراثر لوگ دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کرتےہیں۔
پہلے آپ دوسروں کو سمجھیں، اس کے بعدان سے توقعات وابستہ کریں۔ 

اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کی بات سنیں، ان کے نظریات، احساسات اور کیفیات کو سمجھیں۔ اس سے آپ کو دوسرے لوگوں کے نقطہ نظر، احساسات اور جذبات کا ادراک ہو گا۔ اس عمل سے امکانات روشن ہو جائیں گے کہ دوسرے بھی آپ کی بات سنیں اور سمجھیں کیونکہ آپ ان کے احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بات کہیں گے۔ یہ یاد رکھیں کہ ہر انسان کے ساتھ ایک ضرورت جڑی ہوتی ہے اور اگر آپ کو اس کی ضرورت کی سمجھ آجائے تو آپ اس کا بہتر حلنکالسکتے ہیں۔
فرض کریں کہ آپ اپنی آنکھوں کا معائنہ کروانے ایک آپٹو میٹرسٹ یعنی ماہر امراض چشم کے پاس جاتے ہیں۔ آپ کی بات سننے کے بعد وہ ڈاکٹر اپنا چشمہ اتار کر آپ کو دیتا ہے اور کہتا ہے۔ ‘‘اسے پہن لیجیے !…. میں دس سال سے اسے استعمال کررہا ہوں اور مجھے اس سے بڑی مدد ملی ہے۔ آپ اسے رکھ لیجیے، میرے پاس گھر پر ایک اور ہے ۔ ’’
آپ جب اُس کا چشمہ پہنتے ہیں تو چیزیں مزید دھندلی نظر آنے لگتی ہیں۔ آپ شکایت کرتے ہیں کہ ‘‘یہ عینک صحیح نہیں ہے ، مجھے کچھ نظر نہیں آرہا… ’’
اس پر ڈاکٹر کہتا ہے ‘‘اس میں کیا خرابی ہے، میں تو روز اسے پہنتا ہوں ، تم دوبارہ کوشش کرو….’’
آپ دوبارہ زور دے کر کہتے ہیں، ‘‘میں دیکھنے کی کوشش کررہا ہوں مگر سب کچھ دھندلا ہے۔ ’’
ڈاکٹر کہتا ہے کہ ‘‘بھئی آپ کے ساتھ کیا پرابلم ہے؟، اپنی سوچ کو مثبت رکھو، ایک بار پھر سے کوشش کرو…’’
آپ جھلا کر کہتے ہیں ‘‘ کیا مطلب ہے مثبت سوچ رکھو …. بھئی میں کچھ نہیں دیکھ پارہاہوں۔’’
اب ڈاکٹر افسوس کے ساتھ تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے، ‘‘بیٹا! تم بڑے ناشکرے ہو، حالانکہ میں نے تمہاری مدد کرنے کی بہت کوشش کی ۔’’
اگر آپ کو پھر کبھی آنکھوں کا مسئلہ ہوا تو اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ آپ واپس اس ڈاکٹر کے پاس جائیں گے۔ میرا خیال ہے بالکل نہیں…. آپ کسی ایسے انسان پر کبھی اعتماد نہیں کریں گے جو تشخیص سے پہلے ہی علاج تجویز کردے۔
لیکن ہم خود اپنی زندگی میں اس ڈاکٹر کے جیسے ہی ہیں۔ جب ہم لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں تو ان کے بات کو اچھی طرح سمجھنے سے پہلے ہی سولوشن دینا یا ایک طرح سے لادنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم میں کفتگو پر جھپٹ پڑنے یا انہیں نصیحت سے درست کردینے کی بڑی جلدی ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ کو گہرائی سے سمجھنے اور اصل وجہ تشخیص کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم یہ بہت آسانی سے بولتے ہیں کہ کوئی ہمارے جذبات نہیں سمجھتا مگر خود کبھی بھی سامنے والے کے جذبات نہیں سمجھتے۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ سامنے والے نے کیا کہا ہے اور کس طرح کہا ہے ، جبکہ اہم سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کہا….؟ اور یہ بولتے ہوئے اس کے جذبات اور مقصد کیا تھا….؟
دنیا میں سب سے اہم کام انسانوں کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے۔ یہ زندگی کی سب سے ضروری اسکل ہے، انسانوں کے درمیان بہترین رابطہ اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب آپ کے اندر دوسروں کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو۔
‘‘پہلے دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کرو پھر اپنی بات انہیں سمجھاؤ۔’’ یہ لوگوں کے درمیان پُر اثر ابلاغ کی کلید ہے۔
آپ اس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہیں جو میں نے لکھی ہے، لکھنا پڑھنا، دونوں ابلاغ کی قسمیں ہیں، اسی طرح بولنا اور سننا بھی ابلاغ کی قسمیں ہیں۔ اب ذرا سوچیں….! ہم اپنا سب سے زیادہ وقت ان چاروں میں سے کس پر خرچ کرتے ہیں۔
آپ کئی سال ایسے تعلیمی اداروں میں گزاردیتے ہیں جہاں پڑھنا، لکھنا اور بولنا سکھایا جاتا ہے لیکن سننے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟، ایسا کون سا انسٹیٹیوٹ یا ادارہ ہے جو آپ کوسننا سکھاتا ہے….؟ شاید کوئی نہیں۔
نسبتاً بہت کم لوگ ہیں جنہیں سننے کی باقائدہ ٹریننگ حاصل ہوتی ہے جبکہ یہ ابلاغ کے لیے بہت اہم ہے۔ آپ کو کسی فرد، ٹیم یا سربراہ سے پُراثر تعلق قائم رکھنا ہے تو سب سے پہلے اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ لوگوں کی نیچر، مزاج، نفسیات، کردار اور عادتوں کو سمجھنا سب سے ضروری چیز ہے۔
فرض کریں آپ اپنے بزنس کے لیے مجھ سے تعلق بنانا چاہتے ہیں، تو پہلے آپ کو مجھے سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ سمجھنے کے لیے مصنوعی تکنیکس استعمال کریں گے، جیسے زبانی طور پر میرے جذبات اور ضروریات کو سمجھنے کا ڈراما کریں گے تو مجھے جلد یا بدیر آپ کے دوغلے پن کا احساس ہوجائے گا، اور پھر میں آپ کے ساتھ کھل کر بات کرنے میں تحفظ محسوس کروں گا۔
یاد رہے مجھ پر اثر انداز ہونے والی اصل چیز آپ کا رویہ ہوتا ہے، جو قدرتی طور پر آپ کے انداز سے پھوٹتا ہے۔ میں نہ اس رائے سے اثر انداز ہوں گا جو لوگ آپ کے ساتھ رکھتے ہیں اور نہ اِس خیال سے کہ آپ کو مجھ سے اور مجھے آپ سے کیا توقع رکھنی چاہیے ۔ یہ تو بعد کے تجربات سے واضح ہو ہی جائے گا۔ اصل چیز آپ کا رویہ اور کردار ہے جو روشنی کی طرح پھوٹتا ہے، اور اس کی وجہ سے ہی آپ کی کوششوں کے نتیجے میں، میں آپ پر بھروسہ کروں گا ۔
اگر آ پ کے کردار اور مزاج میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے ، مثلا آپ کسی وقت تحمل مزاج اور کسی وقت گرم مزاج ، کبھی خوش کبھی اچانک ہائپر ہوجاتے ہیں تو ایسے میں، میں اور دوسرے لوگ بھی اپنی آرا ء، تجاویز، تجربے اور جذبات بتانے میں احتیاط کریں گے کہ کیا پتہ کب کیا مزاج ہو؟
میں بھی تب تک کھل کر آپ سے بات نہیں کروں گا جب تک مجھے یہ نہ پتہ چل جائے کہ آپ میرے جذبات، ضروریات کو سمجھیں گے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ میری پرواہ کرتے ہیں یا مجھے سراہتے بھی ہوں، لیکن اگر آپ یہ محض الفاظ میں کہتے ہیں تومیں اس پر یقین کیسے کروں گا ؟، جب تک آپ مجھے سمجھتے نہ ہوں۔ میں تب تک آپ کے مشورے سے متاثرنہیں ہوں گا جب تک آپ میری انفرادیت سے متاثر نہیں ہوں گے۔
اگر آپ باہمی روابط کی اس عادت میں مؤثر بننا چاہتے ہیں، تو یہ صرف تکنیک کے بل بوتے پر نہیں کرسکتے ۔ اس کے لیے آپ کو ہم احساسی اور ہم آہنگی سے سننے کا ہنر پیدا کرنا ہوگا۔ جس کی بنیاد کردار پر ہو اور جو اعتماد اور بے تکلفی کو جوش دے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنا جذباتی بینک اکاؤنٹس بھی اعتماد سے بھرنا ہوگا تاکہ دلوں کے درمیان لین دین ہوسکے۔
‘‘پہلے خود سمجھیں’’ کے لیے پہلے آپ کو اپنے طرزفکر اور زاویہ نظر میں تبدیلی درکار ہے ۔
عام طور پر ہم یہ چاہتےہیں کہ پہلے لوگ ہمیں سمجھیں، زیادہ تر لوگ محض اس منشا Intention کے ساتھ دوسروں کی بات سنتے ہیں کہ انہیں بس Reply کرنا ہے، سمجھنا نہیں ہے۔ وہ یاتو آپ اندر ہی اندر خود کو سنتے ہیں اور یا پھر بولنے کی تیاری کررہے ہوتے ہیں کہ آپ کو آگے کیا کہنا ہے، کیا سوال پوچھنا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
آپ جو کچھ بھی سنتے ہیں وہ آپ کی زندگی کے تجربات Life-Experiences اور زاویہ نطر سے چھن كر آپ تک پہنچتا ہے۔ آپ جو سنتے ہیں اسے اپنی زندگی کے تجربات سے موازنہ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔ اور اس کی وجہ سے آپ دوسرے کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی اپنے ذہن میں ایک خیال بنا لیتے ہیں کہ سامنے والا کیا کہنا چاہتا ہے۔ آپ دوسروں کی زندگیوں کو اپنے تجربات اور آپ بیتیوں سے پرکھ رہے ہوتے ہیں۔
‘‘ارے، مجھے معلوم ہے کہ تم کیسا محسوس کر رہے ہو۔ مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا’’۔
‘‘میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا’’۔
‘‘میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ایسے وقت میں میں نے کیا کیا تھا’’۔
آپ اپنی زندگی کی فلم کو دوسروں کے رویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کی آنکھوں کے لیے اپنی عینک تجویز کرتے ہیں۔
ایک باپ نے شکایت کی کہ
‘‘میں اپنے بیٹے کو نہیں سمجھ سکتا ، وہ میری بات نہیں سنتا’’۔
میں نے اس کی بات کو اپنے الفاظ میں دہرایا ‘‘آپ اپنے بچے کو نہیں سمجھتے چونکہ وہ آپ کی بات نہیں سنتا۔’’ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
میں نے پھر دہرایا ‘‘آپ اپنے بچے کو نہیں سمجھتے اس لیے کہ وہ آپ کی بات نہیں سنتا۔’’
‘‘یہی تو میں کہہ رہا ہوں’’۔اس نےجھلاکر کہا۔ پھر میں نے کہا ‘‘میرا خیال ہے کہ کسی کو سمجھنے کے لیے اس کو سننے کی ضرورت ہوتی ہے’’۔
‘‘اوہ …. اچھا’’ وہ تھوڑی سوچ میں پڑ گیا پھر بولا ‘‘لیکن میں تو اسے سمجھتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ وہ کس حالات سے گزررہا ہے، میں خود اس دور سے گزرچکاہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ میری بات سنتا کیوں نہیں….؟ ’’
اب ان صاحب کو کون سمجھائے کہ ان کو ذرّہ برابر بھی معلوم نہیں کہ ان کے بیٹے کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ اپنے بیٹے کی بات سنے بغیر ہی انہوں نے بس اپنا دماغ دیکھا کہ اس عمر میں ان کے ساتھ کیا بیتا تھا اور سوچ لیا کہ وہ اپنے بیٹے کو سمجھتے ہیں۔
بہت سارے معاملات میں ہم ایساہی کرتے ہیں۔ ہماری سوچ خود ہماری اپنی آپ بیتی سے بھری رہتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اسے سمجھیں، ہماری بات چیت اور بحثیں دراصل خود اپنے آپ سے ہوتی ہیں اور ہم سوچتے بھی نہیں کہ دوسرے انسان کے اندر کیا گزر رہی ہے۔ چونکہ ہم اپنی زندگی کے تجربات کے حساب سے ہی دوسروں کو سنتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی شخص ہم سے گفتگو کررہا ہوتا ہے، تو ہم عام طور پر اُسے ‘‘چار طریقوں ’’سے سنتے ہیں:
یا تو ہم دوسرے کی باتوں کو پوری طرح نظر انداز کردیتے ہیں اور سرے سے سنتے ہی نہیں۔
یا پھر سننے کی ایکٹنگ کررہے ہوتے ہیں اور زبان سے محض جی جی ہاں ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں۔
یا پھر ہم کچھ کچھ سنتے ہیں اور گفتگو کے کچھ ہی حصوں پر توجہ دیتے یا غور کرتے ہیں۔
یا پھر پوری گفتگو غور سے سنتے ہیں اور ایک ایک لفظ پر اپنی توجہ رکھتے ہیں۔
ہم میں ایسے لوگ کم ہی ہوں گے جو پانچویں طریقے پر عمل کرتے ہوں گے اور گفتگو کو ہم آہنگی اور ہم احساسی Empathy کے ساتھ سنتےہوں گے۔
ہم آہنگی یا ہم احساسی سے سننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسرے کی گفتگو کو مستعدی سے سنیں اور اس کے ایک ایک لفظ پر غور کریں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ دوسرے کی گفتگو اس طرح سنیں کہ آپ کے اندر اسے سمجھنے کی نیت ہو، آپ دوسرے کی شخصیت اور زاویہ نظر اور خیالات میں داخل ہوکر باتوں کو اس طرح سمجھیں جیسا کہ دوسرا شخص دیکھتا ہے۔ ایک طرح سے دوسرے شخص کو ذہنی و جذباتی طور پر سمجھتے ہوئے اس کے ہم خیال بن جائیں۔
ہم احساسی کے تحت سننے میں محض الفاظ سن لینا اور سمجھ لینا کا فی نہیں ۔ ماہرین کے مطابق گفتگو میں ہمارے الفاظ کا کردار صرف 10 فیصد ہوتاہے، 30 فیصد کردار ہماری آواز کا اور 60 فیصد کردار ہماری جسمانی زبان یعنی باڈی لینگویج کا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم احساسی کے ساتھ سننے میں صرف کان ہی نہیں دل بھی استعمال کریں اور دماغ کے دونوں حصوں اور احساسات کا استعمال کریں ۔
ہم احساسی کے ساتھ سننے کی ایک معالجی اہمیت بھی ہے اس سے آرام اور نفسیاتی آسودگی بھی میسر آتی ہے۔ یہ بذات خود دوسروں کے جذباتی اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانے کے مترادف ہے۔
‘‘پہلے دوسروں کو سمجھنا اور پھر سمجھانا ’’ ایسے ہی ہے کہ ‘‘پہلے تشخیص کرنا اور پھر نسخہ تجویزکرنا’’۔
یہ مشکل تو ہے لیکن ایک درست اصول زندگی ہے۔ یہ سچے اور کھرے پیشہ ور لوگوں کا خاصہ اور نشانی ہے۔ یہ عینک ساز کے لیے اور ڈاکٹر کے لیے انتہائی اہم اصول ہے۔ آپ کسی ڈاکٹر کے نسخہ Prescription پر اس وقت تک اعتماد نہیں کریں گے جب تک کہ آپ کواس کی تشخیص Diagnosis پر اعتماد نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیلز مین کے لیے بھی درست اصول ہے۔ ایک ناتجربہ کار سیلز مین پراڈکٹ بیچتا ہے جبکہ ایک پُر اثر سیلز مین گاہک کو ضرورت اور مسائل کا حل بیچتا ہے۔
یہ اصول قانون کے سلسلے میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، ایک ماہر وکیل پہلے اپنے مخالف کے نقطہ نظر سے کیس تیار کرتا ہے پھر اس کے بعد اپنی دلیلں تیار کرتا ہے۔ کمپنی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے ، جہاں کسی بھی پراڈکٹ کو بنانے سے پہلے صارفین کے مزاج اور پسند پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ‘‘پہلے دوسروں کو سمجھنا اور پھر سمجھانا ’’  کا یہ اصول ہر شعبہ زندگی میں ضروری ہے ، یہ لوگوں کے درمیان تعلق کا ایک طاقتور اصول ہے۔
جس طرح ہماری سوچ خود ہماری آپ بیتی سے بھری رہتی ہے اور ہم اپنی زندگی کے تجربات کے حساب سے ہی دوسروں کو سنتے ہیں۔ اسی طرح ردِ عمل اور جواب بھی ہم چار طریقے سے ہی دیتے ہیں۔

  1. تخمینہ(Evaluating ): پہلے سے judge کرلیتے ہیں اس کے بعد اتفاق یا اختلاف کا اظہار کرتے ہیں۔
  2. کریدنا (Probing): اپنے حساب سے سوال جواب کرنے کے لیے چھان بین کرنا ۔
  3. نصیحت (Advising): مکمل بات سننے سے پہلے ہی نصیحت کرنا، مشورہ دینا اور حل تجویز کرنا ۔
  4. تشریح(Interpreting): آپ دوسروں کے مقصد ، نیت اور رویے کو اپنے Experience کے مطابق Analyze کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اندازے لگاتے ہیں….


شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ اپنے تجربات Experience کے مطابق کسی کو مشورہ دینے میں برائی کیا ہے….؟
کچھ Situations میں ایسا کرنا مناسب ہو سکتا ہے، جیسا کہ جب کوئی آپ سے آپ کے تجربات کی بنیاد پر کچھ بتانے کے لئے کہے، جب آپ دونوں کے درمیان ایک اعتماد کا رشتہ ہو۔ لیکن ہمیشہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔
بہترین تعلقات کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھانے سے قبل خود ان کو سمجھیں۔ ورنہ سمجھانا مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑھانے کا باعث بن جائے گا۔ جب تک ہم اس بات سے آگاہ نہ ہوں کہ ہمارا مخاطب ذہنی طور پر کس مقام پر کھڑا ہے اور وہ کن مسائل میں گھرا ہوا ہے، ہمارا سمجھانا نہ صرف ایک کارِ عبث ہوتا ہے بلکہ بعض حالات میں صورت حال کو بگاڑنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ جب آپ خود یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے آپ کو اور آپ کے نقطہ نظر کو سمجھیں تو بعینہ یہی توقع دوسرے بھی آپ سے کرتے ہیں ۔
بعض اوقات لوگوں میں چیزوں پر جھپٹ پڑنے یا انہیں نصیحت سے درست کردینے کی بڑی جلدی ہوتی ہے۔ لیکن وہ مسئلہ کو گہرائی سے سمجھنے اور اصل وجہ تشخیص کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ کبھی بھی دوسرے شخص کے اندر داخل ہوکر اس کی نظر سے دنیا کو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک آپ ہم احساسی کا ہنر نہیں سیکھیں گے۔ مثبت جذباتی بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکیں گے ۔
دنیا بھر کی نصیحتیں بھی اگر اکھٹی کردی جائیں تو بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں تاوقتیکہ آپ اصل مسئلہ پر توجہ نہ دیں اور اسے سمجھ نہیں رہے ہوں۔ اور ہم اصل مسئلے تک تب تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ ہم اپنی آپ بیتی کے چکر سے باہر نکل کر اور اپنے زاویہ نظر کی عینک کو اتار کر دوسرے کی نظر سے دنیا کو دیکھنا نہ شروع کردیں۔ آپ جیسے جیسے دوسرے لوگوں کو گہرائیوں سے سننا سیکھنے لگیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ لوگوں کے ادراک میں کتنا فرق ہوسکتاہے اور احساس ہوگا کہ جب لوگ باہم کام کرنا چاہتے ہیں تو اس معمولی فرق کا کس قدر گہرااثر پڑتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ایک شخص دنیا کو خاندان کی عینک سے دیکھتا ہو اور دوسرا کاروبار کی عینک سے۔ ہوسکتا ہے ایک ‘‘بہت ہے’’ کی ذہنیت رکھتا ہو اور دوسرا ‘‘کم ہے ’’کی ذہنیت رکھتا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ایک دائیں دماغ سے وجدانی انداز میں سوچتا ہوں اور دوسرا بائیں دماغ سے تجزیاتی اندازسے۔
دو انسانوں کے ادراک اور خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں ، لیکن ان تمام اختلافات کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سالوں اکھٹا رہ سکتے ہیں، کاروبار کرسکتے ہیں۔
وہ یہ کیسے کریں گے؟ جواب ہے عادت نمبر 5…. یہ جیت /جیت کے عمل میں پہلاقدمہے۔
اب تک ہم نے دوسروں کی بات سمجھنے کی کوشش پر بات کی، اب باری ہے عادت نمبر 5 کے دوسرے حصے کی ۔ یعنی یہ معلوم کرنا کہ اپنی بات دوسروں کو سمجھانی کیسے ہے۔
پچھلی عادت میں ہم نے پختگی یا بالغ نظری کا ذکر کیا تھا کہ یہ ہمت و حوصلہ اور سوچ سمجھ کے درمیان توازن کا نام ہے۔ ٹھیک اسی طرح عادت نمبر 5 بھی ان دونوں کے توازن کا ہی نام ہے۔ دوسرے کو سمجھنے کے لیے سوچ سمجھ کا ہونا ضروری ہے اور دوسروں کو سمجھانے کے لیے ہمت و حوصلہ کا ہونا ضروری ہے۔ جیت جیت کے لیے دونوں کی اعلی درجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
لہذا باہمی روبط اور باہمی انحصار کے لئے ضروری ہے کہ کہ لوگ بھی ہمیں سمجھیں۔
ابتدائی یونانیوں میں ایک شاندار فلسفہ تھا، جیسے ارسطو نے اپنی کتاب فنِ خطابت Rhetoric میں بیان کیا ہے۔
اس فلسفے میں فنِ خطابت کے تین طریقے بالترتیب تین الفاظ میں بیان کیے گئے: Ethos, Pathos & Logos  ایتھوس، پاتھوس ، لوگوس ….
میرے خیال میں یہ تین الفاظ دوسروں کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے سمجھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایتھوس آپ کی ذاتی معتبریت Credibility یا کردار ہے، یعنی لوگوں کا آپ کے تشخص اور اہلیت و استعداد پریقین ۔ یہ آپ پر دوسروں کا اعتماد ہے ، آپ کا جذباتیبینکاکاؤنٹ۔
پاتھوس ہمدردی اور احساسات کی طرف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے شخص سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے جذبات کو برابر سمجھتے ہیں۔
اور لوگوس کا مطلب ہے عقل، منطق ، لاجک۔ یعنی آپ اپنی بات استدلال کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
ترتیب کو نوٹ کریں : پہلے ایتھوس، پھر پاتھوس اور پھر لوگوس ۔
آپ کا کردار ، آپ کے احساسات، اور پھر آپ کی منطق۔ یہ زاویہ نظر کی تبدیلی کی ایک اہم نمائندگی کرتا ہے۔
زیادہ تر لوگ اپنی بات شروع کرتے ہوئے براہ راست منطق پر پہنچ جاتے ہیں، یہ علامت ہے بائیں دماغ(لاجک) والوں کی، وہ دوسروں کو اپنی منطق اور عقل کی اہمیت سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ایتھوس (کردار )اور پاتھوس (احساس ) کے بغیر ان کی بات لوگوں کے اندر نہیں اترتی۔ جب آپ اپنے خیالات کو واضع، خصوصا بصیرت اور سب سے اہم صحیح تناظر میں یعنی ان کے زاویہ نظر اور خیالات کو سامنے رکھ کر پیش کرتے ہیں تو آپ پر لوگوں کے اعتبار (Credibility میں اضافہ ہوتا ہے۔
عادت نمبر 5 آپ کو اپنے خیالات کی پیشکش میں زیادہ معتبر اور کامل بناتی ہے۔ لوگ یہ مانیں گے کہ آپ ایسے خیالات پیش کر رہے ہیں جن پر آپ واقعی یقین رکھتے ہیں۔ یہ بات کرنے سے پہلے آپ نے حقائق پر نظر ڈالی ہے اور دوسروں کے زاویہ نظر اور خیالات پر بھی غور کیا ہے۔
عادت نمبر 5 طاقتور ہے کیونکہ آپ کے اثر کے دائرے کے عین مرکز میں ہے۔ باہمی انحصار میں بہت سے عوامل فکر کے دائرے میں ہوتے ہیں۔ مسائل، اختلافات، حالات اور رویے، اگر آپ اپنی توانائی ان چیزوں پر مرکوز کریں گے تو آپ کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہوگا۔ لیکن جب آپ پہلے دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اثر کے دائرے پر توجہ مرکوز کریں گے، تو آپ دوسروں کو گہرے انداز میں سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کے پاس کام کی درست معلومات دستیاب ہوجاتی ہیں۔ آپ مسائل کی تہہ تک فوراً پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کے جذباتی بینک اکاؤنٹ میں رقم بڑھنے لگتی ہے اور اس کے نتیجے میں آپ دوسروں کے ساتھ زیادہ موثر طریقے سے مل کر کام کرسکتے ہیں۔
یہ اندر سے باہر کی جانب Inside Out تک رسائی ہے۔ اسے کام میں لانے سے آپ کے اثر کے دائرے میں تبدیلی آتی ہے۔ آپ حقیقتاً سنتے ہیں لہٰذا آپ دوسروں کے لیے قابِل تاثیر بن جاتے ہیں اور یہی چیز دوسروں پر اثر انداز ہونے کی شرط ہے۔ آپ کے اثر کا دائرہ بڑھنے لگتا ہے اور آپ اپنے فکر کے دائرے میں بہت سی چیزوں پر اثر انداز ہونے کے قابل ہونے لگتے ہیں۔
جس قدر گہرائی کےساتھ آپ دوسروں کو سمجھیں گے اسی قدر آپ ان کو سراہ سکیں گے اور ان کی روح کو چھو سکیں گے۔
عادت نمبر 5 کی آپ ابھی سے پریکٹس شروع کردیں۔ لہٰذا آئندہ جب آپ کسی کے ساتھ گفتگو کریں تو آپ اپنی زندگی کے تجربات کو ذرا پرے رکھ کر دوسروں کو صحیح معنوں میں سننے کی کوشش کریں۔ اس مقصد سے نہ سنیں کہ ان کی بات کا بس جواب دینا ہے، بلکہ ان کو سمجھنے کی کوشش بھی کریں اور سب سے اہم ہے کہ انہیں محسوس کروائیں کہ آپ واقعی ان کے جذبات اور ان کی بات کو سمجھتے ہیں !…. دوسروں کی بات سننے اور سمجھنے سے پہلے تخمینہ لگانے ، مشورہ دینے اور اپنے خیالات و تجربات کو پیش کرنے سے گریز کریں۔
لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ آپ انہیں گہرائی کے ساتھ سمجھنے میں جتنا وقت لگائیں گے وہ سب ایسے آزادانہ ابلاغ کے منافع کی صورت میں آپ کو واپس ملے گا ۔ جس سے ایسے بہت سے مسائل جو تعلقات میں پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں، وہ پیدا ہی نہیں ہوں گے۔
ابلاغ جس قدر آزادانہ ہوتا ہے مسائل کی جڑ تک پہنچنا اتنا ہی آسان اور ان مسائل کے حل کے لئے جذباتی بینک اکاؤنٹ میں اعتماد کا ذخیرہ اتنا ہی زیادہ موجود ہوگا۔
جب ہم ایک دوسرے کو واقعی اور گہرے طور پر سمجھنے لگتے ہیں تو پھر ہم مسائل کے حل اور متبادلات کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اس دوران ہمارے اختلافات راہ میں حائل نہیں ہوتے بلکہ ہم باہمی عمل Synergyکی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ جس کا ذکر ہم عادت نمبر 6 میں کریں گے۔
درج ذیل نکات پر عمل کیجیے:

  • کسی ایسے فرد کو چُنیں جس کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ آپ کا جذباتی بینک اکاؤنٹ تقریباً خالی ہوچکا ہے۔ صورتحال کو اس کی نظر سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اسے لکھ لیں۔
  • آئندہ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سنیں اور سمجھیں ۔ اپنے لکھے ہوئے الفاظ کا تقابل سنی ہوئی باتوں کے ساتھ کریں کہ آپ کے مفروضات کس حد تک درست تھے اور کیا آپ واقعی اس فرد کے تناظر کو سمجھتے تھے….؟
  • عادت نمبر 5 کے بارے میں اپنے قریبی دوست کو بتائیں کہ آپ دوسروں کو سننے اور سمجھنے پر کام کر رہے ہیں اور اسے کہیں کہ ایک ہفتے کے بعد وہ اپنا مشاہدہ بتائےکہ آپ کی کارکردگی کیسی رہی….؟ اور دوسرے لوگ آپ کی تبدیلی پر کیسا محسوس کررہے ہیں….؟
    آئندہ جب لوگوں کو آپس میں گفتگو کرتا دیکھیں تو چند منٹ ان کے الفاظ سننے کے بجائے ان کے جذبات پر دھیان دیں ….؟
  • کسی سے گفتگو کے دوران اگر آپ خود کو بات کریدتے، نصیحتیں کرتے یا تخمینہ لگاتے دیکھیں تو اس ردعمل کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ کر گفتگو کو مثبت طور پر بدل دیں (میں معافی چاہتا ہوں، مجھے ابھی احساس ہوا ہے کہ میں نے آپ کی گفتگو پوری طرح سمجھنے سے پہلے آپ کی بات کاٹ دی)
  • آئندہ کسی میٹنگ یا گفتگو میں دوسروں کا نقطہ نظر خود ان سے زیادہ بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں، پھر کوشش کریں کہ آپ کے نقطہ نظر کو وہ اپنے تناظر میں سمجھ سکیں۔


ترجمہ: ہرمیس
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

بھوکے رہو بے وقوف رہو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     12جون2005کا دن تھا جب اسٹین فورڈ ...

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن