کشورِ ظلمات ۔ قسط 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

(چوتھی قسط)

اس سے پہلے کہ قسطورہ مزید کچھ کہتی کہ اچانک بجلی آگئی…. روشنی ہوئی تو قسطورہ کے خدوخال جو اندھیرے میں نہایت واضح دکھائی دے رہے تھے…. اب خاصے مدّہم پڑگئے…. بلکہ ٹرانسپیرنٹ سے ہوگئے…. بالکل اُسی طرح جیسے کھڑکی کے شیشے سے اکثر باہر کا منظر بھی نظر آرہا ہوتا ہے اور دیکھنے والے کا عکس بھی…. ۔
عمر حبس کی وجہ سے پسینے میں شرابور ہوچکا تھا…. پنکھے کی ہوا لگتے ہی اُسے راحت محسوس ہوئی اور ایک طویل جماہی نے غنودگی کا شدّت سے احساس دلایا….
’’تمہیں تو بہت سخت نیند آرہی ہے‘‘…. قسطورہ نے کہا
’’صبح تو بہت مشکل سے ہی آنکھ کھل سکے گی، معلوم نہیں آفس جاسکوں گا یا نہیں…. ارے ہاں یاد آیا…. کل تو ایک ضروری اسائنمنٹ بھی Submit کروانا ہے‘‘…. عمر فکرمند ہوگیا….
’’فکر نہ کرو…. صبح تمہاری آنکھ اپنے وقت پر کھل جائے گی…. صبح اُٹھ کر دو چمچہ شہد پی لینا…. نمکین چیزیں کم سے کم کھانا اور میٹھی چیزوں کا استعمال بڑھا دینا‘‘…. قسطورہ نے بدستور مسکراتے ہوئے جواب دیا….
’’میٹھی اور نمکین!…. کیا مطلب؟…. اس سے کیا ہوگا؟‘‘….
’’اس کی تشریح میں پھر کبھی کردوں گی…. ابھی تو تم مجھے اجازت دو‘‘….
’’لیکن ابھی بہت سے سوالات باقی ہیں‘‘…. عمر نے تیزی سے کہا
’’گھبرائو نہیں…. تمہیں تمہارے تمام سوالوں کے جوا بات مل جائیں گے….میرا اور تمہارا رابطہ اندھیرے میں ہی ہوسکتا ہے…. روشنی میں نہیں…. اس لئے آئندہ جلد ہی میں تم سے رابطہ کروں گی‘‘….
’’اگر اندھیرا ہی ضروری ہے تو ٹھہرو میں ٹیوب لائٹ آف کردیتا ہوں‘‘….عمر نے جلدی سے کہا
’’نہیں…. صرف یہی بات نہیں ہے…. بلکہ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے….میں زیادہ دیر تک تمہاری دنیا میں نہیں ٹھہر سکتی…. ابھی مجھ میں اتنی قوت نہیں ہے….اچھا خدا حافظ‘‘…. یہ کہتے ہوئے قسطورہ عمر کی نظروں سے اوجھل ہوگئی….
٭٭٭٭
پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان واقعات کو دو مہینے بھی گزر گئے…. اس دوران نہ ہی کوئی غیر معمولی بات ہوئی اور نہ ہی قسطورہ نے رابطہ کیا…. اُن دنوں آفس میں کام اس قدر بڑھ گیا تھا کہ عمر کی توجہ بھی اس طرف نہیں گئی…. بلکہ عقابل خان بھی اُسے نارمل انسانوں کی مانند ہی محسوس ہونے لگا….
انہی دنوں اُس کے آفس میں حرا نے ڈیٹا انٹری آپریٹر کی حیثیت سے جوائن کیا…. رفتہ رفتہ حرا عمر کے بہت قریب آگئی…. عمر کے متعلق آفس میں مشہور تھا کہ کمپیوٹر پر کام کر کرکے وہ بھی جذبات سے عاری کسی مشین کی مانند ہوگیا ہے…. اُس کی جانب کئی لڑکیوں نے ہاتھ بڑھایا تھا…. لیکن عمر کے دل میں اُن کے لئے ایسے کوئی جذبات ہی نہیں اُبھرسکے جنہیں وہ محبت کا نام دے سکتا…. لہٰذا کسی کے ساتھ بھی وہ دوستی اور گپِشپ سے آگے نہ بڑھ سکا….
جب اُس نے حرا کو دیکھا تو اُسے پہلی ہی نظر میں ایسا لگا جیسے اُس کے اندر کوئی کمی ہے…. جو حرا کے ذریعے ہی پوری ہوسکتی ہے…. اس کمی کے احساس کو وہ کوئی نام نہیں دے سکا لیکن یہ احساس اُس کے دل میں بہت شدت سے اُبھرنے لگا کہ حرا سے ملنے سے پہلے شاید وہ ادھورا تھا….
گوکہ دونوں کی اکثر شامیں اب ساحلِ سمندر پر یا کسی ریسٹورنٹ میں اکھٹی گزرنے لگی تھیں…. کبھی کسی پارک کی بنچ پر بیٹھے وہ دونوں کئی کئی گھنٹے باتیں کرتے رہتے اور اُنہیں وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا…. لیکن ان باتوں میں ابھی وہ بات کسی کی زبان پر نہیں آئی تھی جسے آفس کا ہر فرد ان ملاقاتوں کی بنیاد سمجھ رہا تھا…. شیراز کو جب عمر نے بتایا کہ ابھی اُن دونوں کے درمیان ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی تو اُسے ذرا بھی یقین نہ آیا…. اس لئے کہ شیراز خاصا دل پھینک قسم کا لڑکا تھا…. جہاں کوئی حسین چہرہ دیکھا…. لگا اُس کی قصیدہ خوانی کرنے…. اور حرا کے اندر تو بلاکی کشش تھی…. شیراز یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنی بھرم بازیوں سے حرا کو بآسانی اپنی طرف متوجہ کرلے گا لیکن حرا کو عمر کی طرف بڑھتے دیکھ کر شیراز کے اندر عمر کے لئے حسد کے جذبات پروان چڑھنے لگے…. اور جب دونوں کے درمیان انڈر اسٹینڈنگ کی شہرت ہر طرف پھیل گئی تو شیراز رقابت کے جذبے سے مجبور ہوکر عمر کو کسی معاملے میں پھنسانے کی سازش سوچ رہا تھا….
ایک روز عمر نے آفس پہنچ کر اپنا کمپیوٹر آن کیا تو پتہ چلا کہ اُس کی ہارڈ ڈسک فارمیٹ ہوچکی ہے…. اُس کے تو ہاتھ پیر ہی پھول گئے…. اس لئے کہ اُن دنوں کمپنی جس پروجیکٹ پر کام کر رہی تھی…. اُس کا ایک انتہائی اہم کام عمر کے سپرد کیا گیا تھا…. جو اب تک نصف کے قریب مکمل بھی ہوچکا تھا…. عمر کو یاد آیا کہ اُس جاب کا بیک اپ تو اُس نے سی ڈی پر لے لیا تھا…. اُس نے سی ڈیز کی دراز کھولی تو بیک اپ والی سی ڈی اُس میں موجود نہ تھی…. وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا…. اب وہ کیا کرے گا؟…. اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا…. اگر وہ اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکا اور مسلسل یونہی بدحواس ہوتا رہا تو اُسے ہی غیرذمّہِدار قرار دیا جائے گا…. اُس نے بہت کوشش کی لیکن اُس کی گھبراہٹ کم نہ ہوسکی…. وہ دعائیں مانگنے لگا…. یااللہ اس مشکل وقت میں تو ہی میرا مددگار ہے….
شیراز اُس کے سامنے ہی والی کیبن میں بیٹھتا تھا اور وہ کن انکھیوں سے مسلسل عمر کی بدحواسی اور پریشانی کی حالت کو دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں خوش ہورہا تھا…. ساتھ ہی وہ اپنے ذہن میں اُس منظر کو بھی سوچ سوچ کر محظوظ ہو رہا تھا کہ جب ڈی جی ایم صاحب عمر پر ناراض ہوں گے اور اُس کی غیر ذمّہ داری پر اُسے خوب ذلیل کریں گے…. یوں لامحالہ عمر حرا کی نظروں سے بھی گرجائے گا…. ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دین محمد نے اُسے چونکا دیا….
’’ڈی جی ایم صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں‘‘…. دین محمد نے دانت نکالتے ہوئے کہا….
’’ اُن سے کہو کہ اللہ کو یاد کیا کریں‘‘…. شیراز کے ماتھے پر بل پڑگئے
’’آپ خود کہہ دیجئے…. جائیے…. تشریف لے جائیے‘‘…. دین محمد بدستور دانت نکالے کھڑا رہا اور شیراز کو بادل ناخواستہ اُٹھنا پڑا….
شیراز آگے بڑھا تو دین محمد نے غیر ارادی طور پر شیراز کی دراز کھولی اور سی ڈیز کے بکس میں سے ایک سی ڈی نکال کر ٹرانس کی سی کیفیت میں عمر کے کیبن کی طرف بڑھ گیا….
’’عمر صاحب! یہ آپ کی سی ڈی!‘‘….
’’ارے یہی تو میں تلاش کر رہا تھا…. یہ تمہیں کہاں سے ملی؟‘‘…. عمر تو اُچھل پڑا تھا
’’میں شیراز صاحب کی ٹیبل کے پاس کھڑا تھا کہ کسی نے مجھ سے کہا کہ…. اِس کی دراز میں لال رنگ کی سی ڈی عمر صاحب کی ہے، وہ نکال کر اُنہیں دے آئو…. میں نے سی ڈی نکالی اور فوراً آپ کو لاکر دے دی‘‘…. اب دین محمد بھی کچھ فکر مند نظر آرہا تھا….
’’کس نے کہا تھا؟‘‘….۔عمر نے پوچھا
’’ارے جناب یہی تو میں بھی یاد کر رہا ہوں…. کہ کس نے کہا تھا؟‘‘…. دین محمد ذہن پر زور دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک موتیے کے پھولوں کی تیز خوشبو عمر کی قوت شامّہ سے ٹکرائی…. اور لمحہ بھر میں اُسے دو ماہ قبل خود پر بیتے ماورائی واقعات یاد آگئے…. وہ سوچنے لگا کہ کہیں یہ قسطورہ تو نہیں جو اِس مشکل وقت میں اُس کے کام آئی ہے…. اُس نے دین محمد سے پوچھا ’’کیا تمہیں جو آواز سنائی دی تھی وہ کسی خاتون کی تھی…. اور اُس وقت موتیے کے پھولوں کی تیز خوشبو بھی تمہیں محسوس ہوئی تھی؟‘‘….۔
’’ہوں…. ہاں…. جی جی…. بالکل…. لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا؟….وہ کون صاحبہ تھیں؟‘‘….دین محمد کی پریشانی مزید بڑھ گئی
’’نہیں نہیں تم پریشان نہ ہو‘‘…. عمر سوچنے لگا کہ اب اسے کس طرح ٹالا جائے، پھر وہ جلدی سے بولا’’ارے بھئی وہ مس حرا تھیں‘‘….
’’مس حرا تھیں!…. لیکن وہ مجھے نظر کیوں نہیں آئیں‘‘….دین محمد نے سوال کیا
’’تم نے پیچھے مُڑ کر جو نہیں دیکھا تھا…. اچھا اب اس بات کو یہیں ختم کردو‘‘….
’’ٹھیک ہے جی…. جیسے آپ کہیں‘‘…. دین محمد گردن ہلاتے ہوئے بولا
کیا یہ شیراز کی کوئی سازش تھی؟…. عمر کو یقین نہ آیا…. وہ شیراز کو بہت اچھا دوست سمجھتا تھا…. لیکن یہ سی ڈی شیراز کے پاس کیسے چلی گئی؟…. اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا ’’شیراز ہے کہاں اِس وقت؟‘‘…. عمر نے دین محمد سے پوچھا
’’وہ تو جی…. ہاں اِس وقت تو ڈی جی ایم صاحب اُن کی کھنچائی کر رہے ہوں گے…. مجھ سے کہہ رہے تھے…. بلائو اُس نان سینس شیراز کو…. اُسے جو بھی کام دو اُس کا بیڑا غرق کردیتا ہے‘‘…. دین محمد نے ڈی جی ایم صاحب کی نقل اُتارتے ہوئے بتایا….۔
’’ہوں…. بُری بات…. اچھا اب تم جائو…. اور دو گلاس جوس لے آئو‘‘…. عمر نے اُسے گھورتے ہوئے کہا
’’دو گلاس جوس…. ایک گلاس کیا میرے لئے؟‘‘…. دین محمد کے سارے دانت پھر نظر آنے لگے
’’نہیں میرے لئے!‘‘…. عمر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا
’’ارے عمر صاحب! شرماتے کیوں ہیں…. صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ مس حرا کے لئے‘‘…. دین محمد یہ کہہ کر جلدی سے بھاگ گیا….
عمر کے کمپیوٹر پر ونڈوز ری انسٹال ہو رہی تھی…. اُس نے حرا کے کمپیوٹر پر سی ڈی چیک کی تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر اد اکیا…. اُس میں تمام فائلیں موجود تھیں…. عمر نے دل ہی دل میں قسطورہ کا بھی شکریہ ادا کیا…. اگر وہ اُس کی بروقت مدد نہ کرتی تو نجانے آج کیا ہوتا….
٭٭٭٭
عمر کئی روز سے سوچ رہا تھا کہ حرا سے اپنے دل کی بات اب کر ہی دینی چاہئے…. وہ گائوں میں پلا بڑھا تھا…. کسی حد تک شرمیلا اور کم گو بھی تھا….لیکن سچائی اور صاف گوئی بھی اُس کی شناخت تھی….شام کو جب وہ دونوں سرسبز پارک میں پھولوں سے بھری کیاری کے قریب بیٹھے تھے، عمر نے بڑی ہمت کرکے بہت سادہ سے الفاظ میں حرا کے سامنے اپنا مدّعا پیش کردیا….
’’حرا !…. کیا تم ایک سیدھے سادے، بیوقوف سے دیہاتی نوجوان کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو؟‘‘….
حرا گوکہ خاصی شوخ وچنچل تھی لیکن اس کے ساتھ ہی مشرقی رنگ بھی اُس کے اندر واضح طور پر نمایاں نظر آتا تھا…. اُس نے عمر کی بات سن کر نظریں جھکادیں…. لیکن اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ مسلسل رقص کر رہی تھی…. عمر کی ہمت نہ ہوسکی کہ وہ مزید کچھ کہہ سکے…. دیر تک دونوں خاموش بیٹھے پھولوں پر اُڑتی تتلیوں کو تکتے رہے….
اگلے روز دفتر میں لنچ سے پہلے کام سے کچھ فراغت ملی تو اُس نے انٹر کام پر حرا سے پوچھا ’’حرا! تم نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا‘‘….
’’عمر! تم واقعی سیدھے سادے، بیوقوف دیہاتی نوجوان ہو…. ارے بدّھو مشرق میں لڑکیاں اپنی زبان سے کوئی جواب نہیں دیتیں…. اُن کے جواب کو صرف دل سے ہی محسوس کیا جاسکتا ہے‘‘…. یہ کہہ کر حرا نے فون رکھ دیا….
چند روز تک عمر کی حرا سے علیحدگی میں بات نہ ہوسکی…. شاید حرا بھی اندر سے بہت شرمیلی تھی اور عمر بھی…. آہستہ آہستہ اچانک پیدا ہونے والی جھجک کم ہوئی تو عمر نے حرا کو اپنے بارے میں سب کچھ بتادیا…. اپنی ذمّہ داریاں اور اپنے مسائل…. غرض ہر چیز حرا پر واضح کردی…. حرا مسکراتے ہوئے سب کچھ سنتی رہی…. جب عمر نے اپنی ماں جی کے بارے میں بتایا تو حرا کی آنکھوں میں چمک نمایاں ہوگئی….
’’مجھے ماں جی سے کب ملوائو گے؟‘‘…. حرا نے پوچھا
’’جلد ہی…. اللہ کرے منّی کی شادی اسی سال ہوجائے تو…. میں ماں جی کو یہیں لے آئوں گا…. گھر میں صابرہ کو پیار سے منّی کہتے ہیں‘‘….عمر نے وضاحت کی….۔
’’بات یہ ہے کہ میں ہمیشہ ماں کی محبت کو ترستی رہی ہوں…. میں پیدا ہوئی تو ممی کا انتقال ہوگیا تھا…. پپا نے اس ڈر سے شادی نہ کی کہ کہیں بچوں پر بُرا اثر نہ پڑے…. شروع میں اُنہیں بہت مشکل حالات سے گزرنا پڑا…. اب اللہ کا شکر ہے میری دونوں بہنوں کی شادیاں ہوگئی ہیں…. بھائی امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں جاب کر رہے ہیں…. میں سب سے چھوٹی ہوں…. میں نے تو اپنی ماں کو دیکھا تک نہیں‘‘…. حرا بولتے بولتے سسکیاں بھرنے لگی…. عمر نے اُسے تسلّی دی…. عمر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فوراً حرا کی تمام محرومیوں کو دور کردے….
’’میری تو کوئی پھوپھی بھی نہیں ہیں کہ یہ کمی اُن کے ذریعے کچھ کم ہوجاتی…. خالہ ہیں لیکن سب انگلینڈ میں سیٹل ہیں…. تایا ابا نے شادی ہی نہیں کی…. اور وہ تو ہیں ہی ایسے کہ اُن سے کون شادی کرتا…. میں اُن کو پیار سے مسٹری انکل کہتی ہوں…. نہایت دلچسپ اور عجیب و غریب شخصیت کے مالک ہیں…. میں اُن سے کبھی تمہیں ملوائوں گی‘‘….
’’ہاں! ضرور‘‘….۔
دونوں ایک دوسرے کو اپنی زندگی کے اُتار چڑھائو سے آگاہ کر تے رہے…. لیکن عمر نے دو ماہ قبل گزرنے والے ماورائی واقعات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا…. ایسا نہیں تھا کہ وہ چھپانا چاہتا تھا…. بلکہ شاید اس لئے کہ وہ حرا سے ملنے کے بعد سب کچھ بھول ہی گیا تھا…. جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا….
٭٭٭٭
کمپنی کو اُسی پروجیکٹ کی کامیابی سے تکمیل پر زبردست فائدہ ہوا…. جس پروجیکٹ پر تین ماہ سے کام جاری تھا…. کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ریگولر بونس کے علاوہ کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک اسپیشل بونس بھی دیا جائے…. اس لئے کہ اس اہم کامیابی میں ہر کارکن کی محنت شامل ہے…. اسی میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس پروجیکٹ میں جنہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے…. اُنہیں ترقی بھی دی جائے…. عمر کا نام بھی اُن لوگوں میں شامل تھا جنہیں ترقی دی گئی….
عمر نے شیراز پر ایک لمحے کو بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ اُس کی حرکت سے واقف ہوگیا ہے، نہ ہی اُس نے کسی سے شکایت کی…. اُس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا…. جبکہ شیراز یہیں سمجھتا رہا کہ اُس کا منصوبہ کامیاب رہا ہے…. دراصل عمر نے خاموشی سے اپنی جاب وقت سے پہلے مکمل کرکے جمع کرادی تو اُسے مزید اُس سے کہیں زیادہ اہم کام دے دیا گیا…. آخری دنوں میں عمر کو کام میں یوں جتا دیکھ کر شیراز یہی خیال کرتا رہا کہ عمر اپنا کام وقت پر پورا نہیں کرسکا ہے اس لئے پریشان ہے…. کام کا پریشر بہت تھا اِس لئے اب دونوں کی بات چیت کم ہی ہوا کرتی تھی…. دوسرے چونکہ انتہائی اہم پروجیکٹ پر کام ہو رہا تھا اس لئے ڈی جی ایم صاحب مسلسل رائونڈ پر رہتے تھے…. یہی وجہ تھی کہ سارا اسٹاف ہی گھن چکر بنا ہوا تھا….
ایک ریگولر بونس بھی اسی مہینے ملنا تھا…. چنانچہ اسپیشل اور ریگولر دونوں بونس کو ملاکر ایک معقول رقم عمر کے ہاتھ آئی…. کچھ تو وہ پہلے ہی پس انداز کر رہا تھا…. چنانچہ اب اُس کے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی تھی کہ وہ باعزت طریقے سے اپنی بہن کو رُخصت کر سکتا تھا…. اُس کی خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا…. اُس نے دفتر سے ہی ماں جی کو ایک مختصر سا خط تحریر کرکے پوسٹ کروادیا کہ منّی کی شادی کی تاریخ پکی کرکے مجھے اطلاع کردیں، اور شادی کی تیاریاں شروع کرنے کا بھی لکھ دیا…. اُس نے ایم ڈی صاحب سے چھٹی کی بات کی تو وہ خوش دلی سے بولے ’’بھئی عمر…. بہن کی شادی میں ہمیں بلائو گے تو چھٹی ملے گی ورنہ نہیں!‘‘….
’’کیوں نہیں سر…. ہم گائوں کے لوگ بڑے دل والے ہوتے ہیں‘‘….۔
’’یار اِسی بہانے جھنگ کی سیر بھی ہوجائے گی اور ہیرکے مزار پر حاضری بھی دے دیں گے‘‘….
’’ہاں جی بالکل‘‘….
اگلے ہی ہفتے ماں جی کا خط بھی آگیا…. منّی کی شادی کی تاریخ پکی ہوگئی تھی…. اُس نے چھٹی کی درخواست دے دی…. جو فوراً ہی منظور ہوگئی….
حرا اور عمر آخری ملاقات میں چُپ چُپ تھے…. شاید یہ جدائی کا پہلا موقع تھا…. جس کے احساس سے دونوں افسردہ تھے….
’’صرف دس دن کی ہی بات ہے‘‘…. یہ جملہ عمر بمشکل کہہ سکا
’’ہاں‘‘….۔ حرا آہستہ سے بولی
’’ایم ڈی صاحب کے علاوہ اسٹاف کے کئی لوگ شادی میں شرکت کا پروگرام بنا رہے ہیں…. تم اُن کے ساتھ ضرور آنا‘‘….
’’کوشش کروں گی…. لیکن آج کل پّپا کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی‘‘….
٭٭٭٭
شادی سے ایک ہفتہ پہلے وہ جھنگ کے قریب واقع اپنے گاؤں پہنچ گیا…. پورا ہفتہ شادی کی تیاریوں اور بھاگ دوڑ میں یوں گزرا کہ پتہ ہی نہ چلا اور شادی کا دن بھی آن پہنچا…. کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز ایم ڈی صاحب کے علاوہ اسٹاف کے پانچ افراد فیصل آباد پہنچ رہے تھے…. اُس نے ایک کوسٹر ہائر کر کے فیصل آباد روانہ کروائی تھی…. فیصل آباد سے جھنگ کا فاصلہ یہی کوئی ڈیڑھ گھنٹہ کا ہوگا…. کوسٹر روانہ ہونے کے بعد وہ تین چار گھنٹے تک بظاہر تو مختلف کاموں میں لگا رہا لیکن اُس کا دل مسلسل یہ دعا مانگ رہا تھا کہ…. خدا کرے حرا بھی سب کے ساتھ آرہی ہو….
’’عمر بائو! کراچی والے مہمان آگئے ہیں‘‘…. بھٹی چاچا نے اُسے بتایا تو اُس وقت وہ شامیانے میں کرسیاں لگوارہا تھا…. کرسی زمین پر رکھ کر اُس نے جھکے جھکے ہی سامنے دیکھا تو ایم ڈی صاحب کوسٹر کی اگلی نشست سے اُتر رہے تھے…. پچھلے دروازے سے اُترنے والوں میں سلمیٰ سب سے آگے تھی، اُس کے پیچھے شیراز اور اسلم…. پھر اسلم اُترا تو پیچھے سے حرا کا چاند سا روشن دمکتا چہرہ گویا طلوع ہوا…. عمر تیزی سے اُن لوگوں کی طرف لپکا…. حرا کی نظریں بھی عمر کو ہی تلاش کر رہی تھیں…. اُسے اپنی طرف آتا دیکھ کر حرا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی….
گائوں میں کسی کے گھر خوشی کا موقع ہو یا غمی کا…. سب لوگ ہی مل جل کر اس طرح کام کرتے ہیں جیسے اُن کے اپنے گھر کا کام ہو…. عمر کے پڑوسی بھٹی چاچا نے اپنا پورا گھر کراچی سے آنے والے مہمانوں کے لئے وقف کردیا تھا…. عمر نے کہا بھی کہ ’’چاچا آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں‘‘….
’’اوئے یہ تکلیف تکلوف کیا کر رہا ہے بھئی…. یہ تو اپنی بیٹی کا کام ہے‘‘…. بھٹی چاچا نے اُس کی کمر پر ایک دھپ لگاتے ہوئے کہا تھا….
عمر نے سب سے ماں جی کو ملوایا…. حرا کی باری آئی تو عمر نے کہا ’’ماں جی…. یہ حرا ہے!‘‘….۔ ماں جی نے بیٹے کے لہجے میں چھپے جذبات کو نجانے کیسے محسوس کرلیا…. اُس کی طرف دیکھ کر ایک لحظہ کو مسکرائیں اور ’’میں صدقے…. میں واری‘‘ کہتے ہوئے حرا کو اپنی ممتا بھری آغوش میں سمیٹ لیا….
بھری دوپہر میں بارات آئی…. نکاح ہوا…. سہ پہر تک کھانا کھلایا گیا…. اور مغرب تک ماں جی اور بھائی کی دعائوں اور آنسوئوں کے سائے میں منّی کی رخصتی ہوگئی….
رات کو بھٹی چاچا کے بڑے سارے آنگن میں ستاروں بھرے آسمان تلے، چارپائیوں پر بیٹھے کراچی کے مہمان ٹھنڈی ہوا کالطف اُٹھا رہے تھے….
ایم ڈی صاحب ویسے ہی ایڈونچر پسند آدمی تھے…. بھٹی چاچا سے اُن کی خوب دوستی ہوگئی…. بھٹیچاچا اُنہیں شکار کی داستان سنا رہے تھے…. سب ہی خاصے تھک گئے تھے اس لئے جلد ہی سب کو نیند نے آلیا…. اصل میں کل کا دن پھر بے انتہا مصروف گزرنا تھا…. کل جھنگ شہر کی سیر جو کرنی تھی اور پرسوں صبح ہی صبح ان سب کی روانگی تھی….
عمر کی آنکھوں سے نامعلوم کیوں نیند کوسوں دور چلی گئی تھی….وہ آنگن میں بیٹھا آسمان پر دمکتی قندیلوں کو دیکھ رہا تھا….۔ اچانک اُسے موتیے کی تیز خوشبو کا احساس ہوا…. جو بتدریج بڑھتی جارہی تھی…. کسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا…. وہ بُری طرح چونک گیا…. پیچھے مڑ کر دیکھا تو قسطورہ کھڑی تھی….
’’تم یہاں کیسے؟‘‘….۔عمر نے حیرت سے پوچھا
’’جیسے تم یہاں ہو…. ویسے ہی میں بھی‘‘….
’’لیکن یہ تو میرا شہر ہے…. میں یہاں پیدا ہوا ہوں‘‘….
’’میرا بھی یہی شہر ہے…. میں بھی یہیں پیدا ہوئی ہوں‘‘…. قسطورہ نے مسکراتے ہوئے کہا….
’’تم مجھ سے مذاق کر رہی ہو‘‘…. عمر نے بیِیقینی کے ساتھ کہا
’’میں تم سے مذاق کیوں کروں گی‘‘….
’’تم تو مجھے کراچی میں نظر آئی تھیں‘‘….۔
’’کراچی تو میں تمہیں تلاش کرتی ہوئی پہنچی تھی…. عقابل چاچا نے ایک روز باتوںباتوں میں تمہارا تذکرہ کیا تھا کہ کوٹھی میں ایک لڑکا آرہا ہے…. جس کا تعلق جھنگ سے ہے‘‘….۔
’’تمہیں مجھ سے آخر ایسی کیا دلچسپی ہے؟‘‘…. عمر نے جھلاتے ہوئے کہا….
’’یہ دل کی بات ہے…. د ل کے جذبات پر کب کسی کا اختیار ہوتا ہے‘‘…. قسطورہ نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا….
’’تم تو جنات سے ہو…. کیا تم لوگوں میں بھی جذبات ہوتے ہیں‘‘…. عمر نے پھر بے یقینی کے ساتھ کہا….
’’جذبات تو…. جانوروں میں بھی ہیں…. پودوںمیں بھی ہیں…. ہم تو پھر بااختیار مخلوق ہیں…. بالکل تمہاری طرح‘‘….
’’جب تم اتنا کچھ جانتی ہو تو یہ بھی ضرور جانتی ہوگی کہ آگ اور پانی کا کبھی میل نہیں ہوسکتا‘‘….
’’محبت صرف وصل کا نام ہی تو نہیں…. محبت تو کسی کو اپنا سب کچھ مان کر اُس کی سیوا کرنے کا نام بھی ہے‘‘…. قسطورہ نے کہا تو عمر کو یاد آیا کہ آفس کے مسئلے میں قسطورہ اگر اُس کی مدد نہ کرتی تو وہ بہت مشکل میں پھنس جاتا…. اور یہ جو اُسے ترقی ملی ہے اس میں قسطورہ کی مہربانی بھی شامل ہے…. اُس نے قسطورہ کا شکریہ ادا کیا تو وہ کھلکھلاکر ہنس پڑی….
’’سچی بات تو یہ ہے کہ تم سے ملنے کے بعد جنات کے حوالے سے میرے تمام تصورات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں…. پہلے تو میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ جنات محض شرپسند مخلوق ہے‘‘….عمر نے صاف گوئی سے کہا
’’اس طرح تو انسانوں کے بارے میں ہمارے ہاں اکثر لوگوں کے تاثرات بھی انسانوں کے خیالات سے ملتے جلتے ہیں…. حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکلف مخلوق کے افراد کو اختیار دیا ہے کہ وہ برائی کے راستے پر چلنا چاہیں تو اُس میں بھی وہ آزاد ہیں…. اور اگر اچھائی کے رستے پر چلتے ہیں تو اس میں بھی وہ آزاد ہیں‘‘….
قسطورہ باتیں کرتے کرتے اچانک ٹھٹھک سی گئی…. اور آنکھیں بند کرکے کچھ محسوس کرنے لگی….
’’ایسا لگتا ہے کوئی ہماری باتیں سن رہا تھا‘‘…. قسطورہ نے تشویش ظاہر کی
’’نہیں تمہارا وہم ہوگا…. سب بے خبر سو رہے ہیں‘‘…. عمر نے بے توجہی کے ساتھ کہا
’’عمر! میں نے پکڑ لیا ہے‘‘ قسطورہ نے خوشی سے کہا…. ’’میں چاہوں تو اُسے گدّی سے پکڑ کر یہاں کھڑا کردوں لیکن وہ تمہارا مہمان ہے…. پھر خواہ مخواہ میں یہاں بدمزگی پیدا ہوجائے گی‘‘….
’’کون ہے؟‘‘…. عمر کے ماتھے پر شکن پڑگئی
’’شیراز…. یہ وہی بندہ ہے جس نے تمہیں آفس میں پریشان کرنے کی کوشش کی تھی‘‘….
’’لیکن یہ آخر میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے؟…. میں نے تو اس کا کچھ نہیں بگاڑا…. اور بظاہر اُس کا روّیہ میرے ساتھ ٹھیک ہی ہے‘‘…. عمر پریشان ہوگیا….
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے