مائنڈ فُلنیس – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 قسط نمبر 3

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اس ماہ کے شمارے میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اپنے کسی خاص مقصد کو پانے میں مائنڈ فلنیس کی کون سی تیکنکس کس طرح مدگار ثابت ہوں گے۔  ان تیکنیکس کے ساتھ چند بنیادی مشقیں بھی ضروری ہیں۔  بھرپور کامیابی کے لیے تکنیک کے ساتھ ان مشقوں پر باقاعدگی کے ساتھ عمل بھی کرنا ہے ۔ تو  پھر شروع کرتے ہیں پہلے ان بنیادی مشقوں سے۔

چوتھی مشق

سُوتی لباس کا انتخاب

 حضرات ہوں کہ خواتین زیادہ سے زیادہ سوتی لباس کو ترجیح دیجیے۔

سوتی لباس ہی کیوں ….؟

سوتی لباس کا انتخاب ہر موسم میں سب سے بہترین ہے ۔ یہ آپ کے جسم کو آرام پہنچاتا ہے اور قدرتی آرگینک میٹریل سے تیار ہونے کے باعث اس کے پہننے والوں کو جلدی الرجی  skin allergies ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہوتے  ہیں کہ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔

ڈاکٹروقار یوسف عظیمی اکثر اپنے مریضوں کو کاٹن کا لباس پہننے کی ہدایت دیتے  ہیں۔ ایک نشست میں اس کی افادیت بیان کرتے ہوئے  انھوں نے بتایا کہ سوتی لباس انسانی جسم کے ساتھ انسانی ذہن پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔  کاٹن آپ کے جسم کے مساموں کو سانس لینے کے قابل رکھتا ہے اور ٹھنڈک کا احساس بھی برقرار رکھتا ہے ۔

اس بات کی تو آپ سب تائید کریں گے  کہ شدید گرمی میں آپ سوتی لباس میں جتنا زیادہ خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں  وہ سکون آپ کو ریشم یا کسی اور مٹیریل میں نہیں ملتا۔ اس کی ایک سائنسی توجہیہ یہ ہے کہ سوتی لباس کا بنیادی مٹیریل یعنی کاٹن یا کپاس ایک خالص اور قدرتی  یا سائنسی زبان میں آرگینک مٹرئیل ہے۔  ایسا نہیں کہ سوتی لباس کا استعمال صرف گرمیوں میں ہی بہتر ہے بلکہ ہر موسم ہر علاقے میں سوت سے بنا ہوا ہلکا بھاری یا موٹا ہر طرح کا لباس آپ کے جسم کے ساتھ آپ کے ذہن کو بھی انتشار سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔

ارے ارے کاٹن کی اتنی زیادہ تعریفیں سن کر آپ حیران مت ہوں  ۔ایسا کیجیئے تجربہ کرکے دیکھ لیجئے ۔محض ایک ہفتہ اپنے ہر طرح کے لباس میں صرف کاٹن کے بنے ہوئے لباس کا انتخاب کیجئے اور پھر ایک ہفتے بعد دوسرے میٹریل کا استعمال کیجئے فرق آپ خود محسوس کریں گے ۔

 تواب کاٹن پہننے کی مشق آج سے ہی شروع کردیجیئے۔ایسا نہیں ہے کہ صرف کاٹن ہی پہننا ہے۔ہم نے کہا زیادہ سے زیادہ کاٹن کے لباس کا استعمال کیجیئے۔یعنی تیس دنوں میں کم سے کم پچیس دن تو ضرور سوتی لباس پہنیے۔ اس دوران ایک خاص کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ کہ اپنے لباس کے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کیجیئے۔محسوس کیجئے کہ یہ لمس آرام دہ ہے  یا   اس سے بے آرامی محسوس ہورہی ہے۔ آپ کا جسم اس لباس کے لیے  چھبن کا احساس ہے یا نرمی کا خوش گوار احساس ہے ۔

یہاں آپ اعتراض کرسکتے ہیں جناب چھوٹی موٹی دعوتوں میں بھی کیا سوتی لباس پہنچیں! تو بھئی مرد حضرات کو شاید اس پر اعتراض نہ ہو مگر ہم پہلے سے بتائے دیتے ہیں کہ خواتین کے لیے بھی بہانے کی گنجائش اس لئے نہیں ہے کہ اب پاکستان میں لان مختلف برانڈز اور ناموں  کے ساتھ ایسے دیدہ زیب پرنٹ اور ڈیزائین میں ستیاب ہے کہ یہ لباس بآسانی دعوتوں میں بھی پہنے جاسکتے ہیں ۔اس کا دہرہ فائدہ یہ ہے کہ ایک تو آپ فیشن ایبل کی لسٹ میں آجائیں گی اور دوسرے آپ کے جسم کے ساتھ آپ کا ذہن بھی آرام محسوس کرے گا۔ اس طرح آپ دعوت سے بھی زیادہ  لطف اندوز بھی ہوسکیں گے ۔

پانچویں مشق

روز پودوں کو پانی دیجیے

پودوں کو پانی دینے کی عادت ڈالئے ۔اگر آپ کا گھر چھوٹا ہے یا آپ بڑے درخت یا پودے نہیں لگا سکتے  تو ایک چھوٹا سا منی پلانٹ یا گملہ رکھ لیجیے۔کچھ نہیں تو اس میں ہرا دھنیہ ہی ڈال دیجیے۔ بس اس کا روز خیال رکھنا ہے ۔اچھا  ہے آپ کے ہاتھ کی اگی سبزی گھر میں پکے گی یا پھر ہرا دھنیہ اس میں ڈلے گا تو آپ خوشی کے جس احساس سے گزریں گے وہ ہم نہیں آپ  ہی ہمیں  اور دوسرے کئی لوگوں کوبتائیں گے ۔

اور ہاں ….جب پودوں یا ایک ہی پودے کو پانی دیں تو اسے مسکرا کر ضرور دیکھئے گا۔ اب یہ پڑھ کر آپ ایسے ہی مسکرا دئیے ۔بلکہ کچھ دوست تو ہنس پڑے ۔

دیکھئے اس کی ایک پوری سائنسی وجہ ہے جو ہم اگلی اقساط میں بیان کردیں گے ۔مگر فی الحال یہ سمجھ لیجیئے کہ  مسکراتے ہوئے پانی ڈالنے کے فوائد ان گنت ہیں اور بہت  اس عمل کے مثبت اثرات ہیں ۔جن پر تفصیل سے بات کریں گے ۔انشاءاللہ۔

اب آجائے خاص تکنیک کی جانب

مائنڈ فلنیس تکنیک

اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ کی سب بڑی خواہش کیا ہے جو آپ اس تیکنک کے ذریعے پورا کرنا چاہیں ۔تو شاید کئی قارئین  سوچ میں پڑ جائیں گے۔وجہ اس کی یہ نہیں کہ آپ کی کوئی خواہش نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے

تو جناب اب مسئلہ یہ ہے کہ  ان ہزاروں خواہشوں میں  سے اصل میں ہم کیا چاہتے ہیں؟  چند قریبی دوستوں  نے جواب دیا کہ ہزار خواہشیں  پوری ہونے کے باوجود  بھی ایک کمی سی کچھ ادھورا پن سا رہ جاتا ہے یا کئی دوستوں کا کہنا ہے کہ جب خواہش یا مقصد پورا ہوجائے ہے تو لگتا ہے کہ اصل میں ہماری خواہش یا گول یہ نہیں تھا بلکہ یہ تھا….

اگر آپ اس تیکنک سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو  پھر اس کے لئے سب سے پہلے اپنے زہن کو چھاننا ضروری ہے ۔یاد رکھئے  ذہن خالی نہیں کرنا بس ذہن کی وارڈوب کو ترتیب دینا ہے ۔اس عمل سے آپ با آسانی اپنی خواہشات   کو اپنی  چاہ  کو صحیح معنوں میں سمجھ سکیں گے ۔یہ اس تیکنک کا پہلا مرحلہ ہے۔یاد رہے اس تیکنک کے ساتھ مندرجہ بالا مشقوں کا جاری رہنا بھی ضروری ہے ۔جس میں ہم بتدریج اضافہ بھی کرتے چلے جائیں گے ۔

 یہ اسی سلسلے کی ابتدائی مشق ہے۔ اسے آپ مائنڈ فلنیس میڈیٹیشن بھی کہہ سکتے ہیں۔ سٹریس اور ڈپریشن سے نجات میں ان مشقوں کے  انتہائی حیران کن  اور مثبت نتائج سامنے آئے ہیں  اور جن خواتین حضرات کو بھی یہ میڈیٹیشن کروائی گئی انہوں نے انتہائی خوشی اور سکون محسوس کیا۔ مگر یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ اس میڈیٹیشن کے اثرات تو آپ کے جسم اور ذہن پر ابتداء سے ہی مرتب ہونا شروع ہوجائیں گے ۔مگر نتائج سامنے آنے کے لئے بتائی گئی تمام مشقوں اور ہدایات پر باقاعدگی سے عمل کرنا ضروری ہے۔

تو جناب مائنڈ فلنیس کی ان مشقوں کے ساتھ  اب بات کرتے ہیں مائنڈ فلنیس تیکنک کی اس کا پہلا مرحلہ پیشِ خدمت ہے ۔

سب سے پہلے  اپنے گھر میں اپنے سب سے پسندیدہ گوشے کا انتخاب کیجئے۔

یہ پسندیدہ گوشہ آپ کے کمرہ میں بھی ہوسکتا ہے یا کسی اور حصے میں بھی جیسے کہ ڈرائنگ  روم یا ٹیرس یا پھر برآمدہ۔ یہاں پسندیدہ سے مراد آپ کے گھر کا وہ حصہ ہے جہاں آپ خود کو پرسکون اور خوش محسوس کر سکتے ہیں ۔نوٹ کیجئے کہ آپ اپنا زیادہ وقت کہاں گزارتے ہیں ۔خاص طور پر جب گھر میں کسی سے اختلافِ رائے ہوجائے یا پھر کوئی ایسی بات کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے الگ تھلگ بیٹھنا چاہیں تو کہاں کا رخ کرتے ہیں ۔

جگہ چاہے کوئی بھی ہو ۔آپ کی پسندیدہ ہو اور آپ وہاں نسبتا زیادہ آرام دہ اور کمفرٹ یبل محسوس کریں ۔

اب بیٹھنے کے لئے آرام دہ نشست کا اہتمام کیجئے۔ اگر فرش پر بیٹھ جائیں توبہت اچھا ہے ۔فرش کی سختی سے بچنے کے لئے کوئی کشن یا گدارکھ لیجئے ۔یہ آپکیمرضی۔

بزرگ  یا جو دوست گھٹنوں میں درد یا کسی اور تکلیف کی وجہ سے نیچے نہ بیٹھ سکیں وہ کرسی پر  یا اپنے بستر پر بیٹھ جائیں ۔

 بہر حال فرش پر بیٹھنا ہر طرح سے بہتر ہے۔ لیکن پابندی نہیں ۔

اب بالکل آرام سے بیٹھ جایئے۔ چاہے تو آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں یہ زیادہ بہتر ہے۔ اگر گھٹنوں میں درد ہے یا آلتی پالتی مار کر نہیں بیٹھ سکتے تو کوئی بات نہیں آپ کسی بھی آرام دہ حالت میں بیٹھ جائیے۔

اب اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیجیئے لیکن کمر اور گردن کو سیدھا رکھیئے ۔

دھیان رہے کہ آپ نے کمر اور گردن کو سیدھا رکھنے کی کوشش کرنی ہے اسے اکڑانانہیں ہے  ۔ اگر کمر میں  درد ہے  یا درد محسوس ہو تو ٹیک لگا لیجیئے ۔

اب آپ آنکھیں بند کر لیجیئے ۔اس لمحے اگر کوئی خیال آپ کو آنکھیں بند کرنے سے روکے تو اسے نظر انداز کیجئے ۔ خیالات چاہے کتنی ہی رفتار سے آنا شروع ہوں انہیں آنے دیجئے، جانے دیجئے۔

اب یقینا ً آپ سانس تو لے رہے ہیں۔ سانس لینے کے دوران جو ہوا اندر داخل ہورہی ہے اور خارج ہورہی ہے اس پر اپنی توجہ مرکوز کردیجئے۔ اس ہوا کو محسوس کرنے کی کوشش کیجئے سانس لیتے ہوئے پیٹ کو پھلائے  اور سانس خارج کرتے ہوئے پیٹ کو اندر کرلیجئے ۔اس مشق میں خود کو اتنا ماہر کر لیجئے گا  کہ آپ سانس کچھ دیر کے لیے روک سکیں۔ خیر یہ تو آگے کا مرحلہ ہے ۔ابھی تو بس اپنی ساری توجہ اس ہوا پر رکھیے جو سانس کی آمد و رفت میں جسم کے اندر  جاری ہے  اور باہر خارج ہورہی ہے۔

سانس کی اس مشق کے دوران دوسراکام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ کہ آنے والے خیالات یا کوئی بھی احساس خوشی کا ہو تو کیا ہی اچھی بات ہے،مگر کسی تکلیف درد کا بھی ہو یا کوئی اندیشہ غم پریشانی کا ہو اس سے بالکل بھی نہیں گھبرا نا ہے ۔انہیں قبول کیجئے کسی بھی احساس کو زبردستی مت جھٹکیے ۔

اور سب سے اہم آپ آنے والے ان خیالات اور احسات کو کوئی نام مت دیجئے ۔یہ اچھے ہوں یا برے خوشی کے ہوں یا غم کے ۔

بس اپنی توجہ سانس پرپر مرکوز رکھئے گا۔ اس  ہوا کو گہرائی سے محسوس کرنے کی کوشش کرتے رہیئے جو آپ کے جسم میں داخل ہوکر آپ کو آکسیجن فراہم کرہی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صورت میں زہریلے مادوں کو باہر نکال رہی ہے ۔ بس محسوس کیجئے کہ آپ اس دنیا میں وجود رکھتے ہیں ۔

ایک ان دیکھی ان چھوئی ہوا ہے جو آپ  کے سانس لینے کے دوران ناک کے نتھنوں سے آپ کے جسم میں داخل ہوتی ہے اور سانس باہر نکالتے ہوئے آپ کی تمام تھکاوٹ اداسی پریشانی مایوسیاں ساتھ لے کر باہر نکل جاتی ہے۔

اور پھر نئی تازی ہو ا جسم میں  داخل ہوتی ہے اور یہی عمل بار بار دہراتی ہے۔

اس لمحے احسا س کیجیئے کہ آپ کے جسم کی صفائی کا کتنا اہم عمل قدرتی طور پر جاری و ساری ہے اور آپ کو اس کی خبر تک نہ تھی ۔

احسا س کیجیئے کہ آپ اس دنیا میں وجود رکھتے ہیں

احساس کیجیئے کہ قدرت نے آپ کے  حصے کی ہوا آپ کے لیے مختص کر دی ہے  کیونکہ آپ دنیا میں موجود ہیں ۔

پھر چاہے آپ  کسی آدمی کے لئے اہمیت رکھیں یا نہ رکھیں  قدرت کے لئے آپ اہم ہیں۔ قدرتی وسائل آپ کے لئے اپنی ذمہ داریاں  پوری کررہے ہیں ۔اس خدمت پر پر نہ تو کوئی بل ہے نہ ٹیکس اور نہ ہی کوئیاورادائیگی۔

اس میڈیٹیشن میں  دورانیے کی کوئی قید نہیں جتنی دیر آسانی سے بیٹھ سکیں اسی  احساس میں بیٹھیے۔ جب جسم کو عادت ہونے لگے تو دورانیہ کم سے کم دسمنٹرکھئے ۔

میڈیٹیشن کے بعد تھوڑی دیر اسی حالت میں رہیئے ۔ایک دم سے یا فوری نہیں اٹھنا ہے ۔آنکھیں بھی آہستہ آہستہ کھولنی ہیں ۔

 اس مشق کو اس طرح سمجھ سکتے  ہیں کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے  کبھی آسمان پر اڑتے پرندوں یا کسی خوبصورت نظارے پر ہماری توجہ اتنی گہری ہوجاتی ہے کہ نہ تو ٹریفک کا شور ہمیں ڈسٹرب کرتا ہے نا کسی کی موجودگی اس انہماک میں حائل ہوتی ہے۔ہم آس پاس کے ماحول سے بے خبر ہوکر اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں ۔بالکل اسی طرح آپ اپنی سانس کے آنے جانے  سے لطف اندوز ہویئے۔

مائنڈ فل نیس کے بارے میں کوئی سوال ذہن میں آئے یا کسی مشق کے حوالے سے کوئی وضاحت درکار ہو تو  روحانی ڈائجسٹ کے پتے  پر بذریعہ ای میل یا خط رابطہ کرسکتے ہیں ۔انشاء  اللہ اگلی قسط میں ہم اس کے مزید مرحلوں اور مشقوں پر بات کریں گے۔

(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کامیاب اور پُر اثر لوگوں کی 7 عادتیں ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 3   گزشتہ صفحات میں ہم ...

مائنڈ فُلنیس – 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 5       ہمارے ایک ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے