روحانی ڈائجسٹ / جہاں نما / پراسرار و حیرت انگیز / کششِ ثقل سے آزاد… مقامات

کششِ ثقل سے آزاد… مقامات

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..

 


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

 

کششِ ثقل سے آزاد…

کیا آپ نے کبھی پانی چڑھائی کی جانب بہتے ، یا کسی شے کو ڈھلوان کی بجائے چڑھائی کی جانب لڑھکتے دیکھا ہے….؟ دنیا کے کئی مقامات ایسے ہیں جہاں کششِ تقل کم ہوجاتی ہے اور بعض انسانوں میں بھی یہ صلاحیت دیکھی گئی ہے!

 

مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن پہلا شخص تھا جس نے سترھویں صدی میں درخت سے سیب گرتے ہوئے دیکھا تو یہ خیال پیش کیا کہ زمین کے اندر ایسی قوت ہے جو چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اس قوت کو کششِ چقل کا نام دیا گیا۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ کششِ ثقل، وہ قوت ہےجس سے کمیت رکھنے والے تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں عام مفہوم میں یہ وہ قوت ہے جس سے زمین تمام اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
عام زندگی میں اس قوت کا احساس ہمیں کسی چیز کے وزن کی صورت میں ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق کسی جسم میں موجود مادے کی مقدار کو اس کی کمیت کہتے ہیں جبکہ وزن سے مراد وہ قوت ہے، جس سے زمین کسی مادی شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اصل میں زمین پر گرنے والے اجسام زمین کی کشش کی وجہ سے گرتے ہیں۔ زمین کی کمیت اس پر گرنے والی اشیاء کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اشیاء کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس کشش کو ہم کششِ ثقل کہتے ہیں۔
جیسے جیسے ہم زمین کے مرکز سے دور ہوں تو وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے ایک ہی شے کا وزن دو مقامات پر مختلف ہو سکتا ہے ، چنانچہ کسی بھی شے کا سطح سمندر پر کیا گیا وزن، اونچے پہاڑ کی نسبت زیادہ ہوتاہے۔
اگر کسی بلند عمارت میں نصب لفٹ نیچے جانا شروع کرتی ہے تو لفٹ میں موجود ہر چیز کا وزن کم ہو جاتا ہے مگر جب لفٹ رکنے لگتی ہے تو وزن بڑھنے لگتا ہے….!
اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ زمین کی طرح کائنات میں موجود سیاروں اور ستاروں کے درمیان بھی کششِ.ثقل ہے، اسی لیے سب اپنے مدار پر گردش کررہے ہیں۔ مثلاً چاند زمین کے گرد کشش کی وجہ سے حرکت کر رہا ہے اسی طرح نظامِ شمسی کے تمام سیارے بھی سورج کے گرد اسی بندھن سے بندھے ہیں۔ مگر دوسری جانب سائنسدان یہ بھی کہتے ہیں کہ زمین سے چاند کی طرف جانے والے راکٹ زمین کے مدارسے نکلتے ہی بے وزن ہوجاتے ہیں اور چیزیں معلق ہوجاتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پھر کشش کہاں چلی گئی….؟
اسی طرح سورج اور سیارگانِ شمسی کے درمیان بھی بے وزنی کا لامحدود خلا موجود ہے تو پھر ان کی کششکہاںگئی…..؟
اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں وضاحت طلب ہیں۔ برطانیہ کے ادارے برٹش جیولوجیکل سروے نے چالیس سال کی محنت کے بعد پورے برطانیہ کا ثقلی نقشہ بنایا تو یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ برطانیہ کے کئی خطوں میں کشش ثقل میں فرق پایا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشش ثقل کے متعلق حتمی معلومات سائنسدانوں کے پاس موجود نہیں۔
کرۂارض پر ہی کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں کششِ.ثقل کی بے ضابطگی Gravity anomalies پائی جاتی ہے ۔ ارضیات دان ابھی تک اس کی وجہ معلوم نہیں کرسکے ہیں۔

 

مدینۃ المنورہ کی جنات کی وادی

حج و عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے اکثر زائرین اس بات سے واقف ہوں گے کہ مدینۃ المنورہ سے تقریباً 35 کلو میٹر فاصلہ پر ایک وادی ہے، جو وادی بیضاء اور وادی بیداء کے نام سے مشہور ہے۔ لوگ اسے جنوں کی وادی بھی کہتے ہیں۔ اسے یہ نام دینے کی وجہ دراصل اس وادی کی عجیب وغریب خصوصیت ہے۔ اس وادی میں موجود ایک سڑک پر گاڑی چڑھائی کی جانب خود بخود 20 سے 60 کلومیٹر کی رفتار سے چلتی ہے۔ بس گاڑی کو بغیر ریس کے نیوٹرل کر کے چھوڑ دیں۔ یہی نہیں اسی وادی میں اگر سڑک پر تھوڑا پانی بھی گِرا دیا جائے تو اس کا رُخ چڑھائی کی جانب ہوتا ہے۔ بعض لوگ اسے جنات سے وابستہ کرتے ہیں، بعض لوگوں کے خیال میں یہ مقناطیست ہے یا پھر کشش ثقل کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف نظروں کا دھوکہ ہے۔
خدا ہی جانے حقیقت کیا ہے…. ؟
لیکن یہ صرف ایک وادی نہیں ہے، دنیا کے کئی خطوں میں ایسے مقامات پائے جاتے ہیں جہاں اس طرح کی صورتحال پیش آتی ہے اور گاڑیاں، بہتے پانی اور دیگر چیزیں ڈھلوان کی بجائے چڑھائی کی جانب چڑھنے لگتی ہیں۔
دنیا بھر کے لوگ ان مقامات کو مختلف نام دیتے ہیں…. اسے جنات اور بھوتوں کی کارستانی سمجھنے والے اسے اسپوکی ہِل Spooky Hill کہتے ہیں، جو لوگ اسے مقناطیسی میدان کی طرح سمجھتے ہیں وہ اسے میگنیٹک ہِل Magnetic Hills کہتے ہیں اور کششِ ثقل کی بےضابطگی ماننے والے لوگ ان مقامات کو گریوٹی ہِل Gravity Hillsکے نام سے پکارتے ہیں۔


دنیا بھر میں اب تک اس طرح کے 80 مقامات دریافت ہوچکے ہیں جو جنوبی آسٹریلیا، نیوساؤتھ ویلز، برازیل،کینیڈا، چین، ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، انڈونیشیا، اٹلی، کوریا، ملائشیا، میکسکو، عمان، فلپائن، پرتگال،رومانیہ، گوئٹے مالا، انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، امریکہ کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بھارت میں بھی موجود ہیں۔ان مقامات پر بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں اور زمین کی اس عجیب وغریب چکرا دینے والی کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

 


ان مقامات پر تحقیق کرنے والے سائنسدان اسے نہ تو کشش تقل میں بے ضابطگی سمجھتے ہیں، نہ مقناطیسی اثرات اور نہ ہی جنات کی کارستانی….! سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ میگنیٹک ہل جیسے مقامات محض ہماری نظروں کا فریب ہوتے ہیں۔ اس طرح کے پراسرار مقامات زیادہ تر پہاڑی وادیوں میں واقع ہیں۔ ان وادیوں کی اونچی نیچی اور آڑی ٹیڑھی زمین پر ہمیں زمین کی صحیح سطح کا اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ہم جسے چڑھائی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ ڈھلوان ہوتی ہے۔ ہمارے تصورات جنہیں کششِ.ثقل کی بے ضابطگی اور مقناطیسی گرداب سمجھ رہے ہوتے ہیں دراصل ہماری نظروں کا فریب ہوتا ہے ۔
عام طور پر پہاڑی علاقوں میں سطح زمین کی افق Horizon غیر واضح ہوتی ہے اور اسی غیر واضح سطح پر بنی سڑکیں، اردگرد کے درخت ، عمارتیں اور دیواریں ہماری نظروں کو دھوکہ دیتی ہیں اور ہم زمین کے ٹیڑھے پن کو محسوس نہیں کرپاتے اور اس کو افقی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان مقامات پر لوگ اگر 5 ڈگری کی ڈھلوان پر کھڑے ہوں تو وہ انہیں 1 ڈگری ڈھلوان کی طرح لگتی ہے اور اگر 20 ڈگری کی ڈھلوان پر کھڑے ہیں، تو یہ لگتا ہے جیسے وہ 5 ڈگری کے ڈھلوان پر ہیں۔ اس اثر کی وجہ سے لوگ جو حقیقتاً 20سے 30 ڈگری ڈھلوان پر کھڑے ہوتے ہیں نظر کے فریب سے گاڑیوں، چیزوں اور کبھی کبھی دریاؤں کو بھی کشش ثقل کے مخالف بہتا دیکھ رہےہوتے ہیں۔


اس توجیہہ کو بیان کرکے سائنسدان اپنے خیال میں اس اسرار کو سلجھا چکے ہیں، لیکن میگنیٹک ہل کے کئی مقامات پہاڑی وادیوں کے بجائے میدانی علاقوں میں ہیں اور دوسری جانب برٹش جیولوجیکل سروے کے ثقلی نقشے Gravity and magnetic anomaly Mapبھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کششِ ثقل کے نظریات میں جھول موجود ہے۔ کیا میگنیٹک ہل جیسے مقامات پر موجود کشش ثقل میں کوئی خلل موجود ہے یا اس کے پیچھے کوئی ماورائی اور انجان سائنس کا ہاتھ ہے یا پھر یہ محض ہماری نظروں کا دھوکہ ہے….؟!!
آئندہ شمارے میں ہم چندایسےانسانوں کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے کششِ ثقل کو شکست دی ….!

 

 

 

 

 

 

اگست 2012ء۔

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

ڈھائی ہزار برس قدیم الیکٹرک بیٹری

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں     ڈھائی ہزار برس قدیم  الیکٹرک بیٹری  ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن