[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

کشورِ ظلمات ۔ قسط 13

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

 

(تیرہویں قسط)

دن مہینے اور مہینے سال میں بدل گئے۔ وقت کا کیا ہے وہ تو پر لگا کر اُڑتا چلا جاتا ہے…. اُسے اِس سے کیا غرض کہ کسی کی آنکھوں میں انتظار منجمد ہوکر رہ گیا ہے…. وقت تو منجمد نہیں ہوسکتا…. کہ وہ تو حرکت کا دوسرا نام ہے…. اور کائنات کا سسٹم حرکت پر ہی قائم ہے…. کائنات کے کسی ایک گوشے میں بھی حرکت کا عمل ختم ہوجائے یا معطل ہوجائے تو کائنات کے سسٹم میں یہ عمل زبردست مزاحمت پیدا کردے گا اور یہ مزاحمت اس سسٹم کو درہم برہم کرکے رکھ دے گی…. ہم کسی معاملے میں ، کسی موقع پر یا کسی جگہ پر یہ کہتے ہیں کہ یہاں وقت ٹھہر گیا ہے…. تو یہ محض ہماری اندورنی کیفیت ہوتی ہے۔
حرا آج بھی عمر کی منتظر تھی…. اس دوران کئی سال گزر گئے…. ان سالوں میں حالات کہیں سے کہیں جا پہنچے…. ماں جی! عمر کی زندگی کی دعائیں مانگتے مانگتے خود زندگی کی بازی ہار گئیں…. حرا کے والد بھی اُسے داغِ مفارقت دے گئے…. ایک فیض انکل ہی اُس کا سہارا تھے…. اُسے تسلّی دیتے رہتے…. اُسے سمجھاتے کہ وہ عمر کو بھولا ہوا خواب سمجھے اور اپنی جمودزدہ زندگی کو دوبارہ متحرک کرکے آگے بڑھائے…. اُن کی باتیں سن کر اُس کی خاموش نگاہیں خلا میں نجانے کس چیز پر مرکوز ہوجاتیں اور شاید فیض انکل کی کوئی بات اُس کے کانوں کے راستے سے اُس کے ذہن کے کسی گوشے تک بھی نہ پہنچتی…. اور جب فیض انکل اُسے جھنجھوڑتے تو وہ جیسے گہری نیند سے اچانک بیدار ہوجاتی….
یہ کیفیت ابتدائی چند ماہ تک مستقل قائم رہی…. پھر فیض انکل کی کوششوں سے اُس کے ذہن کا جمود ٹوٹنا شروع ہوا…. آہستہ آہستہ تبدیلی آتی گئی…. اس دوران وہ مسلسل 6 ماہ تک گھر پر تھی…. پے درپے صدمات نے اُس کے ذہن کو مائوف کردیا تھا….۔چھ ماہ بعد وہ اپنے آفس پہنچی یہاں بھی بہت زیادہ تبدیلیاں آچکی تھیں…. ڈائریکٹر اور منیجرز تبدیل ہوچکے تھے…. اسٹاف میں بھی کچھ لوگ نئے آگئے تھے…. چونکہ اُس نے اِس ادارے میں بہت عرصہ گزارا تھا اور یہاں کے کام پر اُسے مکمل دسترس حاصل تھی، اس لئے اُسے دوبارہ اپائنٹ کرلیا گیا…. اگلے ہی روز اُس نے آفس بھی جوائن کرلیا…. ذہنی مصروفیت بڑھی تو یادوں کے زخم بھی بھرتے گئے….۔
اُس کے ادارے نے ایک نئے پروجیکٹ پر کام شروع کیا اور اس پروجیکٹ کے سلسلے میں کچھ نئے افراد عارضی طور پر بھرتی کئے گئے…. سینئر اسٹاف کو نئے لوگوں کی تربیت اور نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی…. حرا کو بھی پانچ افراد پر مشتمل ایک گروپ پر نگران مقرر کیا گیا…. تین مہینے کے تربیتی مراحل سے گزرنے کے بعد کام شروع ہوگیا…. اس دوران وہ اپنے گروپ کے پانچوں افراد سے خوب گُھل مل گئی تھی…. ان میں تین لڑکیاںتھیں اور دو لڑکے…. یہ سب فریش سائنس گریجویٹ تھے…. اس لئے کام میں خوب دلچسپی لے رہے تھے…. اُسے اِن لوگوں کو ٹریننگ دینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی….نمرہ اُس کے گھر سے کچھ فاصلے پر ہی رہتی تھی اس لئے حرا نے اُسے آفر کی کہ وہ اُس کے ساتھ کار میں آفس آیا جایا کرے…. نمرہ نے تھوڑی بہت جھجک کے بعد اُس کی یہ پیشکش قبول کرلی…. ایک روز شہر میں اسٹرائیک تھی…. ٹرانسپورٹ جزوی طور پر بند تھی…. اِکا دُکا بسیں چل رہی تھیں تو اُن پر لوگ مکھیوں کی مانند چپکے ہوئے تھے…. حرا نمرہ کو ایک ایسے اسٹاپ پر اُتار دیتی تھی جہاں سے اُس کا گھر اگلے اسٹاپ پر تھا چنانچہ وہ بس میں بیٹھ کر چلی جاتی…. حرا نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ میں تمہیں آگے تک چھوڑ دیتی ہوں…. ایک دو منٹ ہی خرچ ہونگے لیکن نمرہ نے اصرار کیا تو وہ اُسے اُسی اسٹاپ پر اُتارکر اپنے گھر کی طرف گاڑی موڑ لیتی…. اُس روز صورتحال کچھ ایسی تھی کہ نمرہ بھی منع نہ کرسکی…. نمرہ کا گھر مین روڈ سے قریب ہی تھا…. یہ لوئر مڈل کلاس لوگوں کی بستی تھی…. حرا نے نمرہ کے گھر کے سامنے گاڑی روکی…. تو نمرہ نے اُسے اندر آنے کے لئے کہا…. اور اس قدر اصرار کیا کہ اُسے گاڑی لاک کرکے اُترنا ہی پڑا…. گلی میں شور مچاتے بچوں کا ہجوم اب اُس کی گاڑی کے اردگرد جمع ہوچکا تھا…. جو کبھی اُسے اور کبھی اُس کی گاڑی کو دیکھ رہے تھے…. گلی میں سیوریج کا گندہ پانی پھیلا ہوا تھا….۔ خجل ہوتی نمرہ اُسے بازوئوں سے پکڑ کر اپنے گھر کے اندر لے آئی…. ۔ ’’آئیے میڈم!…. ہمارا گھر آپ کے لائق تو نہیں لیکن مجھے اس وقت جس قدر خوشی ہورہی ہے…. وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی‘‘….
پھر نمرہ نے حرا کو چائے پلاکر ہی رُخصت کیا…. حرا سوچ رہی تھی کہ قدرت بھی کیسے کیسے لعل و گہر کہاں کہاں پر رکھ چھوڑتی ہے…. کہاں نمرہ کا ذہن؟…. کہاں اُس کے اردگرد کا ماحول؟…. مجھ سے جس قدر بھی ہوسکا نمرہ کو آگے بڑھانے اور اُس کے ماحول کو بدلنے کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گی…. حرا نے دل ہی دل میں یہ عزم کرلیا….
پھر وہ نئے پراجیکٹ میں ایسی جتی کہ اُسے دن رات کا بھی ہوش نہ رہا…. اس سلسلے میں اُسے ریفریشر کورس کے لئے بیرونِ ملک بھی جانا پڑا…. تین ماہ فرانس میں گزارنے کے بعد وہ وطن واپس آئی اور اپنے کام میں دوبارہ مگن ہوگئی…. فیض انکل دل ہی دل میں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے تھے کہ حرا دوبارہ زندگی کی حرکت کے ساتھ متحرک ہوگئی ہے۔ کبھی کبھی وہ فارغ ہوتی اور فیض انکل کے ساتھ بیٹھتی تو عمر کا تذکرہ ضرور کرتی….
فیض انکل نے عمر کے والے سے استخارہ کیا تھا، جس میں پتہ چلا تھا کہ عمر زندہ ہے اور کچھ عرصے بعد حرا کی اُس سے ملاقات ضرور ہوگی…. لیکن اُنہوں نے حرا کو اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا…. وہ ڈرتے تھے کہ کہیں حرا کا ذہن دوبارہ متاثر نہ ہوجائے…. چنانچہ جب حرا عمر کا ذکر کرتی وہ بات گھماکر کسی اور طرف لے جاتے….
ایک روز نمرہ آفس نہیں آئی…. حرا کام کے حوالے سے نمرہ پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگی تھی…. اس لئے اُس کا یہ چھٹی کرنا حرا کو بہت زیادہ کھل گیا…. نمرہ نے اب تک کوئی چھٹی بھی نہیں کی تھی جبکہ دوسرے لوگ اپنی چھٹّیاں استعمال کرتے رہتے تھے اس لئے اُسے بہت عجیب سا لگ رہا تھا…. چنانچہ اُس نے کام ختم کرتے ہی نمرہ کے گھر کا رُخ کیا….۔
نمرہ اور اُس کے گھر والوں کے لئے حرا کی آمد انتہائی غیرمتوقع تھی…. وہ سب اُسے دیکھ کر ہڑبونگ کا شکار ہوگئے…. نمرہ نے اُسے علیحدہ کمرے میں لے جاکر بٹھایا ’’میڈم! آپ کو ناحق زحمت ہوئی…. میں اپنی پریشانی میں آپ کو فون کرنا ہی بھول گئی تھی‘‘….۔
’’ میں تمہارے کوئی کام آسکتی ہوں؟…. تم مجھے بتائو تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘…. حرا نے نمرہ کی پُشت پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دیتے ہوئے کہا….
’’ہم غریبوں کی کوئی ایک پریشانی تو ہے نہیں…. آپ کون کون سی پریشانی حل کریں گی…. میرے والد نشہ کرتے ہیں…. باپ کی وجہ سے دونوں بھائی بھی آوارہ ہوگئے ہیں…. والدہ سلائی کرکے گھر کا خرچہ چلاتی ہیں…. میں نے ٹیوشن پڑھا پڑھا کر اپنی تعلیم مکمل کی اور اب سوچا تھا کہ گھر کے حالات تبدیل ہوں گے…. تو ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی‘‘….
’’کیا ہوا؟‘‘….
’’میری چھوٹی بہن ثمرہ کو دورہ پڑا ہے…. محلّے کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس پر جن آگیا ہے‘‘….
’’جن؟…. انہیں کس طرح یقین ہے؟‘‘….
’’مجھے نہیں معلوم…. لیکن یہاں پر ہر مسئلہ کو اس طرح توہمات کی نظر سے ہی دیکھا جاتا ہے…. میں ڈاکٹر کو بلا لائی تو پڑوسنیں اُلٹی سیدھی باتیں بنانے لگیں…. کہ یہ تو پیروں اور عاملوں کے بس کی چیز ہے…. ڈاکٹر اس کا کیا توڑ کریں گے‘‘….۔
’’ابھی اُس کی کیسی طبیعت ہے؟‘‘….۔
’’ڈاکٹر نے بڑی مشکل سے نیند کا انجکشن لگایا تھا…. ابھی تو بے خبر سو رہی ہے‘‘….
’’تم گھبرائو نہیں…. میرے انکل نفسیات دان ہیں اس قسم کے معاملات میں ان کے تجربات بھی بہت ہیں، میں اُن سے مشورہ کروں گی…. اگر تم مناسب سمجھو تو‘‘….
’’میڈم! مجھے کیا اعتراض ہوگا…. میری بہن ٹھیک ہوجائے میری تو یہی خواہش ہوگی…. لیکن میڈم آپ ہمارے مسئلے میں پڑ کر خواہ مخواہ پریشان کیوں ہوتی ہیں‘‘…. نمرہ نے کہا
’’ارے اس میں پریشانی کیسی؟…. میں تمہارے کسی کام آجائوں میرے لئے تو یہ خوشی کی بات ہے‘‘….
پھر حرا اُسے تسلی دے کر رُخصت ہوگئی…. گھر پہنچ کر اُس نے فیض انکل سے بات کی…. اُنہوں نے کہا کہ دیکھے بغیر وہ کوئی حتمی رائے دینے سے قاصر ہیں…. چنانچہ اگلے روز وہ دونوں شام کو نمرہ کے گھر جاپہنچے…. اُس وقت نمرہ کی بہن ثمرہ پر دورے کی حالت طاری تھی…. اور وہ واہی تباہی بک رہی تھی….
فیض انکل نے وہاں بیٹھ کر کچھ دیر تک ورد کیا اور چاروں طرف پھونک مارکر آنکھیں بند کرلیں…. شاید وہ اپنے ذہن کی لہروں سے نمرہ کی بہن ثمرہ کو ہپناٹائز کرنے کی کوشش کر رہے تھے…. نمرہ کی بہن کو چار پانچ افراد نے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا…. تھوڑی دیر بعد فیض انکل نے آنکھیں کھول دیں اور نمرہ کی بہن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پلک جھپکائے بغیر کافی دیر تک دیکھتے رہے….
پھر کچھ دیر بعد اُنہوں نے ثمرہ سے پوچھا ’’تم کون ہو؟‘‘….۔
جواب میں اُس نے کہا ’’میں ثمرہ کا ہمزاد ہوں‘‘….۔
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘….۔
’’میں نے کیا چاہنا ہے!….۔ میں تو کٹھ پتلی ہوں!‘‘….۔
’’تمہاری ڈوریں کس کے ہاتھ میں ہیں؟‘‘….۔
’’یہ میں تمہیں نہیں بتاسکتا!‘‘….۔
پھر فیض انکل نے کچھ پڑھ کر ثمرہ کے چہرے پر دم کیا تو اُس نے ایک زبردست چیخ ماری اور کچھ دیر تک مچلتی رہی….
’’بتا تجھے کس نے گمراہ کیا ہے؟‘‘….
’’میں نہیں بتائوں گا…. وہ لوگ بہت طاقتور ہیں…. تجھے بھسم کردیں گے…. میرا پیچھا چھوڑدے‘‘….
فیض انکل نے دوبارہ کچھ پڑھ کر ثمرہ کے چہرے پر پھونک ماری اب کی مرتبہ اُس کے حلق سے کچھ ایسی آوازیں نکلیں جیسے کسی گائے یا بیل کو جب ذبح کیا جاتا ہے تو اُس کے حلق سے نکلتی ہیں….
’’میر اپیچھا چھوڑ دے!‘‘….۔
’’تجھے بتانا ہوگا؟‘‘….
فیض انکل اس مرتبہ کافی دیر تک پڑھتے رہے…. پھر اُنہوں نے اپنا ہاتھ فضا میں بلند کیا….
’’ٹھہرو!…. بتاتا ہوں…. بتاتا ہوں…. لیکن ایک شرط پر تم میرا پیچھا چھوڑ دو گے‘‘….۔
’’نہیں! بلکہ تم اپنی اوقات میں رہو گے اور اس لڑکی کو دوبارہ تنگ نہیں کروگے‘‘….
’’اچھا اچھا…. بس کرو!‘‘….
’’بتائو تمہیں کون استعمال کر رہا ہے‘‘….۔
’’آگیا بتیال!‘‘…. یہ کہہ کر نمرہ کی بہن بے ہوش ہوگئی…. حرا نے نمرہ کی بہن سے یہ لفظ سنا تو وہ بے اختیار چونکتے ہوئے کرسی سے کھڑی ہوگئی اور جب اُس نے دیکھا کہ سب اُسے حیرت سے دیکھ رہے ہیں تو وہ خاموشی سے بیٹھ گئی…. فیض انکل کچھ دیر سرجھکائے خاموش بیٹھے رہے…. پھر اُنہوں نے نمرہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’بیٹی! تم اپنی بہن کو دن میں تین مرتبہ شہد کھلائو…. نمکین اشیاء کا استعمال بالکل بند کردو…. اور صبح و شام اس کے سرہانے بیٹھ کر سورئہ اعراف کی تلاوت کرو…. اللہ نے چاہا تو یہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی…. اور ہاں گھر کے تمام افراد نمکین چیزوں کے بجائے میٹھی اشیاء زیادہ استعمال کریں…. اور بازار کے پسے ہوئے سستے نمک کا استعمال بالکل ترک کردیں اس لئے کہ بعض عاقبت نااندیش اس میں جپسم کی ملاوٹ کردیتے ہیں….۔ جس کی وجہ سے کسی فرد میں ایسی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے‘‘….
اس کے بعد وہ لوگ وہاں سے رُخصت ہوگئے…. راستے میں حرا نے پوچھا ’’انکل ہم اس کے ذریعے آگیابتیال تک نہیں پہنچ سکتے‘‘….
’’نہیں!‘‘….
’’کیوں؟…. اگر ہم ثمرہ کے ذریعے آگیا بتیال تک پہنچ جائیں تو ہمیں عمر کا کچھ اتہ پتہ مل سکتا ہے‘‘….
’’نہیں بیٹا! اس لڑکی پر کوئی جن ون تھوڑی سوار ہے‘‘….
’’پھر یہ کیا ہے؟‘‘….
’’دیکھو! اس بات کو تم یوں سمجھو…. ہم لوگ اپنے آپ کو گوشت پوست کا وجود سمجھتے ہیں…. یہ ہمارا وجود نہیں ہے…. ہمارا وجود نورانی لہروں سے مرکب ہے…. روشنیوں سے بنے ہوئے ہمارے اس جسم کو سائنس نے Aura کا نام دیا ہے…. آدمی جب مرجاتا ہے تو اس کا گوشت پوست کا جسم مٹی میں دفن کردیا جاتا ہے…. لیکن روشنیوں کا جسم روشنیوں کے عالم میں منتقل ہوجاتا ہے…. اس عالم کو اعراف یا Astral World کہتے ہیں۔ کبھی کبھی روشنیوں کا یہ جسم کسی وجہ سے متحرک ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اسفل السافلین کے کثیف ’’اورا‘‘ یا شرپسند جنات اسے تخریبی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں‘‘….
’’تو ہمیں کچھ نہیں پتہ چلے گا‘‘….۔
’’حرا بیٹی تم صبر کرو…. اللہ بڑا کارساز ہے…. وہ ضرور تمہارے صبر کا پھل دے گا‘‘….
حرا کی آنکھیں مسلسل بہتی رہیں….
٭٭٭٭
اُدھر جس مقدمے میں عمر کو گواہی کے لئے عالمِ جنات میں طلب کیا گیا تھا وہ تعطّل کا شکار ہوگیا …. ہوا یہ کہ عالمِ جنات کے ایک قبیلے شرداد کی افواج نے ملک حزقیل پر حملہ کردیا، یہیں عمر بھی مقیم تھا…. قبیلہ شرداد دراصل آگیا بتیال کا حمایتی تھا اور اس حملے کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ عنبر کو آزاد کرایا جاسکے…. حملہ اس قدر اچانک تھا کہ حزقیل کے فوجی کچھ دیر تک تو سمجھ ہی نہ پائے کہ ہوا کیا ہے اور شرداد قبیلے کے کمانڈوز آناً فاناً عنبر کو آزاد کراکے اپنے ہمراہ لے گئے…. چنانچہ اِس مقدمے کی کارروائی کو اُس وقت تک کے لئے معطل کرنا پڑا…. جب تک کہ عنبر دوبارہ گرفتار ہوکر عدالت میں پیش نہ ہوجائے…. عمر کے لئے اب عالمِ جنات میں دن کاٹنا مشکل ہوگیا تھا…. وہ سخت حفاظتی محاصرے میں تھا…. کیونکہ اُس کی جان کو ہر پل خطرہ لاحق تھا…. پھر کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے قسطورہ کے ذریعے یہ درخواست ملک حزقیل کے اعلیٰ حکام کے پاس بھیجی کہ اُسے انسانوں کی دنیا میں واپس بھیج دیا جائے…. لیکن اُس کی درخواست اس بنیاد پر نامنظور ہوگئی کہ انسانوں کی دنیا میں آگیا بتیال زیادہ آسانی سے عمر کی زندگی ختم کرسکتے ہیں…. یوں آگیا بتیال کے خلاف ایک اہم گواہ کا خاتمہ آگیا بتیال کو اپنی تخریبی کاروائیوں پر زیادہ دلیر بنادے گا….

 

 

(جاری ہے)

اپریل 2004ء

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 7

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

کشورِ ظلمات ۔ قسط 6

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے