[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

کشورِ ظلمات ۔ قسط 14

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

(چودہویں قسط)

کمپنی کی ہائر مینجمنٹ حرا کی قابلیت، صلاحیتوں اور اُس کی لگن سے بے حد متاثر تھی…. چنانچہ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ حرا کو اُس کی محنت کا بہتر صلہ دیا جائے…. بہت غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ حرا کو لاہور کی فیکٹری میں جی ایم بناکر بھیجا جائے یوں ہائر مینجمنٹ کو ایک طرح کا اطمینان بھی رہے گا کہ لاہور کی فیکٹری کا کنٹرول ہیڈ آفس کے ایک ذمّہ دار فرد کے پاس ہے۔
جب ماہانہ میٹنگ کے دوران تمام افسران کی موجودگی میں ڈائریکٹر صاحب نے یہ اعلان کیا تو تالیوں کا شور سُن کر حرا کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوگئیں…. وہ سوچ رہی تھی کہ یہ خوشی کے آنسو ہیں یا غم کے…. کیا وہ ہائر مینجمنٹ کی اس آفر کو قبول کرلے؟…. یا کے پھر؟…. وہ عجیب گومکو کی سی کیفیت میںتھی۔
اُس نے شاید خود کو وقت کی لہروں کے سپرد کردیا تھا اور بے حس و حرکت ان لہروں کے دوش پر بہی چلی جارہی تھی…. اس لئے کامیابیوں اور ناکامیوں کا کوئی غم نہ تھا…. بس ایک موہوم سی اُمید کے سہارے جئے جارہی تھی کہ شاید کبھی نہ کبھی عمر سے ملاقات ہوگی اور وہ اپنی زندگی کا بقیہ سفر اُس کی ہمراہی میں طے کرے گی….
لاہور پہنچ کر وہ کام کے بکھیڑوں میں اس قدر اُلجھی کہ اُسے خود کا بھی ہوش نہیں رہا…. لیبر یونین اور ایڈمن کے برسوں سے چلے آرہے جھگڑے کو اُس نے چند دن کی مغز ماری کے بعد نمٹا دیا تو اُس کو کسی حد تک سکون ملا….
فیکٹری کے ساتھ ہی ایک خوبصورت بنگلے میں اُس کی رہائش تھی…. دو خادمائیں اور ایک چوکیدار…. اور اتنے بڑے بنگلے میں وہ تنہا تھی….
دن بھر معمول کے کام پھر مختلف ڈیپارٹمنٹس کی رپورٹس کو چیک کرنے کے بعد اپنے ریمارکس لکھنا اور روزانہ شام کو ڈائریکٹر صاحب سے فون پر کراچی بات کرکے مختلف مسائل پر ڈسکشن کرنا…. یوں اکثر رات کے آٹھ بج جاتے….ایک روز وہ کچھ وقت نکال کر بازار گئی اور اپنے لئے کچھ کپڑے اور دیگر ضرورت کی چیزیں خریدی…. اب جبکہ کافی چیزیں ترتیب میں آتی جارہی تھیں اور اُس کو بہت سارے معاملات کے حوالے سے اچھی رپورٹس مل رہی تھیں تو وہ اکثر لانگ ڈرائیو پر نکل جایا کرتی….
ایک روز وہ نور جہاں کے مزار پر جاپہنچی…. اُسے سخت حیرت ہوئی کہ ہندوستان کی ملکہ جس نے کسی زمانے میں اس قدر وسیع اور عریض سلطنت پر راج کیا…. آج اُس کا مزار ویرانی اور کسمپرسی کا مرقع بنا ہوا تھا…. اُس کی طبیعت کچھ دیر میں ہی اُکتا گئی اور وہ وہاں سے اُٹھ آئی…. اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ داتا صاحبؒ کے مزار چلو….
جب وہ مزار پر پہنچی تو رات ہوچکی تھی لیکن وہاں ایسا لگ رہا تھا کہ گویا دن نکلا ہو اہے…. اُس نے فاتحہ پڑھی اور آنکھیں بند کرکے بیٹھ گئی…. اُس کے ذہن پر ایک شفیق اور کرم نواز ہستی کا تصور اُبھرا…. اس کو بہت سکون مل رہا تھا…. وہ خیال سے بے خیال ہوگئی…. اپنا احساس ختم ہوگیا…. جب اُس نے آنکھیں کھولیں تو اُسے احساس ہوا کہ اس طرح بیٹھے ہوئے اُس کو ایک گھنٹے سے زیادہ ہوچکا ہے….۔ وہ مزار سے باہر آئی تو ڈرائیور اُس کا منتظر تھا….
٭٭٭٭
ایک رات گرمی کے باعث اُس کی آنکھ کھل گئی…. لائٹ چلی گئی تھی…. چوکیدار جنریٹر اسٹارٹ کر رہا تھا…. اُس نے نوٹ کیا کہ آج آوارہ کتے غیرمعمولی طور پر بہت شور کر رہے ہیں…. اُس کی خادمہ نصیباں بھی جاگ گئی تھی…. حرا نے پوچھا کہ ’’آج کتے کیوں اس قدر شور کر رہے ہیں؟…. جائو چوکیدار سے معلوم کرو‘‘….
نصیباں نے تھوڑی دیر بعد آکر بتایا کہ چوکیدار کا خیال ہے کہ شاید چوروں کا کوئی گروپ ہے جو کئی روز سے اردگرد کا جائزہ لے رہا ہے…. اور واردات کے لئے موقع کی تلاش میںہے….
اُس کے بنگلے کے سامنے ایک خالی قطعہ تھا جس کے چاروں طرف درخت لگے ہوئے تھے…. اور میدان میں بچے کرکٹ وغیرہ کھیلتے تھے…. فیکٹری میں مرمت کے لئے آنے والا تعمیراتی سامان کا بھی ایک طرف ڈھیر لگا ہو ا تھا…. اس کے آگے فیکٹری کا ویئر ہائوس تھا جہاں فیکٹری میں تیار ہونے والی پروڈکٹ پیکنگ کے بعد جمع کی جاتی تھی…. اور یہاں سے روزانہ بڑے بڑے کنٹینر میں بھر کر شپمنٹ کے لئے روانہ کیا جاتا تھا…. ویئر ہائوس کی سیکورٹی کے لئے مسلّح گارڈ دن رات ڈیوٹی دیتے تھے…. اُس نے فائل سے روسٹر نکال کر دیکھا تو آج رات سیکورٹی انچارج شوکت بھٹی کی ڈیوٹی تھی…. ویئر ہائوس کے وزٹ کے دوران شوکت بھٹی کو اُس نے دیکھا تھا…. پہلی نظر میں اُسے وہ ایک ایماندار اور محنتی شخص محسوس ہوا تھا….
حرا نے ویئر ہائوس کا نمبر ڈائل کرکے شوکت سے پوچھا کہ اُس نے کسی کی نقل و حرکت تو نہیں دیکھی…. شوکت نے بتایا کہ آج ایک ہفتہ بعد وہ نائٹ شفٹ میں آیا ہے لیکن گزشتہ ایک ہفتہ کی رپورٹ میں یہ بات ریکارڈ کی گئی ہے کہ رات کے ایک خاص وقفے میں جب حبس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور ہو بالکل بند ہوجاتی ہے تو آوارہ کتے غیرمعمولی طور پر بھونکنا شروع کردیتے ہیں….۔ ایک دن ایک کتے کی جلی ہوئی لاش بھی ملی تھی…. جس کے متعلق یہ خیال تھا کہ شاید شرارتی لڑکوں نے پاگل کتے کو مارنے کے بعد جلادیا ہو…. لیکن ایک عجیب بات یہ تھی کہ کتے کی جلی ہوئی لاش گرائونڈ کے آخری حصے سے ملی تھی جہاں ایک چھوٹا سا نالہ بہتا ہے اور جہاں پر گھاس ایک فٹ سے زیادہ بلند ہوچکی ہے…. حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گھاس اور اُس کے اردگرد دور دور تک آگ سے جلنے کی کوئی علامات نہیں پائی گئی…. اور نہ ہی ایسے کوئی آثار نظر آئے کہ کتے کو کہیںاور جلایا گیا اور بعد میں اُسے گھسیٹ کر یہاں ڈال دیا گیا ہو….
حرا نے شوکت سے کہا کہ وہ اسی طرح الرٹ رہیں….اور کوئی بھی غیر معمولی بات نظر آئے تو ایڈمن آفیسر کو رپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے بھی براہِ راست اطلاع دیں….
٭٭٭٭
ایک ہفتہ خاموشی سے گزر گیا…. اور شوکت کی بتائی ہوئی تفصیلات اُس کے ذہن سے نکل گئیں…. ایک رات تین بجے فون کی بیل سے اُس کی آنکھ کھل گئی….۔ اُس نے ہڑبڑا کر فون اُٹھایا….
’’میڈم معاف کیجئے گا…. آپ کا حکم تھا ورنہ میں اس طرح آپ کو ڈسٹرب کبھی نہ کرتا!‘‘…. دوسری طرف سے سیکیورٹی انچارج شوکت بول رہا تھا….
’’نوپرابلم! ….بولو کیا بات ہے؟‘‘…. حرا نے کہا
’’میڈم بات یہ ہے کہ آج پھر ایک کتے کی جلی ہوئی لاش ملی ہے اور دوسری بات یہ ہوئی کہ آج ایک گارڈ نے ویئر ہائوس کے پچھلے دروازے کی جانب کسی کو جاتے ہوئے دیکھا تو مخصوص انداز سے سیٹی بجاکر اُس نے اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی اور اُس جانب بڑھا…. مجھے بھی سیٹی کی آواز سنائی دے گئی تھی چنانچہ میں بھی اُسی طرف فوراً بھاگا تھا…. جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا ہمارا ایک سیکیورٹی گارڈ بے ہوش ہے….
میڈم! میں نے اُس کو اچھی طرح چیک کرلیا ہے…. اُس کے جسم پر کہیں بھی زخم کا کوئی نشان نہیں ہے…. اور نہ ہی اُس کے سر پر ضرب لگاکر اُسے بے ہوش کیا گیا ہے…. میں نے فون پر ایڈمن آفیسر نجم صاحب کو مکمل تفصیل بتادی ہے…. اور ایمبولینس بھی منگائی ہے….۔ لیجئے وہ آگئی…. اچھا میں باقی تفصیل میں آپ کو کل بتادوں گا‘‘….
’’دیکھو تم نے ایڈمن آفیسر کو یہ تو نہیں بتایا نا کہ تم مجھے بھی فون کرو گے‘‘….۔
’’نہیں جی! ایسی غلطی میں کیسے کرسکتا ہوں؟‘‘….
’’گڈ!…. کل شام کو میرے آفس میں مجھے رپورٹ دینا‘‘….
فون رکھ کر وہ دیر تک سوچتی رہی…. اُسے ایڈمن آفیسر مشکوک آدمی معلوم ہوتا تھا…. اُس کی جوائننگ سے پہلے ایک کنسائنمنٹ میں کچھ گڑبڑ ہوگئی تھی…. اور ایڈمن آفیسر نے دو افراد کو اس معاملے میں ملوث قرار دے کر انہیں نکال دیا تھا…. حرا نے اُس معاملہ کی پوری رپورٹ پڑھی تھی….۔ اُس وقت وہ یہی سوچتی رہ گئی تھی کہ اگر گھپلا پکڑا نہ جاتا تو اُن دونوں افراد کا اس میں کیا فائدہ ہوتا؟…. کچھ لمبا چکر معلوم ہوتا ہے!…. ایسا لگتا ہے کہ شاید ویئر ہائوس کا انچارج اور ایڈمن آفیسر آپس میں ملے ہوئے ہیں….خیر اصل بات تو اُس وقت پتہ چلے گی جب سیکیورٹی گارڈ ہوش میں آئے گا…. یہ سوچ کر وہ دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی….
٭٭٭٭
اگلا دن بظاہر معمول کے مطابق ہی گزرا لیکن غیر معمولی بات یہ تھی کہ ایڈمن آفیسر نے رات کے واقع کا کا کوئی تذکرہ نہیں کیا…. شام کو سیکیورٹی انچارج شوکت نے آکر رپورٹ دی کہ سیکیورٹی گارڈ کو زہر آلود سوئی چبھوکر بے ہوش کیا گیا ہے…. زہر بہت خطرناک تھا…. اللہ کے کرم سے اُس کی جان محفوظ رہی…. لیکن اُس کے ذہن پر بہت بُرا اثر پڑا ہے اور وہ اپنی یادداشت کھوچکا ہے…. ڈاکٹروںکا کہنا ہے کہ طویل علاج کے بعد امکان ہے کہ اُس کی یادداشت بحال ہوجائے گی….
حرا سر پکڑ کر بیٹھ گئی…. اُسے ایڈمن آفیسر پر سخت غصّہ آرہا تھا…. اتنا بڑا حادثہ ہوگیا اور اُس نے مجھے کچھ بتانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی…. حد ہوگئی….
مجھے اُسے بلاکر سرزنش کرنی چاہئے….
نہیں!…. اس طرح وہ ہشیار ہوجائے گا اور شوکت کو بھی پریشان کرے گا…. پھر اُسے نے ریسیور پر کریڈل واپس رکھ دیا….
ہوں!…. کچھ ایسا کرنا چاہئے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے…. یعنی مجھے سامنے آئے بغیر کارروائی کرنی چاہئے…. ورنہ مجھے بھی ہراساں کیا جاسکتا ہے….
پھر حرا نے کنسائنمنٹ رپورٹ منگوائی اور کافی دیر تک اُس کا مطالعہ کرتی رہی…. لیکن کوئی ایسی بات واضح نہ ہوسکی….
اُس روز اُس نے دوبارہ داتا صاحبؒ کے مزار پر حاضری دی اور داتا صاحبؒ کے وسیلے سے دعا کی کہ اللہ پاک مجھے سرخرو فرمائے….
اگلے روز رات گئے پھر اُس کی آنکھ کھل گئی…. آوارہ کتے بے تحاشہ بھونک رہے تھے….۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی چیز سے خوفزدہ ہوں…. آج سیکیورٹی انچارج شوکت کے بجائے ایک دوسرا بندہ ڈیوٹی پر تھا…. اُس نے نمبر ملاکر یہ سوچتے ہوئے فون رکھ دیا کہ ایک سے زیادہ بندوں کو میری تشویش کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلنا چاہئے….
٭٭٭٭
حرا ڈائریکٹر صاحب کو روزانہ فون کرتی تھی اور گزشتہ دنوں کے حالات سے بھی انہیں آگاہ کردیا تھا…. اُنہوں نے کہا کہ ویئر ہائوس انچارج کے تبادلے کے لئے میں فیصل آباد فیکٹری کے جنرل منیجر سے بات کرتا ہوں…. ویئر ہائوس کا انچارج فیصل آباد کا رہنے والا ہے…. اگر اُس کا تبادلہ اُسی کے شہر میں کردیا جائے تو اُسے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے….۔
دوسرے روز فیصل آباد کی فیکٹری کے جنرل منیجر کا لیٹر اُس کو بذریعہ فیکس موصول ہوگیا….
پروٹوکول کے مطابق حرا نے ایڈمن آفیسر کو طلب کیا اور فیصل آباد سے موصول ہونے والا فیکس اُس کے سامنے رکھ دیا…. اُس کی توقع کے برخلاف ایڈمن آفیسر کہنے لگا ’’میڈم جی! یہ ممکن نہیں…. یہ فیصل آباد والے ہر دوسرے مہینے ہمارا کوئی نہ کوئی بندہ مانگ لیتے ہیں…. ہمارا یہی کام رہ گیا ہے کہ ہم بندہ تیار کرکے اُنہیں دیتے جائیں…. نہیں جی!…. یہ ممکن نہیں ہے….۔ آپ اُن سے صاف صاف کہہ دیں‘‘….
’’بھی نجم صاحب آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں…. کل کراچی سے لئیق صاحب آرہے ہیں…. کمپنی ڈائریکٹر کے لیٹر کے ساتھ اُن کا یہاں ویئر ہائوس انچارج کی پوسٹ پر تبادلہ ہوگیا…. وہ بٹ صاحب کی جگہ سنبھال لیں گے‘‘….
ایڈمن آفیسر کچھ بولنے کے لئے منہ کھول ہی رہا تھا کہ حرا نے ٹھوس اور حتمی لہجے میں کہا ’’آپ بٹ صاحب کو کہہ دیں کہ کل وہ فیصل آباد میں رپورٹ کریں گے…. جہاز کے ٹکٹ وغیرہ کے لئے اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ کو میں نے چٹ بھجوادی ہے‘‘….
ایڈمن آفیسر کی ساری پھوں پھاں نکل گئی تھی…. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حرا کو کچا چبا جائے….
٭٭٭٭
رات کا ایک بجا تھا اور وہ کمپیوٹر پر فیض انکل سے چیٹنگ کر رہی تھی…. اچانک فائر بریگیڈ کے سائرن کے شور سے وہ ہڑبڑا سی گئی….
’’چوکیدار!‘‘…. اُس نے تقریباً چیختے ہوئے چوکیدار کو آواز دی…. چوکیدار دوڑتا ہوا اندر آیا….
’’یہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں کیوں آئی ہیں؟‘‘….
’’بی بی جی!…. سامنے والے گودام میں آگ لگ گئی ہے جی‘‘….
’’آگ!…. ڈرائیور سے بولو گاڑی نکالے‘‘….
(جاری ہے)
’’وہ تو چلا گیا جی!‘‘….۔
’’اچھا چلو میں خو د دیکھتی ہوں‘‘…. یہ کہہ کر حرا کار کی چابیاں سنبھالتی ہوئی باہر نکلی اور گاڑی اسٹارٹ کرکے، تیزی کے ساتھ ویئر ہائوس کے سامنے جاپہنچی…. ایڈمن آفیسر نجم بھی وہاں موجود تھا…. اس نے حرا کو دیکھا تو پیر پٹخ کر رہ گیا….

 

 

(جاری ہے)

مئی 2004ء

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 7

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

کشورِ ظلمات ۔ قسط 6

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے