مائنڈ فُلنیس ۔ 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]
قسط نمبر 1

ایانہ کراچی کے ایک بہت معروف صنعتکار کی اکلوتی بیٹی ہے ۔وہ ان خوش نصیبوں میں سے ہے جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور پھر جب مقدر ساتھ ہوتو کیا کہنے ۔صورت سیرت اور ذہانت ایانہ میں مدغم تھیں ۔
بیس سال کی عمر تک وہ جانتی بھی نہ تھی کہ ناکامی کسے کہتے ہیں۔ محرومی کیا ہوتی ہے اور پھر جب شریکِ.سفر چننے کی باری آئی تو یہاں بھی خوش نصیبی نے رنگ دکھایا۔ اس کے خوابوں میں بسنے والا شہزادہ سالار کے روپ میں اس کا ہم سفر بن گیا ۔
مگر پھر وقت کو آزمائش لینے کی سوجھی۔
کچھ مہینوں بعد جب وہ انگلینڈ سے پاکستان واپس آئی۔ رات کے دو بج رہے تھے کہ ائیرپورٹ سے واپسی پر ایک گاڑی ایک موڑ کاٹتے ہوئے چند نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔سالار کی مزاحمت پر ایک سنگدل نے گولی اس کے جسم میں اتار دی۔ایانہ تو یہ منظر دیکھ کر ہی بے ہوش ہوچکی تھی اور جب ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ گولی سے سالار کی ریڑھ کی ہڈی پر داغ آیا ہے اور اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا ہے۔ اس صدمے نے اسے توڑ کر رکھ دیا۔سالار کی معذوری نے اسے اندر ہی اندر گھلانا شروع کردیا۔
ماں باپ نے اپنی سی کوشش کر کے دیکھ لی مگر وہ اسے صدمہ سے باہر نہ نکال پائے ۔والدین کے لئے ایک فکر یہ بھی تھی کہ ایانہ اب نڈر اور بہادر لڑکی نہ رہی تھی ۔کہیں کسی بارات میں ہونے والی آتش بازی کے شور سے بھی وہ دبک جاتی ۔باہر نکلتے ہوئے اسے خوف محسوس ہوتا ۔نتیجے میں وہ گھر میں قید ہوکر رہ گئی تھی۔آہستہ آہستہ اب وہ خود کو سب سے بدقسمت انسان تصور کرنے لگی تھی ۔اس کی بھوک کم ہوتی جارہی تھی۔لوگوں سے ملنا جلنا ترک کرتی جارہی تھی اور انجان لوگوں سے ملاقات کا تو سن کر ہی کمرے میں بند ہوجاتی، ڈاکٹرز کے مطابق اسے کوئی جسمانی عارضہ نہ تھا۔مگر ذہن خود ساختہ بیماریوں کی آماجگاہ ضرور بنتا جارہا تھا۔اسے ہر وقت لگتا جیسے کوئی بندوق لئے اس کا پیچھا کررہا ہے۔ وہ ایک خاص قسم کے فوبیا میں مبتلا ہوچکی تھی ۔
آج کے اس افرا تفری کے دور میں ایانہ کو درپیش حالات جیسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں ۔یہ تو خیر ایک بہت بڑا حادثہ تھا جو ایانہ کی زندگی میں رونما ہوا مگر ہمیں اپنے آس پاس ایسے کئی لوگ ملیں گے جو نارمل اور سکھ دکھ سے ملی جلی زندگی گزارنے کے باوجود ڈر خوف اور اندیشوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ کئی لوگ اپنی قسمت سے شاکی ہیں، کئی لوگ مایوسی اور ناامیدی میں گھرے نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی معجزے یا کرشمے کے منتظر ہیں ۔
کئی افراد اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے وقت سے پہلے منصوبہ بندی تو کرتے ہیں یہ اچھی بات ہے مگر ساتھ ساتھ فکر مند اور اندیشوں میں بھی مبتلا رہتے ہیں ۔ جیسا کہ ملک صاحب جنہیں اللہ نے چار معصوم بیٹیوں سے نوازا ہے اور جن کی عمریں ابھی پانچ سے دس سال ہیں مگر وہ فکرمند رہتے ہیں۔ ان کا اکثرسوال ہوتا ہے کہ اگلے دس پندرہ سالوں میں کیا ہوگا۔ یہ ایک مرض ہے جو جنرل انزائیٹی ڈس آرڈرGeneral anxiety Disorder کہلاتا ہیں ۔ترقی پذیر ممالک میں ایسے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
آئیے تھوڑی سی روشنی ان حالات پر بھی ڈالتے ہیں جو ان تکالیف کا موجب بن رہیں ہیں ۔
کسی مفکر کا کہنا ہے کہ معمولاتِ زندگی میں پیش آنے والے مسائل زندگی کو بامقصد، دلچسپ اور سرگرمِ عمل رکھتے ہیں ۔مگر جب انسان خود کو کمزور جان کر ان مسائل کا سامنا نہیں کرپاتا تو اس کا ذہن اس شکست کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ اس مزاحمت کے نتیجے میں ہونے والے شکست و ریخت کے عمل میں ذہن بیمار ہونے لگتا ہے۔
یہ مزاحمت مختلف ذہنی الجھنوں اسٹریس، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی عارضوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر بروقت اسے کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ دماغی یا نفسیاتی بیماریاں جسمانی امراض کی صورت میں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔جیسا کہ سر میں بے وقت درد کا رہنا،گیس اور بدہضمی کے امراض ،قبض کی شکایت کا رہنا، حتی کہ جوڑوں میں درد ، کی بھی عمومی بنیاد کسی نہ کسی طرح کی ذہنی الجھنیں، ڈپریشن، اسٹریس بنتے ہیں جو انتہا ئی درجے میں بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دمہ کی صورت ہیں ظاہر ہوتے ہیں ۔
شواہد بتاتے ہیں کہ مایوسی ،ناامیدی اور ڈپریشن دل کی بیماریوں حتی کہ کینسر جیسے موذی مرض سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں ۔ایک سروے کے مطابق یہ بیماری کسی بھی عمر میں کسی کو بھی ہوسکتی ہے۔ اس وقت دنیا میں ہر چار میں سے ایک فرد کسی نہ کسی ذہنی یا نفسیاتی عارضہ میں مبتلا ہے ۔جس کی وجہ ایک جانب تودنیا بھر میں روز بروزبڑھتی ہوئی مہنگائی ، غیر یقینی صورتحال، بنیادی سہولیات کا فقدان، لوٹ مار،قتل و غارت گری اور عدم تحفظ جیسے مسائل ہیں۔ دوسری جانب اخلاقی پستی، باہمی تعلقات میں ناچاقیاں ،رشتے داروں سے دوری حسد لالچ بغض بھی نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بن رہیں ہیں۔
ہر شخص ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرکے ایک خوش خرم، مطمئن اور صحت مند زندگی چاہتا.ہے۔
ہر شخص چاہتا ہے کہ اس میں جینے کی امنگ، پرامیدی اور خوشی ہو ۔وہ بھی بلڈ پریشر، السر ، تیزابیت ،شوگر، سردرد یا دیگر عوارض سے محفوظ رہ سکے۔مگر کیسے….؟ کیا یہ ممکن ہے بھی یا نہیں….؟
خواہش تو سب کی ہے مگر ایسی زندگی حاصل کرنے کی کوشش بہت کم لوگ کرتے ہیں ۔اکثریت کے خیال میں ایسی آئیڈیل زندگی کے لئے دولت اور طاقت کا ہونا بہت ضروری ہے اور باقی نے یہ ذمہ.داری قسمت پر ڈال دی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قسمت کا ہماری زندگی میں بڑا عمل دخل ہے۔ ذرا دعا کی اہمیت پر غور کیجئے کہ رب کو پسند ہے اس سے مانگا جائے اور وہ کسی کی دعا رد نہیں کرتا….! زندگی میں ناممکن کچھ بھی نہیں۔ اگر قسمت کا ذکر زندگی میں شامل ہے تو دعا اور کوشش کا بھی اس سے کہیں زیادہ بڑا اور مضبوط کردار ہے۔ضرورت اس امر کی ہے اللہ تعالی کی سب سے خوبصورت تخلیق انسان اپنی ذات میں مخفی رازوں ، صلاحیتوں اور اختیارات کو سمجھنے اور ان سے واقف ہونے کی کوشش کرے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کئی صدیوں سے مغربی دنیا تحقیق کے میدان مارتی آرہی ہے۔ انسانی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے کئی فنون جن کی بنیاد تو مشرق میں پڑی مگر عملی طور پر کامیابی مغرب میں حاصل ہوئی۔انہیں میں سے ایک فن سے آج ہم آپ کو متعارف کروانے جارہے ہیں۔ اس کی بنیاد انسانی زندگی اور اس کا ماخذ انسانی دماغ ہے۔
تو آئیے جانتے ہیں اور سیکھتے ہیں اپنے حال میں جینے کا فن جسے مغرب نے مائینڈ فلنیس کا نام دیا ہے ۔

مائینڈ فلنیس کی بنیاد کیا ہے ؟

اگر ہم ابتداء میں انسانی جسم میں دماغ کے کردار اور نیند کی مختلف کیفیات کو سمجھ لیں تو آپ کے لئے مائینڈ فلنیس کی مشقوں اور اس سے حاصل ہونے والی افادیت کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین نے کئی بارپڑھا اور سمجھا ہے کہ انسانی جسم میں دماغ کو جسم کے حکمران کی حیثیت حاصل ہے اور دماغی صحت کے بغیر مکمل صحت مند جسم کا تصور ہی ممکن نہیں ۔ایسا کیوں ہے….؟ آئیے تھوڑا تفصیل سے مگر آسان زبان میںسمجھتے ہیں۔
ریسرچ کہتی ہے کہ انسانی دماغ میں کام کرنے والے مخصوص خلیوں کی تعداد تقریبا اتنی ہی ہے جتنے کائنات میں ستارے اور سیارے ہیں یا شاید ان سے بھی زیادہ۔ یعنی ہمارا دماغ ایک کھرب سے زیادہ خلیوں کا مسکن ہے۔ یہ مخصوص خلئیے نیورونز کہلاتے ہیں جو دماغ اور جسم کے تعلق کو جوڑتے ہیں اور پیغام رسانی کا کام انجام دیتے ہیں یعنی سارا دن ہونے والی ہر ایکٹوٹی اور عمل دماغ کی زیرِ نگرانی اور اس کے حکم پر انجام پاتا ہے۔
تحقیقات کے اوائل دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ سارا دن مسلسل کام کرتے رہنے کی وجہ سے نیند کا مقصد دماغ کو آرام دینا ہے اور رات میں ہمارا دماغ سوجاتا ہے ۔مگر جیسے جیسے تحقیقات سامنے آتی رہیں یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ ہمارا دماغ نہ تو تھکتا ہے اور نہ ہی اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ہمیں نیند کیوں آتی ہیں اورہم سوتے کیوں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا دماغ کبھی نہیں سوتابلکہ تحقیق سے یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ نیند کے دوران ہمارا دماغ زیادہ چاق وچوبند اور فعالہوجاتاہے۔
دراصل نیند ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ کے جسم کو توآرام دیا جاتا ہے لیکن دماغ کو وقت، تاکہ وہ دن بھر کی سرگرمیوں کے دوران پیدا ہونے والے فاسد مواد کی صفائی کرسکے اور آپ اگلے دن پھر سے تازہ دم اورچاق و چوبند ہوجائیں کسی بھی وجہ سے اس فاسدسیال مادہ کی کچھ مقدار بھی باقی رہ جائے تو وہ دماغی خلل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یعنی بھرپور اور گہری نیند دراصل انسانی جسم کی ایک ایسی کیفیت یا حالت ہے جس میں انسان کی جسمانی اور جذباتی ہر طرح کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت ہوتی ہے ۔اور انسان کو ناصرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی چا ق و چوبند اور توانا رکھنے کی ذمہ دار بنتی ہے ۔
یہاں دما غ اور نیند کی فعالیت بتانے کا مقصد یہ تھا ، تاکہ آپ نیند سے حاصل ہونے والے عملی فوائد کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ کئی مغربی ریسرچ سینٹرز میں الیکٹرو انسفیلو گرافی اور دیگر آلات کے ذریعے نیند کی مختلف درجات اور ان درجات میں پیدا ہونے والی دماغی لہروں اور ان کی فریکوئنسی کا مشاہدہ کیا جاچکا ہے۔ نیند کے تیسرے اور چوتھے درجے پر بننے والی الفا اور آخر میں ڈیلٹا ویوز کی فریکوئینسی( 3 ہرٹز سے 6 ہرٹز اور 0.5 سے 3ہرٹز )یعنی سست ترین ہوتی ہے۔ اس درجے پر دی جانے والی ہدایات کے ذریعے کئی بیماریوں کے کامیاب علاج کئے گئے اور کئی افراد نے اپنی دائمی بیماریوں، ذہنی دباؤ،ڈپریشن اور بری عادتوں سے چھٹکارا حاصل کیا۔اس کے علاوہ جن صحت مند لوگوں پر نیند کے اس درجے میں جا کر مشقوں کو کروایا گیا وہ پہلے سے زیادہ چاق و چوبند اور مطمئن نظر آئے اور عملی زندگی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر نیند کی اس حالت کو جاگتے میں خود پر طاری کرلیا جائے تو جو مرمت کا عمل دماغ نیند کی کیفیت میں کرتا ہے وہ جاگتے میں نیندکی کیفیت طاری کرنے کے دوران بھی کرے گا۔اور ایسا سو فیصد ممکن ہے جیسا کہ مندرجہ.بالا تحقیق سے ثابت ہے ۔دراصل جاگتے میں ان کیفیت کا طاری ہوجانامراقبے کی ہی ایک شکل ہے جسے مختلف طریقوں سے پریکٹس کیا اور کروایا جاتا ہے۔ ان مشقوں کے انتہائی کامیاب اور حیرت انگیز نتائج حاصل ہوئے ہیں۔(مختلف مراقبوں کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے )۔
یہ ریسرچز اب مختلف ناموں اور نت نئی مشقوں اور ٹیکنیکس کے ساتھ متعارف ہورہی ہیں ۔ جن کا بنیادی ماخذ ایک ہی ہے۔ یعنی خیالات کی رو کو بہتر طور پر سمجھنا اور اپنی دماغی صلاحیتوں کو مثبت طرزِ فکر کے مطابق ڈھالنا اور استعمال کرنا۔ان میں سے ایک کو مائینڈ فلنیس کا نام دیا گیا ۔
اس وقت پوری دنیا میں مائینڈ فلنیس تھراپی اور مشقوں کو کئی ذہنی ،نفسیاتی بیماریوں کے علاج میں محفوظ اور موثر ترین تسلیم کیا گیا ہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں کہ مائینڈ فلنیس اور اس کی مشقیں ہیں کیا؟

مائینڈ فُلنیس کیا ہے؟

مائینڈ فلنیس دراصل مشکلات میں جینے کا فن ہے ہم تو کہتے ہیں کہ یہ اپنے حال میں جینے کا فن ہے
ایک مفکر کا قول ہے کہ ‘‘آپ اپنے آنے والے کل کے لئے پریشان نہ ہوں وہ اپنا بندوبست خود کر لے گا۔ آپ محض اپنے آج کی فکر کیجیئے اور اسی پر توجہ مبذول رکھیئے ۔’’
مائینڈ فلنیس ایک قدیم سائنس ہے۔ اس کے آثار قدیم بدھ مت میں ملتے ہیں ۔یہ صدیوں سے چینی اور بدھ مت تہذیب کا حصہ ہے ۔مائنڈ فلنیس ایک طرزِفکر اور عملی مشق ہے جو ہمیں حال میں جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ہمیں بتاتا ہے کہ جو ہے وہ آج ہے۔ یہ لمحہ ہے۔ آنے والے کا پتہ نہیں اور جو بیت گیا وہ ہاتھ میں نہیں۔ اس کا کسی مذہبی،ثقافتی ، یاسائنسی عقیدے سے نہ تو کوئی تنازعہ ہے اور نہ ہی کوئی ٹکراؤ۔ بلکہ یہ زندگی میں پیش آنے والے موجودہ حالات ،موجودہ مقصد اور موجودہ لمحہ کو مثبت اور غیرجانبدارانہ سوچ کے ساتھ قبول کرنے کی ایک عملی مشق ہے ۔اس کی مشقوں کا ہمارے افکار و نظریات سے گہرا تعلق ہے ان میں سے بعض کو بدلنے اور ایک نئے انداز میں مثبت رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ ان عملی مشقوں کے ذریعے محض اپنے حالات کو قبول کرنا سیکھیں گے ۔نہیں بالکل بھی ایسا نہیں ۔کیونکہ اگر آپ محض انھیں قبول کرلیں تو پھر تصحیح اور امپرومنٹ کاکام رک جائے گا۔
دراصل جب آپ یہ عملی مشقیں کرتے ہیں تو آپ کی طرزِ فکر اس سطح پر آجاتی ہے جہاں آپ اپنی توانائیوں کا صحیح طور پر اور مثبت اور تعمیراتی رخ پر استعمال کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں ۔آپ موجودہ حالات کو من و عن قبول کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ جاتے ۔بلکہ اس سِچویشن کو بہتر طور پر سمجھنے لگتے ہیں اور بالآخر انہیں حالات میں سے بہتری اور مثبت حل نکلنے شروع ہوجاتے ہیں ۔
یہی مائینڈ فلنیس کا بنیادی مقصد اور آبجیکٹو ہے۔ جو آپ کو اپنے حال میں جینے کا فن سکھاتاہے۔
مثلا اگر آپ اس وقت اپنی من پسند کوئی چیز کھارہے ہیں جیسے کہ اسٹرابری یا چاکلیٹ تو پھر کھاتے وقت اس کو محسوس بھی کیجیئے کہ آپ اسٹرابری کھارہے ہیں….اس کا مزہ، اس کا ٹیکسچر، اس کی کھٹاس یا چاکلیٹ کا کرنچ، ا س کی مٹھاس۔ارے آپ میری بات پڑھ کر مسکرانے لگے۔
دوستو! اگر آپ کو یہ بچکانہ بات لگ رہی ہے تو یقین کیجئے یہ بظاہر چھوٹی سی مشق کئی لوگ اپنی زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں اور اس چھوٹی سے مشق کے بہت مثبت اور بہترین نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ بہرحال اس کی مشقوں پر تفصیل سے بات ہم بعد میں کریں گے۔ پہلے اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا کچھ ذکر کئے لیتے ہیں۔

مائینڈ فُلنیس کے فوائد

اس وقت دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں سرٹیفائیڈ انسڑکٹر لوگوں کو مائینڈ فلنیس کی مشقیں کروارہے ہیں۔ اس تعداد میں دن بدن اضافہ بھی ہوتا چلا جارہا ہے ۔اس کے علاوہ متاثر کن شفائی اثرات ملنے کی وجہ سے مغربی دنیا کے بیشتر ہسپتالوں میں معالجین اپنے مریضوں کو مایئنڈ فلنیس کی مختلف مشقیں کروانے لگے ہیں۔ مائینڈ فلنیس سے حاصل ہونے والے فوائد میں ڈپریشن ،اعصابی دباؤ سے نجات حاصل ہوتی ہے۔نیند اچھی ہوجاتی ہے۔غصہ میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے اور مثبت اندازِ فکر بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے بلڈپریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔گیس کے امراض سے نجات مل جاتی ہے۔
نفرت دکھ پریشانی جلنا کڑھنا حسد منفی سوچ رکھنے والے افراد میں مائینڈ فلنیس کی مشقوں کے اچھے نتائج ملے ہیں۔
دیگر دائمی یا موروثی بیماریوں میں ڈاکٹری علاج کے ساتھ مائینڈ فلنیس کی مشقوں سے شفایابی کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔بہت سے لوگوں میں ذیابیطس کو بھی کنٹرول ہوتے دیکھا گیا ہے۔
اگر آپ مائینڈ فلنیس کی مشقوں کے عادی ہیں تو ماحول کی پیداکردہ یاکسی بھی طرح کی موسمی بیماریوں کو نہ صرف خود سے دور رکھ سکیں گے بلکہ موروثی بیماریوں کے ہونے کے امکانات بھی کم سے کم تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ سکون اور اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے ۔
مائینڈ فلنیس کے مراقبوں سے ذہنی قوت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے کاروبار،لین دین اور ملازمت میں بہتر کارکردگی اور ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں ۔
ذہنی سکون بڑھ جانے سے گھریلو زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جو باہمی محبت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اور گھریلو ماحول خوشگوار و پُرمسرت ہوجاتا ہے۔
ہرکام میں ناکامی کا بے جا خوف ،اندیشے ڈراور منتشر خیالی جیسی خود ساختہ بیماریوں اور کیفیات سے چھٹکارامل جاتا ہے۔
جب طالبِ علموں نے ان مشقوں کو اپنایا تو ان کی تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے طالبِ علم نہ صرف پڑھائی میں بلکہ کھیل کود اور دیگر غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی کامیاب اور نمایاں نظر آئے ۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان مشقوں سے نہ صرف یہ کہ دنیاوی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ جیسے جیسے آپ کی ذہنی قوتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ روحانی لذتوں سے بھی روشناس ہوتے ہیں اور بندہ خود کو اپنے رب کے بہت قریب محسوس کرتا ہے ۔

برٹش جرنل آف سائکاٹری The British Journal of Psychiatry میں شایع ہونے والی جدید طبی تحقیق کے مطابق طبیعت کو خوشگوار بنانے اور پرسکون رہنے کے لیے  استعمال کی جانے والی ادویات سے زیادہ مراقبہ کا عمل بہتر ہے۔ بدھ مت کی تعلیمات کے تحت کئے جانے والے مراقبے کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔دوا کھانے والے گروپ کی نسبت مراقبہ کرنے والوں کو 47 فیصد زیادہ آفاقہ حاصل ہوا۔ ‘‘مائینڈ فلنیس بیسڈ کاگنیٹیو تھراپی’’  Mindfulness-based cognitive therapy (MBCT)کے تحت اس مراقبے کے تحت دیکھا گیا کہ ماضی کے تلخ تجربات اور یادوں کو کم کیا جاسکتا ہے اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی بھی ،جبکہ دوسری جانب ادویات کے مضر اثرات سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔اس تحقیق کو پروفیسر ولیم کیوکین Willem Kuykenنے مرتب کیا ہے جو انگلینڈ  میں ایگزیئر یونیورسٹیUniversity of Exeter کے  موڈ ڈس آرڈر سنٹر Mood Disorders Centreمیں مکمل کی گئی۔تحقیق کے مطابق اس متبادل طریقہ علاج سے جہاں صحت کو کم خطرات لاحق ہوتے ہیں وہاں دواؤں پر اٹھنے والے اخراجات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔

مائینڈ فُلنیس کن لوگوں کے لئے ہے ؟

جیسا کہ ہم ابتدا میں تذکرہ کرچکے ہیں کہ دماغ کو اللہ تعالی نے بے شمار صلاحیتوں اور مخفی توانائیوں سے نوازا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر انسان کا دماغ بے شمار پوشیدہ صلاحیتوں کا مسکن ہے مائنڈ فلنیس کی مشقوں سے آپ اپنی ان پوشیدہ صلاحیتوں کو نہ صرف پہچان سکتے ہیں بلکہ ان سے خوب استفادہ بھی کرسکتے ہیں۔ مائنڈ فلنیس کی مشقوں سے دماغی قوتیں موثر انداز میں کام کرنا شروع کر دیتی ہیں ۔ یہ مشقیں سب کے لئے ہیں ۔ہر عمر کے مردعورت بچے،جوان بوڑھے،صحتمند یا بیمار سب اپنی خواہش اور دلچسپی کے مطابق ان مشقوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔جیسے جیسے آپ کو ان مشقوں کی عادت ہوتی جائے گی یہ آپ کے مزاج کا حصہ بن جائیں گی جو یقیناً آپ کی سوچ پر اثر انداز ہو کر آپ کی ایک خوش و خرم اور صحت مند شخصیت کی تعمیر میں مدد دیں گی۔

مشقوں کے لئے ضروری اشیاء

ارے ارے دوستو!ـ لفظ مشق سے قطعی طور پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ کوئی بہت زیادہ ہاتھ پیر ہلانے والی یا پہلوانی کی مشقیں قطعی طور پر نہیں۔ بلکہ یہ تو مختلف مراقبوں اور سانس کی مختلف طریقوں کی مشقیں ہیں۔ اس کے لیے کسی آلات یا مشینری کی نہیں بلکہ خود آپ کی ضرورت ہے۔آپ باقاعدگی سے ان مشقوں کا مطالعہ کیجیئے جو ہم آپ کو بتاتے جائیں گے اور آپ بتائی جانے والی ہدایات پر عمل کرتے جائیے۔ آپ کی روزانہ کی موجودگی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ میں صحیح ہونے کی خواہش ، جستجو اور ثابت قدمی بھی پیدا کرتی چلی جائےگی۔ انشاءاللہ
تو یہ ہے مائینڈ فلنیس کا مختصر تعارف…. انشاءللہ آنے والے ابواب میں ہم مائینڈ فلنیس کی مشقیں ان کی افادیت اور بیماریوں سے علاج سے آپ کو آگاہ کریں گے ۔اس زندگی کو خوب سے خوب تر ،صحت مند ، کامیاب اور پرمسرت طور گزارنا سیکھیے، اس دنیا میں زندگی کو بہتر طور پر اور خوشیوں کے ساتھ گزاریے اور اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتے رہیں۔
زندگی کی راہیں کبھی سیدھی نہیں ہوتیں ان میں اونچ نیچ نشیب فراز آتے جاتے رہتے ہیں اب ان رکاوٹوں یا ٹیڑھے میڑھے راستوں کی وجہ سے اگر آپ آنسو بہانا چاہتے ہیں اور مقدر کا لکھا سمجھ کر آنسوؤں بھری عام سی زندگی گزارنا چاہیں تو اس فیصلے سے آپ کو نہ تو کوئی روکے گا اور نہ ہی روک سکتا ہے۔کیونکہ اپنی زندگی کا فیصلہ بہرحال آپ نے خود کرنا ہے ۔لیکن اگر آپ اپنی زندگی سے اصل لطف اور مسرت کشید کرنا چاہتے ہیں تو مائینڈ فلنیس سے بھرپور فائدہ اٹھائیے ۔کیونکہ ایک خوش و خرم اور ہنستی کھیلتی زندگی جینا آپ کاحق ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس حق کو سوائے آپ کے کوئی بھی آپ سے نہ تو چھین سکتاہے اور نہ ہی دے سکتا ہے ۔ہاں آپ کو راستہ ضرور دکھا سکتا ہے ۔جیسے کہ ہم آپ کو سکھانے جارہے ہیں ۔
مائینڈ فلنیس لمحہ موجود (Present)میں جینے کا فن۔

(جاری ہے)
تحریر: شاہینہ جمیل

[:]
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ فُلنیس – 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 6  ایکسپرٹ اپنے مریضوں کو مائینڈفلنیس ...

عادت بدلو، زندگی بدلو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں ایک  امیر اور ایک غریب میں کیا فرق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے