Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

مائنڈ فُلنیس ۔ 2

 قسط نمبر 2

اس وقت مغربی دنیا کے کئی  اداروں میں  مائنڈفلنیس کی ٹیکنکس اور اس کے مفید اثرات زیرِبحث ہیں ۔مائنڈفل نیس کو بہت تیزی سے عملی زندگی میں   بھی اپنایا جارہا ہے ۔

 روحانی ڈائجسٹ کے گزشتہ شمارے میں ابتدائی تعارف کے بعد اس ماہ  ہم آپ کو مائنڈ فلنیس کی مشقوں  سے آگاہی فراہم کر یں  گے۔یہاں  یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ مائنڈ فلنیس کی کئی مشقوں  کا تعلق مخصوص تکالیف،امراض یا کیفیات سے ہے ہم آپ کو بتاتے رہیں گے  کہ کون سی مشقیں  سب کے لئے ہیں ، کو ن سی  بعض مخصوص  مواقع کے لیے۔

خوش کیسے رہا جائے ؟

بی بی سی میں  شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق  ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم میں  ہونے والی ورلڈ ہیپینیس (World Happiness)ڈیٹا بیس یعنی عالمی خوشی کے اعداد و شمار کے مطابق  ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے  ہیں۔ ماہرین کے مطابق خوشی میں  اضافہ ممکن ہے۔

اس اجتماع  میں  سب سے زیادہ خوش رہنے والے ممالک کی ایک سروے رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ خوش رہنے کے لیے کوئی مخصوص اہداف ضروری نہیں ۔ یعنی خوشی کا حاصل ہونا اور اہداف کا پورا ہونا دونوں  مختلف باتیں  ہیں۔ 

تو پھر خوش رہنے کے لئے کیا کیا جائے؟

           اس سوال کاساد ہ سا جواب یہ ہے کہ خود کو فعال رکھئے۔ ریسرچ کے مطابق خوشی کا سب سے مضبوط تعلق  فعال رہنے سے ہے ۔یعنی خوش رہنے کے لئے آپ کا  حرکت میں  رہنا ضروری ہے ۔بے جا سستی، کاہلی، اپنا کام دوسروں  سے کروانے یا دوسروں  پر چھوڑ دینے کی عادت  اخلاقی طور پر پسندیدہ نہیں اور میڈیکل سائنس بھی اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ فعال رہنے کی صورت کوئی بھی ہو سکتی ہے ۔کسی کھیل کا کھیلنا،  گھر کے کسی کام میں  مشغول ہونا یااپنے کسی پسندیدہ شغل کو اپنا لیناجس سے آپ کو خوشی ملتی ہو…. یا پھر اپنا کوئی کام یا ملازمت جو بھی آپ کرتے ہیں  اسے مناسب طریقے اور پوری ایمانداری سے انجام دینا۔

خود کو اطمینان دلائیے کہ آپ نے آج کا کام اپنی پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے اور خلوص کے ساتھ انجام دیا ہے۔

ذمہ داریاں  جو بھی ہوں ان کو باحسن و خوبی انجام دینے کی کوشش کیجیئے۔

ان ذمہ داریوں  میں  گھریلو کام کاج، آپ کی ملازمت یا کاروبار، اگر آپ طالبِ علم ہیں  تو اسکول کالج یا یونیورسٹی کا کام، اسائینمنٹس، اور اگر یہ سب بھی نہیں  تو خود آپ کی اپنی ذات آپ کی ایک اہم ذمہ داری ہے ۔

تو شروع کرتے ہیں  پہلی مشق سے ۔

یہ ابتدائی مشق ہے جو کوئی بھی کرسکتا ہے۔ ان مشقوں  کا مقصد آپ کے ذہن کو اور آپ کے جسم کو مائینڈ فلنیس کی مشقوں  کے لئے تیار کرنا ہے ۔

مگر اس سے پہلے  چند یاد رکھنے والی باتیں ۔

  1. (1) یہ مشقیں  آپ کو روز کرنی ہیں ۔
  2. (2) ابتدائی طور پر مخصوص اوقات کار یا کوئی وقت مخصوص کرنے کی پابندی نہیں  ہے ۔
  3. (3) مائینڈ فلنیس کی مشقوں   سے حاصل ہونے والے نتائج  تحریر کرنے کے لئے ایک کاپی مخصوصکرلیجیئے۔
  4. (4)  اس ڈائری یا کاپی میں  ہدایات کو نوٹ کر لیجئے۔ ساتھ ساتھ اپنے محسوسات  یا  تبدیلی جو آپ محسوس کریں  مختصرا تحریر کر لیجئے۔

ویسے  ابتدائی طور پر اپنے محسوسات اور نتائج تحریر کرنے کی پابندی نہیں  ہے ۔

اب باقائدہ اپنی مشق کا آغاز کرتے ہیں 

پہلی مشق

گھا س پر ننگے پاؤں  چلیے۔

         ننگے پاؤں   ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر  چلنا ذہنی سکون اورجسمانی صحت کے لیے بطور قدرتی علاج  صدیوں  سے پریکٹس کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی نے ڈپریشن اور دیگر کئی نفسیاتی اُلجھنوں میں مبتلا خواتین و حضرات کو طبی اور روحانی علاج کے ساتھ ساتھ ننگے پاؤں گھاس پر چلنےکی تاکید بھی کی۔ ڈاکٹر وقار یوسف کہتے ہیں کہ اچھی صحت پانے اور ذہنی و جذباتی طور پر متوازن رہنے کے لیے انسان کو دو چیزوں سے مستحکم تعلق رکھنا چاہیے۔

یہ دو چیزیں ہیں ….پانی اور مٹی۔

ڈاکٹر صاحب ایک نام اور  بتاتے ہیں اس کا ذکر آئندہ کسی مناسب موقع پر ہوگا۔

ہمارے  پاؤں  ایک سٹور کی حیثیت رکھتے ہیں  ان  کا رابطہ ہمارے تمام جسمانی اعضاء دل، گردے، آنکھیں ، ناک، کان، پھیپھڑے، جگر، اعصابی نظام اور دماغ  سے ہے ۔

ہمارے پیروں  خصوصا تلووں  میں  ہمارے پورے جسمانی نظام کے مخصوص پوائنٹس پائے جاتے ہیں۔ پیروں  کو تحریک دینے سے پڑنے والا دباؤ اور اس دباؤ کے نتیجے میں  خارج ہونے والے قدرتی مادوں کے اثرات پورے جسمانی نظام پر ہوتے ہیں۔اس عمل کے ان گنت فوائد پر ایک الگ کتاب تحریر کی جاسکتی ہے۔

زمین کا اپنا یک برقی مقناطیسی نظام ہے ۔ننگے پاؤں   زمین بالخصوص ٹھنڈی گھاس پر چلنے سے  ہم زمین کے اس مقناطیسی نظام سے جڑ جاتے ہیں۔

ایک اہم بات یہ کہ اگر یہ ننگے پاؤں  چلنا  صبح کے وقت سورج کی روشنی میں  اور صبح کی تازہ ہوا میں  ہو تونہ صرف یہ کہ  سورج کی روشنی جسمانی توانائی میں  اضافہ اور بحالی کے لیے نہایت مفید ہے۔ بلکہ اس سے دھوپ میں پائے جانے والا وٹامن ڈی بھی  ہمارے جسم کو میسر آتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق جوڑوں  اور ہڈیوں  کی کمزوری اور تکالیف کی ایک بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے۔

ہم ایک ایسے خطے میں  آباد ہیں  جہاں  سورج کی روشنی وافر مقدار میں  میسر ہے۔ تو پھر اللہتعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت سے خوب فائدہ اُٹھائیے۔ جوڑوں  کے امراض اور ٹانگوں  کے درد میں  مبتلا افراد کے لیے دھوپ میں  تھوڑی دیر بیٹھنا بھی فائدہ مند ہے ۔

اگر آپ نوجوان ہیں  تو وٹامن ڈی کی کمی سے اپنی ہڈیوں  کوبچانے کے لئے ابھی سے یہ مشق  اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجئے۔

گھاس کی نرماہٹ کو محسوس کیجئے

اب آپ کو کرنا یہ ہے کہ چہل قدمی کے دوران  جب آپ کے قدم ٹھنڈی ٹھنڈی نرم گھاس یا زمین کو چھوئیں  تو اس کی ٹھنڈک کو محسوس کیجئے۔ اپنا دھیان قدموں  کی گنتی پر نہیں  بلکہ اس نرماہٹ  پر رکھیئے جو آپ  کے تلوے محسوس کر رہے ہیں  ۔

 ابتداء میں  دورانیہ کی کوئی پابندی نہیں  ہے ۔جتنا ہوسکے چہل قدمی کیجئے۔ جب تھکاوٹ ہو تو ٹہر جائیے۔پھر چہل قدمی شروع کر لیجیئے ۔گھاس  پر کم سے کم دس منٹ ضرور چلیے۔ مگر اس صورت میں  بھی دورانیے  پر زیادہ دھیان نہیں  دینا ہے ۔

  یہاں  آپ یہ شکایت بھی کرسکتے ہیں  کہ جناب فلیٹ والی بلڈنگ میں  گھاس کہاں۔  تو جناب اس کا جواب ہم خو د ہی پہلے سے دیئے  دیتے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ  آج کے دور میں  لوگوں کی بڑی تعداد  اپارٹمنٹس  یا فلیٹوں  میں  رہتی ہے ۔ اگر آپ کے گھر کے نزدیک کوئی پارک ہے تو اس سہولت سے ضرور مستفیذ ہوں۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں  تو گھر کی چار دیواری میں  ہی گھاس پر نہ سہی زمین پر ہی  ننگے پاؤں پیدل چلیے۔

دوسری مشق

پانی کی مقدار کو بڑھائیے

اگر آپ دن میں  چھ سے آٹھ گلاس پانی پیتے ہیں  تو یہ قابلِ تعریف ہے۔ اسے جاری رکھیئے اور اگر نہیں  تو پانی کی مقدار بڑھائیے۔ کم سے کم چھ سے آٹھ گلاس پانی ضرور پیجیے ۔اس کے لئے چاہے تو اپنے موبائل فون میں  الارم سیٹ کرلیجئے۔جو ہر گھنٹے بعد آپ کو یاد دلاتا رہے گا کہ اب پانی پینا ہے۔

پانی پینے میں  جلدی مت کیجیئے ۔ ٹہر ٹہر کر پانی پیجیے۔پینے کے دوران اس کے ذائقے کو بھی محسوس کرنے کی کوشش کیجئے پانی پینے کو خوب انجوائے کیجیے۔اس کا ذائقہ جاننے کی کوشش کیجیئے نمکین ہے، یا میٹھا، یا پھر کھاراہے ۔

محسوس کیجیئے کہ اللہ تعالی نے پانی کی صورت میں کتنی اہم نعمت عطا کی ہے ۔پانی کو پینے سے پیدا ہونے والے احسا س کو محسوس کیجیئے ۔

پانی کی وہ ٹھنڈک جو زبان کے چھونے سے معدے تک اترنے میں جسم میں سرایت کرتی ہے اسے محسوس کرنے کی کوشش کیجیئے ۔یقین مانئے…. پانی پینے میں  آپ کو  ایسی لذت و تراوٹ محسوس ہوگی۔ جسے شاید اس مشق سے پہلے آپ نے کبھی محسوس نہیں  کیا ہوگا۔

      ا ب تو گرمیوں  کی آمد آمد ہے ۔اور گرمیوں  میں  فریج کے ٹھنڈے یخ پانی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔  مگر  ہم کہیں  گے  کہ  فریج کے ٹھنڈے پانی سے حتی الامکان پرہیز کیجئے ۔اگر عادت کی وجہ سے شدید طلب محسوس ہو توبھی دن میں  صرف ایک آدھ بار  ہی فریج میں ٹھنڈا کیا ہوا پانی پی لیجیئے۔ سادہ پانی یا مٹکے  یاصراحی میں ٹھنڈے کیے گئے پانی کو ترجیح دیجیئے۔ آج کل تو بہت سے دیدہ زیب رنگوں   کے ساتھ آرائشی صراحیاں  اور مٹکے بھی دستیاب ہیں۔یہ برتن بڑے بڑے  ایگزیبیشنز میں  رکھے جاتے ہیں  اور لوگ فیشن  کے طور پر گھروں  میں  سجاتے ہیں  ۔تو پھر کیوں  نا اس فیشن سے فائدہ اٹھایا جائے اور پانی کی قدرتی ٹھنڈک کا  لطف اٹھایا جائے ۔

نوٹـ : دھیان رہے کہ کھانے کے فوری  بعد پانی  پینا صحت کے لیے مناسب نہیں ۔ کھانے کے بعد پانی پینے میں  کم سے کم تیس منٹ کا وقفہ لازمی ہے۔

تیسری مشق

کل کیا ہوگا؟نہیں  سوچنا

     اب ایک اور مشق۔    دو مشقیں  تو وہ کام ہیں  جو آپ نے کرنے ہیں  اور اب یہ تیسری مشق وہ کام ہے جو آپ نے نہیں  کرنا۔ ارے کنفیوز مت ہوں  کہنے کا مطلب ہے کہ ان تیس دنوں  میں  آپ نے ایک بار بھی یہ نہیں  سوچنا کہ ‘‘ہائے کل کیا ہوگا’’….؟

 چاہے کوئی بھی صورتحال پیش آئے  یا کوئی پریشانی آئے  اس سے نجات کے لیے  حکمتِ عملی بنائیے۔   اس مشکل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کیجیئے اور  نتیجہ اللہ پر چھوڑدیجیئے۔ مگر جیسے ہی یہ خیال ذہن میں  زور پکڑنے لگے کہ اب کیاہوگا یا کل کیا ہونے والا ہے فورا سے جھٹک دیجیئے۔ کل پر آپ کو اختیار نہیں  ۔یہ اتنا آسان نہیں  ہوگا مگر یہ کام بہت مشکل بھی نہیں  ۔

آپ کو بس اتنا یاد رکھنا ہے یہ آپ کی مشق کا حصہ ہے اور اس میں  کوئی بھی بہانہ نہیں  کرنا۔ کیونکہ کسی بھی کام کو نہ کرنے کے اگر سو بہانے  تو کس بھی  من پسند کام کو کرنے کے بھی سو طریقے ہو تے ہیں  ۔

ہمیں توقع ہے کہ  تیس دنوں  کی ان بظاہر سادہ اور آسان مشقوں  کے بہت مثبت اثرات ناصرف آپ خود بلکہ آپ کے گھر والے بھی محسوس کریں  گے  ۔ یہ تو ہے پہلا قدم۔انشاللہ اگلی قسط میں  ہم آپ کو  درست انداز میں بیٹھنے کے اور سانس کی چند مشقیں   بتائیں  گے…. اور ایک تیکنک بھی جس کے زریعے آپ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیابی کی طرف بآسانی  قدم بڑھاسکیں گے۔

(جاری ہے)
تحریر: شاہینہ جمیل

;

 

یہ بھی دیکھیں

ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا….

خوشی و غم اور کامیابی و ناکامی کی آنکھ مچولی زندگی بھر انسان کے ساتھ …

مائنڈ فُلنیس – 12

 قسط نمبر 12        مائنڈ فلنیس لمحہ بہ لمحہ زندگی کو جینے کا  …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے